کراچی الیکٹرک سپلائی کمپنی (کے الیکٹرک) نے بجلی کے بل کا نیا ڈیزائن متعارف کرایا ہے جس کا مقصد صارفین کو بجلی کے استعمال، ادائیگیوں اور دیگر تفصیلات کا واضح خلاصہ ایک ہی جگہ پر فراہم کرنا ہے۔ کمپنی کے مطابق اس نئے لے آؤٹ کے تحت تمام بل آئندہ جاری کیے جائیں گے، تاہم بلنگ کے نرخ، زمرہ جات یا سلیب میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔

ترجمان کے الیکٹرک کا کہنا ہے کہ اس وقت جو ٹیرف رائج ہے، وہ حکومتِ پاکستان کی جانب سے جولائی 2025 میں جاری کردہ ہے اور ملک بھر کی تمام ڈسٹری بیوشن کمپنیوں پر یکساں طور پر لاگو ہوتا ہے۔

نئے بل کا ڈیزائن کے الیکٹرک کی نئی صارف دوست پالیسی کا حصہ ہے، جس کے ذریعے بجلی کے استعمال اور اس پر آنے والے اخراجات کو واضح، شفاف اور باآسانی سمجھا جا سکنے والا بنایا گیا ہے۔ یہ نیا لے آؤٹ مختلف صارف گروپس سے مشاورت کے بعد ترتیب دیا گیا ہے۔

بل کی نمایاں خصوصیات میں تمام مالی حسابات کا ایک ہی صفحے پر خلاصہ، اہم معلومات و اعلانات کے لیے مخصوص خانہ، بجلی کے نرخ، ٹیکس کی تفصیلات اور صارف کی بنیادی معلومات جیسے کہ کنیکٹڈ لوڈ، اکاؤنٹ نمبر اور سیکیورٹی ڈپازٹ شامل ہیں۔

بل میں ’پیغام بورڈ‘ کا نیا فیچر بھی شامل کیا گیا ہے، جو صارفین کو ان کے اکاؤنٹ سے متعلق ضروری معلومات، حکومتی احکامات یا ٹیرف میں تبدیلیوں سے بروقت آگاہ کرےگا۔

ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ نئے ڈیزائن کے تحت بل کے ساتھ علیحدہ فلائرز کی ضرورت کم ہوگئی ہے، کیونکہ ماضی میں دی جانے والی اضافی معلومات اب بل کے پچھلے صفحے پر ہی درج کی گئی ہیں۔ اس اقدام سے نہ صرف ماحولیاتی تحفظ کو فروغ ملے گا بلکہ نیٹ میٹرنگ، اسمارٹ میٹر اپڈیٹس اور دیگر سروس معلومات بھی باآسانی دستیاب ہوں گی۔

کے الیکٹرک کی سینیئر ڈائریکٹر اور صارفین کے تجربات کی سربراہ نور افشاں نے اس موقع پر کہاکہ نیا بل ڈیزائن ادارے کے شفاف رابطے اور صارفین کے ساتھ مؤثر رابطہ کاری کے عزم کی جھلک ہے، جو صارفین کی رائے کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا گیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews بجلی بل صارف دوست پالیسی کے الیکٹرک نیا ڈیزائن متعارف نیا لے آؤٹ وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بجلی بل صارف دوست پالیسی کے الیکٹرک نیا ڈیزائن متعارف نیا لے ا ؤٹ وی نیوز کے الیکٹرک بجلی کے گیا ہے

پڑھیں:

حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وزیراعظم کے اپنا گھر پروگرام کے تحت اپنا ذاتی گھر حاصل کرنے کے خواہشمند شہریوں کے لیے بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ پروگرام کے تحت کمرشل بینک اب تک 160 ارب روپے مالیت کے ہاؤسنگ قرضے منظور کر چکے ہیں جبکہ کامیاب درخواست گزاروں کو قرضوں کی فراہمی کا عمل بھی تیزی سے جاری ہے۔

یہ بات وزیر خزانہ کے مشیر عدنان پاشا نے کراچی میں منعقدہ فرسٹ انٹرنیشنل انشورنس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتائی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا اپنا گھر پروگرام ملک میں تقریباً ایک کروڑ (10 ملین) گھروں کی کمی کو پورا کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے اور اس کے ذریعے کم آمدنی والے خاندانوں کو رعایتی شرائط پر اپنے گھر کا مالک بننے کا موقع فراہم کیا جا رہا ہے۔

عدنان پاشا نے بتایا کہ اس اسکیم کے تحت شہریوں کو صرف 5 فیصد رعایتی مارک اپ پر ہاؤسنگ قرض فراہم کیا جا رہا ہے جبکہ وزارت خزانہ اس منصوبے میں شامل بینکوں کے ممکنہ قرض نقصان کا 10 فیصد تک بوجھ خود برداشت کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ حکومت پہلے 10 سال تک مارک اپ سبسڈی بھی فراہم کر رہی ہے تاکہ ہاؤسنگ فنانس زیادہ سے زیادہ سستا اور عوام کی پہنچ میں رہ سکے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ مستحق خاندان اس سہولت سے فائدہ اٹھائیں، جس سے نہ صرف رہائشی مسائل میں کمی آئے گی بلکہ تعمیراتی شعبے، سیمنٹ، اسٹیل، ٹائلز، الیکٹریکل مصنوعات اور دیگر متعلقہ صنعتوں میں بھی معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔

اس موقع پر عدنان پاشا نے حکومت کے الیکٹرک موٹرسائیکل پروگرام پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت آئندہ برسوں میں 20 لاکھ الیکٹرک موٹرسائیکلیں متعارف کرانے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں تقریباً 30 لاکھ رجسٹرڈ موٹرسائیکلیں ہر سال قریب 8 ارب ڈالر مالیت کا درآمدی پٹرول استعمال کرتی ہیں، جس سے نہ صرف قیمتی زرمبادلہ خرچ ہوتا ہے بلکہ ماحولیاتی آلودگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت شہریوں کو الیکٹرک بائیکس کی خریداری پر سبسڈی اور بلاسود فنانسنگ فراہم کر رہی ہے تاکہ ایندھن پر انحصار کم کیا جا سکے، تاہم ملک میں الیکٹرک بائیکس کی پیداوار اور سپلائی کے مسائل اب بھی موجود ہیں، جنہیں دور کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

عدنان پاشا نے زرعی شعبے کے حوالے سے بتایا کہ حکومت نے حال ہی میں زرخیزی اسکیم بھی متعارف کرائی ہے جس کے تحت 21 بینکوں پاکستان بینکس ایسوسی ایشن اور سپارکو کے تعاون سے کسانوں کو ڈیجیٹل زرعی قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے میں سیٹلائٹ مانیٹرنگ اور ریئل ٹائم ڈیٹا کے ذریعے قرضوں کے استعمال کی نگرانی کی جائے گی تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے اور زرعی پیداوار میں اضافہ ہو۔

حکومتی حکام کے مطابق اپنا گھر پروگرام اور دیگر مالیاتی اسکیموں کا مقصد کم آمدنی والے طبقات کو سہولت فراہم کرنے معیشت کو متحرک کرنے، تعمیراتی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور ملک میں پائیدار ترقی کی راہ ہموار کرنا ہے۔

مزید پڑھیں۔سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ

متعلقہ مضامین

  • امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے سیکیورٹی اہلکار کے خلاف تحقیقات شروع، کون سی خفیہ معلومات افشا کی؟
  • بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی جانب سے ایک ماہ میں47ارب81کروڑ روپے کی اووربلنگ کا انکشاف
  • حساس معلومات لیک ہونے کا معاملہ، جے ڈی وینس کے قریبی سکیورٹی اہلکار کے خلاف تحقیقات
  • گل پلازہ انکوائری رپورٹ منظرِ عام پر نہ لانے کا فیصلہ، شفافیت اور تفتیشی عمل پر نئی بحث
  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • صرف 10 لاکھ روپے میں منی الیکٹرک کار، کیا یہ واقعی ممکن ہے؟
  • پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس