گورنر خیبرپختونخوا سے اکاؤنٹنٹ جنرل خیبر پختونخوا کی گورنر ہاوس میں ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 5th, May 2025 GMT
پشاور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 05 مئی2025ء) گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی سے اکاؤنٹنٹ جنرل خیبر پختونخوا نصیرالدین سرور کی گورنر ہاوس میں ملاقات ،ملاقات میں اکاؤنٹنٹ جنرل نے گورنر کو ادارہ کی کارکردگی سے متعلق آگاہ کیا ،ملاقات میں مالی امور، پبلک فنڈز کے درست و شفاف استعمال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
(جاری ہے)
اکاؤنٹنٹ جنرل کے ماتحت صوبہ بھر کے زیلی دفاتر میں فنڈز کے شفاف استعمال کیلئے جدت و نئے نظام متعارف کرانے سے متعلق بھی گفتگو کیا گیا۔
ملاقات میں بوگس چیک، فنڈز کے غیر قانونی طریقہ سے استعمال کو روکنے کیلئے اکاؤنٹنٹ جنرل آفس کی پیشہ ورانہ استعداد کے امور بھی زیر بحث رہے۔اس موقع پر گورنر خیبرپختونخوا فیصل کر یم کندی نے کہا کہ صوبہ میں بہترین طرز حکمرانی کیلئے فنڈز کا شفاف استعمال یقینی بنانا ہو گا، مالی امور میں شفافیت سے متعلق اکاؤنٹنٹ جنرل آفس کا کردار اہمیت کا حامل ہے۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے اکاؤنٹنٹ جنرل
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔