صدر مملکت سے چینی سفیر کی ملاقات، پاک بھارت صورتحال پر گفتگو
اشاعت کی تاریخ: 5th, May 2025 GMT
اسلام آباد:
پاکستان میں چین کے سفیر چیانگ زئے ڈونگ کی ایوان صدر میں صدر آصف علی زرداری سے ملاقات ہوئی جس میں دو طرفہ اہمیت کے امور، خاص طور پر پہلگام واقعے کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان موجودہ صورتحال پر گفتگو کی گئی۔
صدر مملکت آصف علی زرداری نے بھارتی حکومت کے حالیہ غیر ذمہ دارانہ اور جارحانہ بیانات پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے علاقائی امن و استحکام کو خطرہ لاحق ہے۔
چینی سفیر نے چین اور پاکستان کے درمیان پائیدار اور آزمودہ دوستی کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک ’’آہنی برادر‘‘ ہیں، ہمیشہ مشکل وقت میں ایک دوسرے کا ساتھ دیا۔
چینی سفیر نے پاکستان کے نقطہ نظر کو چین کے ساتھ شیئر کرنے پر صدر مملکت کا شکریہ ادا کیا۔
چیانگ زئے ڈونگ نے کہا کہ چین جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کی دونوں ممالک کی مشترکہ خواہش کے حصول کے لیے ہمیشہ پاکستان کی حمایت کرے گا۔
صدر مملکت نے مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دینے کے لیے چینی حکومت کی مسلسل حمایت کو سراہا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: صدر مملکت
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔