حماس نے ہمارے 2 اسرائیلی فوجی مار دیے، نیتن یاہو حواس باختہ
اشاعت کی تاریخ: 4th, May 2025 GMT
یمن سے حوثی باغیوں کے اسرائیل کے بین گوریان ایئر پورٹ پر میزائل حملے کے بعد اسرائیلی فوج کو غزہ میں حماس کی سخت کارروائی کا بھی سامنا ہے، غزہ میں حماس کی کارروائی میں مزید 2 اسرائیلی فوجی ہلاک ہوگئے ہیں۔
اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو نے تسلیم کیا ہے کہ غزہ میں حماس اور اسرائیلی فوج کے درمیان شدید لڑائی جاری ہے، رفح میں جاری لڑائی میں مزید 2 اسرائیلی فوجی مارے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیل کے بین گوریون ایئرپورٹ پر حوثیوں کا میزائل حملہ، 6 زخمی
اتوار کے روز یمن کی حوثی باغیوں نے اسرائیل کی بین گوریان ایئر پورٹ پر میزائل حملہ کیا، حوثیوں کے میزائل حملے سے اسرائیلی ایئرپورٹ پر ہونے والی تباہی نے اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو کے اوساں خطا کردیے اور وہ حواس باختہ ہوگئے۔
نیتن یاہو نے میڈیا سے گفتگو کے دوران اعتراف کیا کہ آج حماس سے شدید لڑائی جاری ہے اور مزید 2 اسرائیلی فوجی لڑائی کے دوران مارے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے حماس کا شکریہ کیوں ادا کیا؟
یاد رہے کہ یمن کی حوثی فوج نے اتوار کے روز اسرائیل کے مرکزی ایئرپورٹ (بن گوریون ائیرپورٹ) پر بیلسٹک میزائل داغا، میزائل گرنے کے نتیجے میں ائیر پورٹ کی ایک سڑک اور گاڑی کو نقصان پہنچا اور فضائی آمدورفت عارضی طور پر معطل کر دی گئی، اس میزائل حملے میں 8 افراد زخمی ہوئے۔
اسرائیلی فوج نے تصدیق کی ہے کہ اتوار کی صبح یمن مین حوثی ملیشیا کے زیر قبضہ علاقہ سے فائر کئےگئے میزائل کو روکنے کی متعدد کوششوں کے باوجود اسرائیلی دفاعی نظام اسے تباہ کرنے میں ناکام رہا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news حماس حوثی باغی نیتن یاہو یمن.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: نیتن یاہو اسرائیلی فوجی اسرائیلی فوج نیتن یاہو
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
پاکستان، سعودی عرب، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی مسلسل دراندازی، اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں ہونے والی کارروائیوں اور مسجد کے احاطے میں اسرائیلی پرچم لہرانے کی شدید مذمت کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت سے متعلق اسرائیلی قانون سازی، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مذمتی بیان جاری
8 عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی یہ اشتعال انگیز اور ناقابل قبول کارروائیاں بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
بیان میں اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے اور اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کے تشخص کو نقصان پہنچانے کے لیے جاری منظم اقدامات اور خلاف ورزیوں کی بھی سخت مذمت کی گئی۔
وزرائے خارجہ نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش کو مسترد کرتے ہوئے اس کے تحفظ پر زور دیا جبکہ اس حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35.6 ایکڑ) پر مشتمل رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے اور اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور سے وابستہ یروشلم اوقاف و مسجد اقصیٰ امور ڈائریکٹوریٹ ہی اس مقدس مقام کے انتظام و انصرام اور داخلے کے امور کا واحد مجاز ادارہ ہے۔
مزید پڑھیے: پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مشترکہ بیان، غزہ میں امن کے لیے ٹرمپ کی کوششوں کا خیرمقدم
وزرائے خارجہ نے اسرائیلی حکام کو ان اشتعال انگیز اقدامات کے فوری خاتمے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ بار بار کی جانے والی ایسی خلاف ورزیاں خطے میں کشیدگی، عدم استحکام اور انتہا پسندی کو فروغ دیتی ہیں امن کی بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہیں اور بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیل کی ذمہ داریوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل فوری طور پر ایسی تمام غیر قانونی اور اشتعال انگیز کارروائیاں بند کرے اور مسجد اقصیٰ کی تاریخی و قانونی حیثیت کا مکمل احترام یقینی بنائے۔
????PR No.1️⃣4️⃣0️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣
Joint Statement by Foreign Ministers of the Group of Eight Arab-Islamic States
????⬇️ pic.twitter.com/qZTmgSZM0n
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) June 2, 2026
آٹھوں ممالک نے فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے ان کے جائز اور ناقابل تنسیخ قومی حقوق، بالخصوص حقِ خودارادیت اور 1967 کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔
مزید پڑھیں: غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک اسرائیلی جارحیت پر بول پڑے
بیان میں اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور 2 ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ، دیرپا اور جامع امن کے قیام کے لیے جاری تمام سفارتی کوششوں کی بھی مکمل حمایت کا اظہار کیا گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
8 اسلامی ممالک اسرائیل کی جارحیت مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی