UrduPoint:
2026-07-24@07:54:28 GMT

بھارت نے پاکستان سے درآمدات پر پابندی عائد کر دی

اشاعت کی تاریخ: 3rd, May 2025 GMT

بھارت نے پاکستان سے درآمدات پر پابندی عائد کر دی

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 03 مئی 2025ء) بھارتی ڈائریکٹوریٹ جنرل آف فارن ٹریڈ نے کی طرف سے جاری کیے گئے ایک علامیے میں کہا گیا، پاکستان سے درآمد ہونے والی اور پاکستان کے راستے آنے والی اشیاء پر ''یہ پابندی قومی سلامتی اور عوامی مفاد کے پیشِ نظر عائد کی گئی ہے۔‘‘

گزشتہ ہفتے بھارتی زیر انتظام کشمیر کے علاقے پہلگام میں مشتبہ عسکریت پسندوں کے حملے میں کم از کم 26 سیاح ہلاک ہو گئے تھے۔

اس پیش رفت کے بعد دونوں ایٹمی طاقتوں کے درمیان کشیدہ سفارتی تعلقات میں ایک بار پھر شدت آ گئی ہے۔

مسلمان اکثریتی ہمالیائی خطے کشمیر پر بھارت اور پاکستان دونوں ملک ہی دعویٰ رکھتے ہیں اور یہ علاقہ کئی جنگوں، بغاوتوں اور سفارتی کشیدگیوں کا مرکز رہا ہے۔

(جاری ہے)

بھارت نے اس حملے میں پاکستان کے ملوث ہونے کا الزام عائد کیا ہے، جسے اسلام آباد نے مسترد کر دیا ہے۔

پاکستان کا کہنا ہے کہ اُسے ''مصدقہ انٹیلیجنس رپورٹس‘‘ ملی ہیں کہ بھارت فوجی کارروائی کا ارادہ رکھتا ہے۔

جوابی اقدام کے طور پر پاکستان نے بھی کئی اقدامات کا اعلان کیا ہے، جن میں تمام سرحدی تجارت معطل کرنا، اپنی فضائی حدود بھارتی طیاروں کے لیے بند کرنا اور بھارتی سفارت کاروں کو ملک بدر کرنا شامل ہے۔

پاکستان نے خبردار کیا ہے کہ اگر بھارت نے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستان کا پانی روکنے کی کوشش کی، تو اسے جنگی اقدام تصور کیا جائے گا۔

گزشتہ چند برسوں میں دونوں ممالک کے درمیان تجارت پہلے ہی کم ہوتی جا رہی تھی۔

پاکستان کی سفارتی کوششیں

پاکستانی وزیرِاعظم شہباز شریف نے جمعہ کے روز خلیجی اتحادی ممالک کے سفیروں سے ملاقاتیں کیں تاکہ متنازعہ کشمیر کے علاقے میں سیاحوں پر ہونے والے مہلک حملے کے بعد بھارت کے ساتھ کشیدگی کو کم کیا جا سکے۔

سعودی عرب، کویت اور متحدہ عرب امارات کے سفیروں سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتوں میں شہباز شریف نے انہیں 22 اپریل کو بھارتی زیرِ انتظام کشمیر کے علاقے پہلگام میں ہونے والے حملے پر اسلام آباد کے مؤقف سے آگاہ کیا۔

عالمی برادری نے دونوں ممالک پر تحمل اور کشیدگی میں کمی کی اپیل کی ہے۔

پاکستان کے وزیر اعظم ہاؤس کی جانب سے جمعہ کے روز جاری بیان میں کہا گیا کہ شہباز شریف نے سعودی عرب سمیت دیگر ''برادر ممالک سے اپیل کی ہے کہ وہ بھارت پر زور دیں کہ وہ کشیدگی میں کمی کرے اور خطے میں استحکام کو فروغ دے۔‘‘ اس بیان میں مزید کہا گیا کہ شہباز شریف نے پاکستان کے خطے میں امن و استحکام کے عزم کا اعادہ کیا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے متحدہ عرب امارات کے سفیر حماد عبید ابراہیم سالم الزعابی کو بتایا کہ پاکستان کا سیاحوں پر حملے میں کوئی کردار نہیں اور انہوں نے اس واقعے کی ایک قابل اعتماد، شفاف اور غیر جانبدار بین الاقوامی تحقیقات میں شامل ہونے کی پیشکش بھی کی۔

سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی سے ملاقات میں وزیرِاعظم نے تازہ ترین صورتحال سے آگاہ کیا۔

جواباً سعودی سفیر نے کہا کہ مملکت خطے میں امن و سلامتی کے لیے پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتی ہے۔

پاکستان اور بھارت کے تعلقات ہمیشہ تلخی کا شکار رہے ہیں۔ سن 1947 میں برطانوی نوآبادیاتی حکومت سے آزادی کے بعد سے اب تک دونوں ممالک تین جنگیں لڑ چکے ہیں، جن میں سے دو کشمیر کے مسئلے پر ہوئیں۔

لائن آف کنٹرول پر جھڑپیں جاری

جمعہ کے روز بھارتی فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ پاکستانی افواج کی جانب سے بھارتی زیرِ انتظام کشمیر کے کپواڑہ، بارہمولہ، پونچھ، نوشہرہ اور اکھنور کے علاقوں میں مسلسل آٹھویں رات بلا اشتعال فائرنگ کی گئی، جس کا بھارتی فوج نے جواب دیا۔

پاکستان کی طرف سے اس پر کوئی فوری بیان جاری نہیں کیا گیا۔

تازہ جھڑپوں میں کسی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔ پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں سول سوسائٹی اور مختلف سیاسی جماعتوں کے 200 سے زائد ارکان نے ایک ریلی نکالی اور بھارت کے خلاف اس کے حالیہ اقدامات کی مذمت کی۔

ادارت: امتیاز احمد

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے انتظام کشمیر کے شہباز شریف نے پاکستان کے کہا گیا

پڑھیں:

امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان

نیویارک(نیوز ڈیسک)امریکہ نے “جبری مشقت سے متعلق خدشات کے پیش نظر” پاکستان، بھارت، چین اور یورپی یونین سمیت 60 تجارتی شراکت دار ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریر کے مطابق ان برآمدی محصولات (ٹیرف) کی شرح 10 فیصد سے لے کر 12.5 فیصد تک ہوگی اور یہ جمعہ یعنی آج سے نافذ العمل ہوں گے۔

Today, Ambassador Greer is taking action, at President Trump’s direction, under Section 301 of the Trade Act of 1974 by imposing tariffs on 60 trading partners for their failure to adopt and effectively enforce a prohibition on the importation of goods produced with forced labor.…

— United States Trade Representative (@USTradeRep) July 23, 2026

انہوں نے کہا کہ امریکہ میں جبری مشقت کے خلاف قوانین طویل عرصے سے نافذ ہیں اور اب وقت آ گیا ہے کہ دیگر ممالک بھی اسی طرز کے اقدامات کریں۔

یہ نئے محصولات اس عالمی ڈیوٹی کی جگہ لیں گے جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے رواں سال کے آغاز میں عائد کی گئی تھی اور جس کی مدت اب ختم ہو رہی ہے۔ امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے فروری میں بعض ٹیرف مسترد کیے جانے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے متبادل قانونی راستوں کے ذریعے نئے اقدامات متعارف کروائے ہیں۔

امریکہ کے تجارتی نمائندوں کے دفتر کی جانب سے جاری کیے گئے اعلامیے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا اور ملائیشیا سمیت کئی ممالک پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ چین سمیت دیگر 38 ممالک پر 12.5 فیصد ڈیوٹی لاگو ہوگی۔

یورپی یونین، جاپان اور جنوبی کوریا جیسے ممالک کے لیے ٹیرف کی مجموعی شرح 10 سے 12.5 فیصد کے درمیان رکھی گئی ہے۔

دوسری جانب متاثرہ ممالک نے ان اقدامات پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ جاپان اور آسٹریلیا نے ان ٹیرف کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ آزاد تجارتی معاہدوں کے منافی ہیں۔

امریکی حکام کے مطابق اسٹیل اور ایلومینیم جیسے شعبہ جاتی ٹیرف پہلے سے نافذ ہیں اور ان پر نئے اقدامات کا اطلاق نہیں ہوگا، جبکہ توانائی اور کھاد سمیت بعض اشیا کو استثنا دیا گیا ہے۔

اسلام آباد نے بھی جبری مشقت سے متعلق تحقیقات پر امریکی حکام کو تفصیلی جوابات جمع کرائے ہیں، بلکہ حالیہ تجارتی مذاکرات سے ایک روز قبل بھی مزید وضاحتیں فراہم کی تھیں۔

مزید پڑھیں۔ایران اور عراق کے درمیان دوطرفہ تعاون بڑھانے کے لیے 4 معاہدے

متعلقہ مضامین

  • ماریہ شہباز کیس: وفاقی آئینی عدالت نے نظرثانی درخواست پر اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کر دیے
  • امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری