کراچی(نیوز ڈیسک)مفتی طارق مسعود نے کہا ہے کہ مودی کی کھوپڑی خراب ہوگئی ہے، ہم ملکر اسے ٹھیک کردیں گے، افواج پاکستان کے ساتھ کھڑا ہوں۔ کراچی سے آنے والے علمائے کرام کے وفد نے واہگہ بارڈر کا دورہ کیا اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مفتی طارق مسعود نے کہا کہ پہلگام واقعے میں بے گناہ لوگ مارے گئے، پہلگام واقعے کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔ مولانا طارق مسعود کا کہنا تھا کہ پاکستان کا پہلگام واقعے سے کوئی تعلق نہیں، مسئلہ بھارت کے عوام کا نہیں، مودی حکومت کا ہے۔ نھوں نے کہا کہ کراچی سے آیا ہوں، افواج پاکستان کے ساتھ کھڑا ہوں، مودی جنگ کی دھمکیاں دے رہا ہے، پاکستان پر جھوٹے الزام لگارہا ہے، پاکستان اور بھارت میں کسی تیسرے ملک کو ثالثی کا کردار ادا کرنا چاہیے مفتی طارق مسعود نے کہا کہ اپنے ملک کے دفاع کےلیے افواج پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں، ہم جنگ کی خواہش نہیں رکھتے لیکن اگر مودی کو شوق ہے تو آزما لے۔
مزیدپڑھیں:کیا شوگر کے شکار مردوں کے لیے ہائی بلڈ پریشر جان لیوا ہوسکتا ہے؟

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: مفتی طارق مسعود نے کہا

پڑھیں:

مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق

بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔

واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • بدقسمت خواجہ سرا۔۔۔؟
  • نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق