مقبوضہ کشمیر: بھارتی فوج کا جعلی مقابلہ، مقامی لوگوں نے امیت شاہ کا دعویٰ مسترد کردیا
اشاعت کی تاریخ: 3rd, August 2025 GMT
غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں مقامی شہریوں اور سیاسی تجزیہ کاروں نے بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ کے اس دعوے کو یکسر مسترد کر دیا ہے کہ داچھی گام میں ایک حالیہ فوجی کارروائی کے دوران 3 نوجوانوں کو پہلگام حملے میں ملوث ہونے پر مارا گیا۔
کشمیریوں کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ ایک جعلی مقابلے کا نتیجہ ہے، جس میں بے گناہ نوجوانوں کو ماورائے عدالت قتل کیا گیا۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق، مقامی لوگوں نے امیت شاہ کی جانب سے شہید نوجوانوں کو عسکریت پسند قرار دینے کی کوشش کو جھوٹا اور بے بنیاد قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیے مقبوضہ کشمیر: بھارتی فوج نے جعلی مقابلے میں 3 کشمیری نوجوان شہید کردیے
شہریوں نے کہا کہ بھارتی فوج نے آپریشن سندور میں بری طرح ناکامی کے بعد اپنی خفت مٹانے کے لیے یہ جعلی کارروائی رچائی تاکہ مقبوضہ کشمیر میں ظلم و ستم کو چھپایا جا سکے اور پاکستان کے خلاف پروپیگنڈہ کیا جا سکے۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی قیادت میں مودی حکومت داخلی دباؤ کا سامنا کر رہی ہے، خصوصاً آپریشن سندور کی ناکامی کے بعد اپوزیشن اور کانگریس کی بڑھتی ہوئی تنقید سے بچنے کے لیے ایسے ہتھکنڈے استعمال کیے جا رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں نے اس کارروائی کی ٹائمنگ پر بھی سوالات اٹھائے ہیں، کیونکہ یہ واقعہ بھارتی پارلیمنٹ کے اس اجلاس کے دوران پیش آیا، جہاں پہلگام حملے اور آپریشن سندور پر حکومت کو سخت تنقید کا سامنا ہے۔
یہ بھی پڑھیے مقبوضہ کشمیر، بھارتی فوج نے جعلی مقابلے میں 3 کشمیریوں کو شہید کردیا
کشمیری عوام اور سیاسی تجزیہ نگاروں کا متفقہ مؤقف ہے کہ بھارتی حکومت ایسے جعلی مقابلوں اور جھوٹے دعووں کے ذریعے زمینی حقائق کو مسخ کرنے کی کوشش کر رہی ہے، تاکہ عالمی برادری کی توجہ انسانی حقوق کی پامالیوں سے ہٹائی جا سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ جعلی مقابلہ داچھی گام مقبوضہ کشمیر.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ جعلی مقابلہ داچھی گام بھارتی فوج امیت شاہ
پڑھیں:
ایران-امریکہ جنگ کے درمیان "ریزرو بینک آف انڈیا" نے 12 ارب روپیے کا سونا فروخت کیا، رپورٹ میں دعویٰ
آر بی آئی نے اپریل میں جاری اپنی فاریکس رپورٹ میں بتایا تھا کہ بیرون ملک رکھے گئے اسکے زیادہ تر سونے کے ذخائر بینک آف انگلینڈ اور بینک آف انٹرنیشنل سیٹلمنٹس کے پاس محفوظ ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کا اثر اب ہندوستان کی معیشت پر بھی نظر آنے لگا ہے۔ ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) نے زر مبادلہ کے ذخائر کو مضبوط بنائے رکھنے اور روپئے پر دباؤ کم کرنے کے لئے اپنے سونے کے ذخیرے کا کچھ حصہ فروخت کر دیا ہے۔ بلومبرگ اکنامکس کی ایک رپورٹ کے مطابق 22 مئی کو ختم ہوئے 2 ہفتے کے دوران آر بی آئی نے قریب 12 ارب (تقریباً 1.14 لاکھ کروڑ روپئے) قیمت کا سونا فروخت کیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس دوران مرکزی بینک نے قریب 7.5 ارب ڈالر (713.23 ارب روپئے) کے غیر ملکی کرنسی اثاثے حاصل کئے ہیں۔
بتا دیں کہ ہندوستان دنیا کا تیسرا سب سے بڑا خام تیل درآمد کنندہ ملک ہے۔ ایسے میں مغربی ایشیا میں بڑھتے تنازع کے سبب تیل کی قیمتوں میں تیزی آنے سے بھارت پر اضافی اقتصادی دباؤ پڑ رہا ہے۔ تیل درآمد پر اقتصادی خرچ ہونے سے زر مبادلہ کے ذخائر اور روپئے دونوں پر اثر پڑ سکتا ہے۔ "بلومبرگ اکنامکس" کے سینیئر ہندوستانی ماہر اقتصادیات ابھیشیک گپتا نے بتایا کہ دستیاب اعداد و شمار سے اشارہ ملتا ہے کہ آر بی آئی کے سونے کے ذخائر میں کمی آئی ہے جبکہ سونے پر درآمد ڈیوٹی بڑھنے کی وجہ سے اس کی قیمت میں اضافہ ہونا چاہیئے تھا۔ اسی بنیاد پر اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ ہو سکتا ہے مرکزی بینک نے سونے کی فروخت کی ہو۔
اگر یہ اندازہ درست ثابت ہوتا ہے تو اس کا مطلب ہوگا کہ آر بی آئی نے زر مبادلہ کے ذخائر کو مزید مضبوط اور آسانی سے استعمال کے قابل بنائے رکھنے کے لئے یہ قدم اٹھایا ہے۔ ایسا اس لئے بھی اہم مانا جا رہا ہے کیونکہ ایران بحران اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی سے متعلق رکاوٹوں کے باعث تیل کی سپلائی اور عالمی تجارت پر دباؤ بڑھا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آر بی آئی مستقبل میں بھی موقع ملنے پر زر مبادلہ کے ذخائر بڑھانے کی کوشش کر سکتا ہے، اگر ڈالر کمزور ہوتا ہے، غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوتا ہے یا خام تیل کی قیمتوں میں گراوٹ آتی ہے تو مرکزی بینک مزید زر مبادلہ کے ذخائر حاصل کر سکتا ہے۔
مارچ 2025ء کے آخر تک آر بی آئی کے پاس 880.52 میٹرک ٹن سونا تھا۔ اس میں سے تقریباً 77 فیصد سونا ہندوستان میں ہی رکھا گیا تھا جبکہ 6 ماہ پہلے یہ اندازہ 66 فیصد تھا۔ آر بی آئی نے اپریل میں جاری اپنی فاریکس رپورٹ میں بتایا تھا کہ بیرون ملک رکھے گئے اس کے زیادہ تر سونے کے ذخائر بینک آف انگلینڈ اور بینک آف انٹرنیشنل سیٹلمنٹس کے پاس محفوظ ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ حالیہ سالوں میں آر بی آئی نے سونے کے ذخائر کا بڑا حصہ ہندوستان واپس منگایا ہے۔ اس کے پیچھے ایک وجہ یہ بھی مانی جاتی ہے کہ روس-یوکرین جنگ کے بعد مغربی ممالک کے ذریعہ روس کے غیر ملکی اثاثے منجمد کئے جانے سے کئی ممالک کے مرکزی بینک غیر ممالک میں رکھے ذخیرے کے حوالے سے زیادہ الرٹ ہوگئے ہیں۔