امریکی نشریاتی ادارے وائس آف امریکا (وی او اے) کی نشریات اگلے ہفتے سے بحال ہونے کا امکان ہے۔

غیرملکی میڈیا کے مطابق امریکی عدالت کے فیصلے کے بعد امکان ہے کہ وائس آف امریکا کی نشریات اگلے ہفتے سے بحال ہو جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں ڈونلڈ ٹرمپ نے وائس آف امریکا (VOA) کے ملازمین کو تنخواہ کے ساتھ چھٹی پر کیوں بھیجا؟

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے وائس آف امریکا کی نشریات معطل کردی تھیں، جس کے بعد کنٹریکٹ ملازمین کو فوری فارغ کردیا گیا تھا، جبکہ مستقل ملازمین کو چھٹی پر بھیج دیا گیا تھا۔

وائس آف امریکا نے امریکی صدر کے حکم پر نشریات بند کردی تھیں، تاہم اس فیصلے کو عدالت میں چیلنج کیا گیا تھا، جس کا فیصلہ ملازمین کے حق میں آیا ہے۔

امریکی عدالت کے جج نے گزشتہ مہینے حکم دیا تھا کہ وائس آف امریکا کے تمام ملازمین کو بحال کیا جائے۔ ’عدالت نے ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے وائس آف امریکا اور اس سے منسلک سروسز کو بند کرنے کی کوششوں کو بین الاقوامی نشریاتی ایکٹ کی خلاف ورزی قرار دیا تھا۔‘

اب آزادی صحافت کے عالمی دن کے موقع پر یہ خبر سامنے آئی ہے کہ وائس آف امریکا کی نشریات آئندہ ہفتے سے دوبارہ شروع ہونے کا امکان ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ان کی وائس آف امریکا کے دو صحافیوں سے بات ہوئی ہے جنہوں نے بتایا کہ انہوں نے اپنے ای میل اکاؤنٹس تک دوبارہ رسائی حاصل کرلی ہے، تاہم ابھی تک ادارے کی جانب سے باضابطہ اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

یہ بھی پڑھیں وائس آف امریکا کی بحالی کا عدالتی حکم، ٹرمپ انتظامیہ کا اقدام ’من مانا اور غیر آئینی‘ قرار

یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم کے بعد 15 مارچ سے وائس آف امریکا کی نشریات بند ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews امریکی صدر امریکی نشریاتی ادارہ ڈونلڈ ٹرمپ نشریات معطل وائس آف امریکا وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: امریکی صدر امریکی نشریاتی ادارہ ڈونلڈ ٹرمپ نشریات معطل وائس ا ف امریکا وی نیوز وائس ا ف امریکا کی نشریات ڈونلڈ ٹرمپ ملازمین کو امریکی صدر ہفتے سے

پڑھیں:

ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی

امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔

میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔

ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔

تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔

اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔

ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔

گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔

مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔

 

 

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • بحری جہازوں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ منجمد ایرانی اثاثوں سے کیا جائے گا، ٹرمپ کا بڑا اعلان
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • خیبر پی کے میں بلدیاتی انتخابات 2 مراحل میں ہونے کا امکان 
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی