Islam Times:
2026-06-03@00:02:06 GMT

قاہرہ تل ابیب تعلقات میں بڑھتی کشیدگی

اشاعت کی تاریخ: 4th, May 2025 GMT

قاہرہ تل ابیب تعلقات میں بڑھتی کشیدگی

اسلام ٹائمز: اکتوبر 2023ء میں شروع ہونے والی غزہ جنگ نے علاقائی حالات کو پیچیدہ کر دیا ہے۔ یہ جنگ مصر کی مشرقی سرحدوں پر ایک بار پھر ناامنی اور عدم استحکام کا باعث بنی ہے۔ غزہ جنگ کے آغاز سے اب تک تقریباً 1 ہزار فلسطینی رفح کراسنگ کے ذریعے مصر میں داخل ہوئے ہیں۔ ان میں سے بعض نے تو ایجنٹس کو 8 سے 10 ہزار ڈالر دے کر وہاں سے نجات حاصل کی ہے۔ مصر شدید اقتصادی مشکلات کا شکار ہے لہذا وہ غیر ملکی مہاجرین کی موجودگی برداشت نہیں کر سکتا۔ لہذا غزہ جنگ کے آغاز سے ہی مصر حکومت نے سرکاری طور پر اعلان کر دیا تھا کہ وہ کسی فلسطینی کو اپنے ملک میں داخل نہیں ہونے دے گا۔ عام طور پر قاہرہ 45 روزہ ویزا جاری کرتا ہے اور یہ مدت ختم ہو جانے کے بعد آنے والے فلسطینیوں کو غیر قانونی قرار دے دیا جاتا ہے۔ تحریر: علی حریت
 
مصر اور اسرائیل نے 17 ستمبر 1978ء کے دن کیمپ ڈیوڈ معاہدے پر دستخط کیے تھے جس کے نتیجے میں دونوں کے درمیان موجود سرحدی تنازعات حل ہو گئے۔ اس معاہدے میں دونوں نے ایک دوسرے پر حملہ نہ کرنے کا عہد بھی کیا تھا۔ اسی طرح اس معاہدے میں سویز کینال میں کشتی رانی جاری رہنے کی یقین دہانی کروائی گئی تھی اور دونوں کے درمیان سفارتی اور اقتصادی تعلقات بھی بحال ہو گئے تھے۔ مصر اور صیہونی رژیم کے درمیان چار جنگوں کے بعد اس معاہدے نے اچانک تمام اختلافات کا خاتمہ کر دیا۔ اس کے فوراً بعد مصر کو سازباز کرنے والا ملک قرار دے دیا گیا اور وہ عرب دنیا میں گوشہ نشینی کا شکار ہو گیا۔ لیکن امریکہ نے مصر کے اس اقدام کا خیر مقدم کیا اور سالانہ تقریباً ڈیڑھ ارب ڈالر کی مالی امداد فراہم کرنے کے علاوہ فوجی امداد بھی مہیا کی۔ اسی طرح واشنگٹن نے قاہرہ کے قرضے بھی معاف کر دیے۔
 
مصر اور مقبوضہ فلسطین کے درمیان 245 کلومیٹر طویل مشترکہ سرحد پائی جاتی ہے جو صحرائے سینا کے شمال میں واقع سرحدی شہر رفح سے لے کر اس کے جنوب میں طابا نامی شہر تک پھیلی ہوئی ہے۔ قاہرہ نے نہ چاہتے ہوئے تل ابیب سے دوستی برداشت کی ہے اور اپنے پرانی خونی دشمن سے ہمسائیگی کے قوانین کی پابندی کی ہے۔ صدر انور سادات کے زمانے میں مصر نے حتی صحرائے سینا کے مقبوضہ علاقے کو آزاد کروانے کے لیے غیر متوقع فوجی کاروائی بھی انجام دی تھی جو "جنگ رمضان" کے نام سے جانی جاتی ہے۔ انور سادات 1967ء کی چھ روزہ جنگ میں ذلت آمیز شکست کا ازالہ کرنا چاہتے تھے۔ اس جنگ میں پہلے دن ہی مصری فوج نے صیہونی فورسز کو پیچھے دھکیل دیا۔ لیکن قسمت نے قاہرہ کا ساتھ نہ دیا اور اس جنگ میں اسے شکست ہو گئی۔ ایسی شکست جس نے کیمپ ڈیوڈ معاہدے کا راستہ ہموار کر دیا۔
 
اکتوبر 2023ء میں شروع ہونے والی غزہ جنگ نے علاقائی حالات کو پیچیدہ کر دیا ہے۔ یہ جنگ مصر کی مشرقی سرحدوں پر ایک بار پھر ناامنی اور عدم استحکام کا باعث بنی ہے۔ غزہ جنگ کے آغاز سے اب تک تقریباً 1 ہزار فلسطینی رفح کراسنگ کے ذریعے مصر میں داخل ہوئے ہیں۔ ان میں سے بعض نے تو ایجنٹس کو 8 سے 10 ہزار ڈالر دے کر وہاں سے نجات حاصل کی ہے۔ مصر شدید اقتصادی مشکلات کا شکار ہے لہذا وہ غیر ملکی مہاجرین کی موجودگی برداشت نہیں کر سکتا۔ لہذا غزہ جنگ کے آغاز سے ہی مصر حکومت نے سرکاری طور پر اعلان کر دیا تھا کہ وہ کسی فلسطینی کو اپنے ملک میں داخل نہیں ہونے دے گا۔ عام طور پر قاہرہ 45 روزہ ویزا جاری کرتا ہے اور یہ مدت ختم ہو جانے کے بعد آنے والے فلسطینیوں کو غیر قانونی قرار دے دیا جاتا ہے۔
 
اس سال کے آغاز میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ میں مقیم فلسطینیوں کو مصر اور اردن منتقل کر دینے کا ارادہ ظاہر کیا تھا تاکہ غزہ پر امریکہ کا کنٹرول قائم ہو سکے۔ اسرائیل نے بھی یہ پیشکش قبول کر لی تھی۔ لیکن مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی نے فلسطینی تحریک آزادی کے قانونی ہونے اور مسئلہ فلسطین کے دو ریاستی حل پر زور دیتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ قاہرہ غزہ میں مقیم فلسطینیوں کی جبری جلاوطنی کے خلاف ہے اور اسے ایک "غیر منصفانہ اقدام" سمجھتا ہے جو مصر کی قومی سلامتی کے لیے خطرہ ثابت ہو سکتا ہے۔ انہوں نے نامعقول اور تسلط پسندانہ اقدامات نیز فلسطینی شہریوں کی جان کی پرواہ نہ کرنے پر اسرائیل کی سرزنش بھی کی۔ فروری میں عرب لیگ کے ہنگامی اجلاس میں بھی مصر نے ایک بار پھر غزہ میں مقیم فلسطینیوں کی دیگر عرب ممالک منتقلی کی شدید مخالفت کا اظہار کیا۔
 
مصر نے گذشتہ چند ہفتوں سے تیسری فوج مضبوط بنا کر صحرائے سینا میں فوج تعینات کر رکھی ہے اور ہائی ریڈ الرٹ دے کر فوج کو حکم دیا ہے کہ وہ غزہ سے فلسطینیوں کی ہر قسم کی مصر منتقلی کی روک تھام کریں۔ مصر کے وزیر دفاع لیفٹیننٹ جنرل عبدالمجید صقر نے بھی اس بات پر زور دیا ہے کہ مصر آرمی مقبوضہ فلسطین سے درپیش ہر قسم کے خطرے سے نمٹنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ تقریباً ایک ہفتہ پہلے مصر کے سابق اعلی سطحی فوجی کمانڈر سمیر فرج نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ مصر نے HQ9B نامی ایئر ڈیفنس سسٹم بھی چین سے خرید کر فوج کو فراہم کر دیا ہے۔ یہ سسٹم روس کے ایس 400 میزائل ڈیفنس سسٹم کے برابر جانا جاتا ہے اور 300 کلومیٹر کے اندر اندر ہر فوجی پرندے کو مار گرانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اسی طرح بعض خبروں کے مطابق مصر نے چین سے 20 جی جنگی طیارے بھی خریدے ہیں۔
 
تقریباً دو ہفتے سے مصر اور چین نے وادی ابوالریش ایئربیس پر "2025 تہذیبی عقاب" نامی جنگی مشقیں شروع کر رکھی ہیں جن کا مقصد فضائی جنگ کے لیے تیاری کرنا ہے۔ ان مشقوں میں 10 جی جنگی طیارے بھی مصر کے آسمان پر دکھائی دیے ہیں۔ دوسری طرف اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے فاش کیا ہے کہ صیہونی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو مصر کی زمینی فوج کی سرگرمیوں سے شدید پریشان ہے اور قاہرہ کے اہداف پر تشویش پائی جاتی ہے۔ تل ابیب اس سے پہلے صحرائے سینا میں اپنے بقول غیر قانونی فوجی ڈھانچوں پر اعتراض بھی کر چکا ہے۔ اس کا دعوی ہے کہ کیمپ ڈیوڈ معاہدے کی روشنی میں صحرائے سینا کا علاقہ فوجی سرگرمیوں سے عاری ہونا چاہیے۔ چند ہفتے پہلے نیتن یاہو نے ٹرمپ سے ملاقات میں بھی صحرائے سینا میں مصر کی فوجی سرگرمیوں پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: غزہ جنگ کے آغاز سے کے درمیان مصر اور کیا تھا ہے اور کر دیا دیا ہے مصر کی کے لیے مصر کے

پڑھیں:

علاقائی کشیدگی اور بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانے کی پالیسی

اسلام ٹائمز: موجودہ پیش رفت کو دو بنیادی زاویوں سے سمجھا جا سکتا ہے، نمبر ایک سکیورٹی ریاست سے نظریاتی مخالف ریاست کی طرف منتقلی اور دوسرا علاقائی طور پر کشیدہ حالات کو سکیورٹی کنٹرول کے فروغ کے لیے استعمال کرنا۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق بحرینی سرکاری بیانیہ اب مخصوص افراد کے خلاف قانونی کارروائی سے آگے بڑھ کر ایک مذہبی نظریے اور مرجعیت (ولایتِ فقیہ) کو بذاتِ خود خطرہ قرار دینے کی سمت جا رہا ہے۔ اس تبدیلی کے نتیجے میں شیعہ شہریوں کے ایک وسیع طبقے کو ممکنہ خطرے کے منصوبے کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ ان کے نزدیک یہ رجحان ایک ایسی ریاست کی علامت ہے جو محض سیاسی مخالفین کا تعاقب کرنے کے بجائے ایک مخصوص مذہبی تعبیر کو قابلِ قبول قرار دیتی ہے اور اس سے ہٹ کر ہر نظریے کو جرم تصور کرتی ہے۔ تحریر: عبداللہ البحرانی

مملکتِ بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانے کے اقدامات میں نمایاں شدت آ گئی ہے، جو وسیع پیمانے پر گرفتاریوں، شہریت کی منسوخی اور مذہبی شعائر پر پابندیوں کی صورت میں ظاہر ہو رہی ہے۔ مرآۃ البحرین کے حوالے سے عبداللہ البحرانی نے لکھا کہ یہ پیش رفت ایک ایسے حساس علاقائی ماحول میں رونما ہو رہی ہے جہاں داخلی سلامتی کے خدشات بدلتے ہوئے علاقائی اتحادوں کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں، خصوصاً اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی معمول سازی اور ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بعد۔ اس رپورٹ کا مقصد سرکاری بیانات، انسانی حقوق کے اداروں کے ردِعمل اور سرکاری مؤقف کے تقابلی جائزے کے ذریعے اس مہم کے سیاسی اور قانونی پہلوؤں کا تجزیہ کرنا ہے۔

تاریخی اور سیاسی پس منظر:
انہوں نے لکھا کہ بحرین میں حکومت اور شیعہ اکثریتی آبادی، جو ملک کی اکثریتی آبادی پر مشتمل ہے، ان کے درمیان کشیدگی ایک طویل عرصے سے موجود ہے۔ اس کشیدگی کی جڑیں سیاسی نمائندگی، اصلاحات کے مطالبات اور امتیازی سلوک کے الزامات میں پیوست ہیں۔ یہ تناؤ خاص طور پر 2011ء کے عوامی احتجاجی مظاہروں کے بعد بڑھ گیا، جب احتجاجی تحریک کو سخت سکیورٹی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑا اور شیعہ کارکنان اور علمائے دین کو نمایاں طور پر نشانہ بنایا گیا۔

حالیہ پیش رفت، مئی 2026 کی مہم:
البحرانی کے مطابق مئی 2026 کے آغاز میں بحرین کی وزارتِ داخلہ نے اعلان کیا کہ ایران کے خلاف جنگ کی مخالفت کرنے والے بحرینی شہریوں کے ایک گروہ سے متعلق کارروائی کی گئی ہے اور 41 افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ان افراد پر جارحیت کا جواب دینے کے حوالے سے ایران کے مؤقف سے ہمدردی کا الزام عائد کیا گیا۔ یہ اعلان بحرین کے فرمانروا شاہ حمد بن عیسیٰ آل خلیفہ کے اپریل 2026 کے اواخر میں دیے گئے اس بیان کے فوراً بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ بحرینی شہریت کوئی ایسا کاغذ نہیں جو محض عطا کر دیا جائے، بلکہ یہ ایک عہد و پیمان ہے، اور جو اس عہد کو توڑے گا وہ اپنے ہاتھوں سے اپنے حق کو ساقط کر دے گا۔ اس بیان کو شہریت کی منسوخی کی دھمکی کے طور پر دیکھا گیا۔ بعد ازاں مئی 2026 کے آغاز میں حکومت نے 69 افراد کی شہریت منسوخ کرنے کے فیصلے جاری کیے، جن میں بعض کے اہلِ خانہ بھی شامل تھے۔ اسی طرح پانچ افراد کو عمر قید اور مزید 24 افراد کو پانچ سے دس سال تک قید کی سزائیں سنائی گئیں۔ ان تمام افراد پر ایران کے ردِعمل کی حمایت یا تائید سے متعلق الزامات عائد کیے گئے تھے۔

مذہبی آزادیوں اور انسانی حقوق پر پابندیاں:
البحرانی کے مطابق یہ مہم صرف سکیورٹی پہلو تک محدود نہیں رہی بلکہ اس نے مذہبی آزادی اور آزادیِ عقیدہ کو بھی متاثر کیا ہے۔ تنظیم Americans for Democracy & Human Rights in Bahrain (ADHRB) نے مارچ 2026 میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 61ویں اجلاس کے دوران بحرین میں شیعہ مذہبی رسومات پر بڑھتی ہوئی پابندیوں کی مذمت کی۔ تنظیم نے کعبہ کے ماڈل اور دیگر مذہبی علامات کو ہٹانے، نیز المعامیر گاؤں میں مذہبی تقریبات میں شرکت کرنے والوں کی طلبی اور گرفتاریوں کی نشاندہی کی۔ انسانی حقوق کی رپورٹس کے مطابق یہ اقدامات کوئی نئی بات نہیں بلکہ 2011ء سے شیعہ اکثریتی آبادی کے حقوق پر جاری دباؤ کا تسلسل ہیں، جن میں مساجد کی بندش، نمازِ جمعہ پر پابندیاں اور مذہبی مناسبات کے انعقاد میں رکاوٹیں شامل ہیں۔

سیاسی اور قانونی پہلو:
البحرانی کا کہنا ہے کہ موجودہ پیش رفت کو دو بنیادی زاویوں سے سمجھا جا سکتا ہے، نمبر ایک سکیورٹی ریاست سے نظریاتی مخالف ریاست کی طرف منتقلی اور دوسرا علاقائی طور پر کشیدہ حالات کو سکیورٹی کنٹرول کے فروغ کے لیے استعمال کرنا۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق بحرینی سرکاری بیانیہ اب مخصوص افراد کے خلاف قانونی کارروائی سے آگے بڑھ کر ایک مذہبی نظریے اور مرجعیت (ولایتِ فقیہ) کو بذاتِ خود خطرہ قرار دینے کی سمت جا رہا ہے۔ اس تبدیلی کے نتیجے میں شیعہ شہریوں کے ایک وسیع طبقے کو ممکنہ خطرے کے منصوبے کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ ان کے نزدیک یہ رجحان ایک ایسی ریاست کی علامت ہے جو محض سیاسی مخالفین کا تعاقب کرنے کے بجائے ایک مخصوص مذہبی تعبیر کو قابلِ قبول قرار دیتی ہے اور اس سے ہٹ کر ہر نظریے کو جرم تصور کرتی ہے۔

علاقائی حالات سے فائدہ اٹھانے کی عوام دشمن پالیسی:
البحرانی نے مزید لکھا کہ یہ داخلی مہم خطے میں رونما ہونے والی بڑی تبدیلیوں کے ساتھ جڑی ہوئی ہے، خصوصاً امریکہ اور اسرائیل ایک جانب اور ایران دوسری جانب بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں، جو فروری 2026 میں مسلح تصادم تک جا پہنچی۔ ان کے مطابق بحرینی حکومت اس ماحول کو داخلی سکیورٹی کنٹرول مضبوط کرنے کے لیے استعمال کر رہی ہے اور ایران کے حامی سمجھے جانے والے کسی بھی عوامی یا مذہبی رجحان کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے رہی ہے۔ یہ طرزِ عمل ایک نئی علاقائی سکیورٹی حکمتِ عملی کا حصہ معلوم ہوتا ہے جس کی بنیاد اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی معمول سازی، ایران کے ساتھ سیاسی و سکیورٹی مخالفت اور اس مؤقف سے اختلاف رکھنے والی عوامی یا مذہبی سرگرمیوں کو جرم قرار دینے پر رکھی گئی ہے۔

چند تجاویز:
البحرانی کے مطابق دہشت گردی سے نمٹنے یا بیرونی فریقوں سے تعلقات کے نام پر بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانا انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں، خصوصاً مذہبی آزادی، آزادیِ عقیدہ اور حقِ شہریت کی صریح خلاف ورزی ہے۔ مذہبی شناخت کو سکیورٹی خطرے سے جوڑنے کا عمل خوف اور عدم استحکام کی فضا پیدا کرتا ہے اور بحرینی معاشرے کے سماجی تانے بانے کے لیے خطرہ بن جاتا ہے۔ البحرانی نے سفارشات پیش کی ہیں کہ من مانی گرفتاریوں اور شہریت کی منسوخی کا فوری خاتمہ کیا جائے، جن شہریوں کی شہریت منسوخ کی گئی ہے، انہیں ان کا حق واپس دیا جائے، مذہبی آزادی اور آزادیِ عقیدہ کا مکمل احترام کیا جائے، شیعہ مذہبی شعائر اور رسومات پر عائد پابندیاں ختم کی جائیں، بحرین اپنے بین الاقوامی انسانی حقوق کے معاہدوں اور ذمہ داریوں کی پابندی کرے، معاشرے کے تمام طبقات کی شمولیت سے ایک جامع قومی مکالمہ شروع کیا جائے تاکہ کشیدگی کے اسباب کا جائزہ لے کر قومی مفاہمت کی راہ ہموار کی جا سکے، مضمون کے اختتام پر البحرانی نے زور دیا کہ پائیدار استحکام اور قومی یکجہتی کے لیے جامع اور بامعنی قومی مذاکرات ناگزیر ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • علاقائی کشیدگی اور بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانے کی پالیسی
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان