کراچی/
اسلام آباد:

کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹرز(سی پی این ای)کے سالانہ انتخابات برائے سال2025-26میں روزنامہ دنیا کے کاظم خان صدر اور ڈیلی پاک کے غلام نبی چانڈیو بلامقابلہ سیکریٹری جنرل منتخب ہوئے۔

 جبکہ اسی طرح سینئر نائب صدر کیلیے روزنامہ ایکسپریس کے  ایاز خان، ڈپٹی سیکریٹری جنرل کے عہدے پر روزنامہ غریب فیصل آباد کے تنویر شوکت، فنانس سیکریٹری حامد حسین عابدی، انفارمیشن سیکریٹری ضیا تنولی، نائب صدور میں قاضی اسد عابد، عدنان ظفر، یحییٰ خان سدوزئی، میاں حسن احمد، منیر احمد بلوچ، جوائنٹ سیکریٹریز میں طاہر فاروق، منزہ سہام، رافع نیازی، عارف بلوچ، وقاص طارق فاروق کا انتخاب کیا گیا۔

 اسٹینڈنگ کمیٹی کے بلا مقابلہ منتخب ہونے والے دیگر اراکین میں ڈاکٹر جبار خٹک، اکرام سہگل، اکمل چوہان ، بابر نظامی، مقصود یوسفی، شیر محمد کھاوڑ، سردار محمد سراج ، مدثر اقبال، محمد اویس رازی، شہزاد امین، عرفان اطہر، شکیل احمد ترابی، تزئین اختر، انور ساجدی، ممتاز احمد صادق، فقیر منٹھار منگریو، عبدالرحمن منگریو، ڈاکٹر زبیر محمود، مسعود خان، فضل حق، ذوالفقار احمد راحت، علی احمد ڈھلوں، عامر محمود، سید انتظار حسین زنجانی، اسلم میاں،علی حمزہ افغان ، ایاز میمن ، مدثر عالم اور محمود عالم خالد بھی شامل ہیں ۔نومنتخب صدر کاظم خان نے اسٹینڈنگ کمیٹی کے اجلاس میں پاکستان کی صحافتی سرحدوں کی سچ اور تصدیق شدہ خبروںکے ذریعے حفاظت کا عزم ظاہر کیا اور مزید کہا کہ سی پی این ای پیکا ایکٹ کے ناجائز استعمال کے خلاف بھی اپنی  مزاحمت جاری رکھے گی ۔

انھوں نے کہا کہ حکمرانوں کو توہین اور تنقید کے درمیان فرق سمجھنا ہوگا اوراشتہارات کی منصفانہ تقسیم پر عمل کرنا ہوگا۔ سالانہ اجلاس عام کے موقع پر ایوان نے بھارت کی طرف سے پہلگام کے ایک جعلی واقعے کو بنیاد بنا کر سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ طور پر بند کرنے کے اقدام کی مذمت کی اور اسے بین الاقوامی قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی قرار دیا گیا اور ایک قرارداد میں بھارت کی طرف سے جنگی ہسٹیریا پیدا کر کے خطے کے دو ارب سے زائد عوام کے جان و مال کے لئے خطرات پیدا کرنے کی بھی مذمت کی اور پاک بھارت تنا ؤ کو پوری دنیا کے لئے خطرہ قرار دیا گیا۔اجلاس میں بتایا گیا کہ حکومت نے اس موقع پر پاکستان کے پرنٹ، الیکٹرانک اور ڈیجیٹل میڈیا کے کردار کو ذمے دارانہ قرار دیتے ہوئے اعتراف کیا ہے کہ میڈیا نے قومی بیانیہ موثر انداز میں پیش کر کے بھارتی پروپیگنڈے کو ناکام بنادیا۔

اس سلسلے میں ایک قرارداد میں حکومت مطالبہ کیا کہ اس اعتراف کے بعد آزادی اظہار کے منافی تمام قوانین کو منسوخ کیا جائے اور میڈیا کی آزادی کو یقینی بنایا جائے۔ اجلاس عام میں3 مئی کو عالمی یوم آزادی صحافت کی مناسبت سے سی پی این ای کی میڈیا فریڈم رپورٹ کا اجرا بھی کیا گیا۔

صدر،وزیراعظم کی جانب سےCPNEکی نومنتخب قیادت کو مبارکباد

نومنتخب قیادت اعلیٰ صحافتی اقدار کیلیے کام کرے،آصف زرداری،آزادی صحافت کے دن پر انتخاب خوش آئند،شہباز شریف مراد علی شاہ،مریم نواز، گورنر پنجاب، ندیم افضل چن،عظمیٰ بخاری، حافظ نعیم کی بھیCPNE کی نومنتخب قیادت کو مبارکباد

 صدر آصف علی زرداری نے کونسل آف پاکستان نیوز پیپرایڈیٹرز (سی پی این ای ) کے انتخابات میں کامیابی پر نو منتخب عہدیداران کو مبارکباد دی اور کہا کہ امید کرتا ہوں کہ نو منتخب عہدیدار ملک میں شعبہ صحافت کی ترقی کیلیے کاوشیں جاری رکھیں گے۔ صدر  نے زور دیا کہ فیک نیوز اور غلط معلومات کے روک تھام کیلیے میڈیا اپنا کردار ادا کرے۔

ایوانِ صدرکے پریس ونگ سے جاری بیان کے مطابق صدر مملکت نے صدر کاظم خان اور سیکریٹری جنرل غلام نبی چانڈیو ، سینئر نائب صدر ایاز خان ، ڈپٹی سیکریٹری جنرل تنویر شوکت اور دیگر عہدیداران کو مبارکباد پیش کی۔ صدر مملکت نے کہا کہ امید ہے کہ نو منتخب عہدیداران ملک میں اعلی صحافتی اقدار کے فروغ کیلیے اپنا کردار ادا کریں گے ، امید کرتا ہوں کہ نو منتخب عہدیداران ملک میں شعبہ صحافت کی ترقی کے لیے کاوشیں جاری رکھیں گے۔  وزیرِ اعظم شہباز شریف نے سی پی این ای کے انتخابات میں کامیابی پر نو منتخب عہدیداران کو مبارکباد دی ہے۔ وزیر اعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق وزیرِ اعظم نے کاظم خان کو صدر ، غلام نبی چانڈیو کو سیکریٹری جنرل ، ایاز خان کو سینئر نائب صدر اور تنویر شوکت کو ڈپٹی سیکریٹری جنرل منتخب ہونے پر مبارکباد دی  اور کہا کہ امید ہے کونسل کے نو منتخب عہدیداران پاکستان میں صحافتی قدروں کی حفاظت اور اعلی صحافتی معیار کی بالادستی کیلیے اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔

 خوش آئند امر ہے کہ آزادی صحافت کے دن سی پی این ای کی نئی قیادت منتخب ہوئی۔  وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹرز (سی پی این ای) کے نومنتخب نمائندوں کو سالانہ انتخابات میں کامیابی پر مبارکباد دی۔مراد علی  شاہ نے  کہا کہ سی پی این ای نے اپنے آغاز سے ہی آزادی صحافت کے مقصد کو برقرار رکھا ہے۔ انھوں نے  کہا کہ 3 مئی کو عالمی یوم آزادی صحافت منایا جاتا ہے ۔ انھوں نے کہاکہ  آزادانہ اور منصفانہ انتخابات جمہوریت کی خوبصورتی اور بہتری کی طرف سفرہے،  انھوں نے پریس کی آزادی کے دفاع میں CPNE کے کردار کی تعریف کی ۔ وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف کی کونسل آف پاکستان نیوزپیپر ایڈیٹرز کے نو منتخب صدر کاظم خان ، سینئر نائب صدر ایاز خان ، سیکریٹری جنرل غلام نبی چانڈیو ، ڈپٹی سیکریٹری جنرل تنویر شوکت اور دیگر عہدیداروں کو مبارکباد دی ، وزیراعلی مریم نواز شریف نے سی پی این ای کے نو منتخب عہدیداروں کیلیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان نے کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹرز کے نو منتخب عہدیداروں کو مبارکباددی ہے۔ 

وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کونسل آف پاکستان نیوزپیپر ایڈیٹرز (سی پی این ای) کے نومنتخب صدر، سیکریٹری  سمیت تمام نو منتخب عہدیداران کو دلی مبارکباد پیش کی ہے۔اپنے تہنیتی پیغام میں عظمیٰ بخاری نے کہا کہ سی پی این ای نے پرنٹ میڈیا کے حقوق کے تحفظ اور اظہار رائے کی آزادی کے لیے ہمیشہ مثالی جدوجہد کی ہے۔ اْن کا کہنا تھا کہ اخباری صنعت میں سی پی این ای کا کردار نہایت اہم، کلیدی اور موثر رہا ہے،اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نیبھی سی پی این ای کے نومنتخب عہدیداران کو مبارکباد پیش کی۔

 پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات ندیم افضل چن نے  سی پی این ای کے نومنتخب عہدیداروں کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی آزادی اظہار اور صحافتی آزادی کے دفاع میں ہمیشہ صحافتی برادری کے شانہ بشانہ کھڑی رہی ہے،امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے کونسل آف پاکستان نیوزپیپر ایڈیٹرز(CPNE) کے انتخابات میں کامیاب ہونے والے نومنتخب عہدیداران کو دلی مبارکباد پیش کی ہے،حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ صحافت ریاست کا اہم ستون ہے اور حق و سچ پر مبنی صحافت کے فروغ میں سی پی این ای کا کردار کلیدی ہے۔

Tagsپاکستان.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان نے کونسل ا ف پاکستان نیوز عہدیداران کو مبارکباد منتخب عہدیداران کو ڈپٹی سیکریٹری جنرل مبارکباد پیش کی غلام نبی چانڈیو سی پی این ای کے انتخابات میں ا زادی صحافت کے نو منتخب کے نومنتخب نے کہا کہ صحافت کے ایاز خان انھوں نے کاظم خان

پڑھیں:

عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی

بین الاقوامی سیاست کے افق پر بعض لمحات ایسے طلوع ہوتے ہیں جو محض روزمرہ سفارتی سرگرمیوں کا حصہ نہیں ہوتے بلکہ تاریخ کے دھارے میں ایک معنی خیز موڑ کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ آج مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر اسی نوع کی بے یقینی، اضطراب اور کشمکش سے دوچار ہے۔

ایک طرف جنگ کے بادل ہیں جو لبنان، غزہ اور خطے کے دیگر حساس مقامات پر مسلسل گہرے ہوتے جا رہے ہیں، دوسری طرف سفارت کاری کی وہ نحیف مگر روشن کرن بھی موجود ہے جو انسانیت کو ایک بڑے تصادم سے بچانے کی جدوجہد کر رہی ہے۔ ایسے نازک ماحول میں پاکستان کے کردار کو عالمی سطح پر ملنے والی پذیرائی نہ صرف قومی سفارت کاری کی کامیابی کا اعتراف ہے بلکہ اس حقیقت کی علامت بھی ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں پاکستان کو ایک ذمے دار، متوازن اور قابلِ اعتماد ریاست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس کی جانب سے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہنا بظاہر ایک بیان ہے، مگر اس کے مضمرات کہیں زیادہ گہرے ہیں۔ عالمی سیاست میں تعریف کے الفاظ اکثر مفادات کے پردے میں لپٹے ہوتے ہیں، لیکن جب کسی ملک کی ثالثی کی صلاحیت، اس کی قائدانہ بصیرت اور امن کے لیے اس کی سنجیدہ کوششوں کا اعتراف مختلف بین الاقوامی حلقوں سے ہونے لگے تو یہ محض سفارتی آداب نہیں رہتے بلکہ ایک نئی حقیقت کا اظہار بن جاتے ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی گزشتہ نصف صدی سے عالمی سیاست کے حساس ترین موضوعات میں شمار ہوتی رہی ہے۔

ان دونوں ممالک کے درمیان محاذ آرائی صرف دو ریاستوں کا تنازع نہیں بلکہ اس کے اثرات توانائی کی عالمی منڈیوں، بین الاقوامی تجارت، علاقائی سلامتی اور عالمی اقتصادی استحکام تک پھیل جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں اگر پاکستان نے متعدد مواقع پر دونوں فریقوں کو جنگ کے دہانے سے واپس لانے میں کردار ادا کیا ہے تو یہ ایک ایسی کامیابی ہے جسے محض رسمی تعریف کے پیمانے سے نہیں ناپا جا سکتا۔ یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ موجودہ عالمی نظام میں طاقت کی تعریف تبدیل ہو رہی ہے۔

ماضی میں عسکری قوت کو ریاستی برتری کی سب سے بڑی علامت سمجھا جاتا تھا، مگر آج دنیا بتدریج اس نتیجے پر پہنچ رہی ہے کہ مستقل اثر و رسوخ صرف وہی ریاست حاصل کر سکتی ہے جو تنازعات کے حل میں معاون ثابت ہو، جو پل تعمیر کرے، دیواریں نہیں؛ جو رابطے پیدا کرے، فاصلے نہیں۔ پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیاں اسی نئے تصور قوت کی عکاسی کرتی ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ روابط کی راہیں ہموار کرنا، مختلف سطحوں پر اعتماد سازی کے عمل کو زندہ رکھنا اور کشیدگی کو جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنے کی کوشش کرنا درحقیقت ایک ایسی ذمے داری ہے جس کے نتائج پوری دنیا پر مرتب ہوتے ہیں۔ دوسری طرف لبنان کی صورتحال عالمی ضمیر کے لیے ایک کڑا امتحان بن چکی ہے۔

اسرائیلی حملوں، حزب اللہ کے ساتھ جاری محاذ آرائی اور علاقائی طاقتوں کی مداخلت نے اس ملک کو ایک مرتبہ پھر عدم استحکام کے بھنور میں دھکیل دیا ہے۔ لبنان ایک ایسا معاشرہ ہے جو پہلے ہی معاشی بحران، سیاسی تقسیم اور سماجی مشکلات کا شکار ہے۔ ایسے میں مسلسل عسکری کارروائیاں نہ صرف اس کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا رہی ہیں بلکہ لاکھوں شہریوں کے مستقبل کو بھی تاریکی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔

 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے رابطہ اور بیروت میں ممکنہ کارروائی کو روکنے کی کوشش اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ واشنگٹن بھی اس بحران کے ممکنہ نتائج سے پوری طرح آگاہ ہے۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں سفارتی بیانات اور زمینی حقائق کے درمیان ہمیشہ ایک وسیع فاصلہ موجود رہا ہے۔ ایک جانب جنگ بندی کے اعلانات ہوتے ہیں، دوسری جانب گولہ باری، فضائی حملے اور عسکری پیش قدمی جاری رہتی ہے۔ یہی تضاد عالمی سفارت کاری کی ساکھ کو مجروح کرتا ہے اور متحارب فریقوں کے درمیان عدم اعتماد کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔

 نیتن یاہو کی جانب سے جنوبی لبنان میں کارروائیاں جاری رکھنے کے اعلانات دراصل اسی پیچیدہ حقیقت کی ترجمانی کرتے ہیں۔ اسرائیل اپنی سلامتی کے نام پر عسکری اقدامات کو ناگزیر قرار دیتا ہے، جب کہ لبنان اور خطے کی دیگر قوتیں انھیں جارحیت اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتی ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب ہر فریق اپنی کارروائی کو دفاع اور دوسرے کے عمل کو جارحیت قرار دینے لگے تو پھر امن کا راستہ مزید دشوار ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں بین الاقوامی اداروں اور ثالث ریاستوں کا کردار فیصلہ کن اہمیت اختیار کر لیتا ہے۔

 لبنان میں ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کے اعداد و شمار محض شماریاتی معلومات نہیں بلکہ انسانی المیوں کی ایک طویل داستان ہیں۔ ہزاروں جانوں کا ضیاع اور لاکھوں انسانوں کی بے یقینی اس بات کا ثبوت ہے کہ جنگ کبھی بھی صرف فوجیوں کے درمیان نہیں ہوتی، اس کا سب سے بھاری بوجھ ہمیشہ عام شہریوں کے کندھوں پر آتا ہے۔ ایک ماں کی آغوش اجڑتی ہے، ایک بچے کا مستقبل تاریک ہوتا ہے، ایک خاندان اپنے سہارے سے محروم ہو جاتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ عالمی سیاست میں اکثر انسانی دکھ کو جغرافیائی مفادات کے شور میں نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

 ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ جاری مذاکراتی عمل کو معطل کرنے کی اطلاعات اسی بگڑتی ہوئی صورتحال کا منطقی نتیجہ معلوم ہوتی ہیں، اگرچہ اس حوالے سے سرکاری سطح پر مکمل وضاحت سامنے نہیں آئی، تاہم ایرانی قیادت کے بیانات واضح کرتے ہیں کہ لبنان میں جاری کارروائیاں اعتماد کے ماحول کو شدید نقصان پہنچا رہی ہیں۔

سفارت کاری کا بنیادی اصول یہ ہے کہ مذاکرات طاقت کے استعمال کا متبادل ہوتے ہیں، لیکن جب میدانِ جنگ مسلسل گرم رہے تو مذاکراتی میز پر سنجیدہ پیش رفت تقریباً ناممکن ہو جاتی ہے۔ ایران کا یہ مؤقف کہ جنگ بندی کا اطلاق تمام محاذوں پر ہونا چاہیے، بین الاقوامی اصولوں کے تناظر میں خاصی اہمیت رکھتا ہے، اگر ایک معاہدہ صرف مخصوص علاقوں تک محدود رہے اور دوسرے مقامات پر عسکری کارروائیاں جاری رہیں تو اس کی حیثیت ایک عارضی سیاسی انتظام سے زیادہ نہیں رہتی۔ اس پورے بحران نے اقوام متحدہ کے کردار پر بھی کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس، تشویش کے بیانات اور قراردادوں کے مسودے اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ عالمی ادارے اکثر طاقتور ریاستوں کے سیاسی مفادات کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔

بین الاقوامی قانون کی بالادستی کا تصور اسی وقت معتبر رہ سکتا ہے جب اس کا اطلاق سب پر یکساں ہو، اگر بعض ریاستوں کے لیے ایک معیار اور دوسروں کے لیے دوسرا معیار اختیار کیا جائے تو عالمی نظام کی اخلاقی بنیادیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے سلامتی کونسل میں اختیار کیا گیا مؤقف خاص اہمیت رکھتا ہے۔ لبنان کی صورتحال کو ایک انسانی بحران قرار دینا دراصل اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ جنگوں کو محض عسکری زاویے سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ انسانی جانوں کا تحفظ، بنیادی حقوق کی پاسداری اور شہری آبادی کا امن ہر قسم کی سیاسی مصلحت سے بالاتر ہونا چاہیے۔

پاکستان نے مسلسل یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ تنازعات کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کے دائرے میں تلاش کیا جانا چاہیے۔ یہی مؤقف آج خطے کی ضرورت بھی ہے اور عالمی امن کا تقاضا بھی۔ اس پوری صورتحال کو اگر وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک تاریخی دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک راستہ مسلسل عسکری تصادم، انتقامی کارروائیوں اور بڑھتی ہوئی نفرت کی طرف جاتا ہے۔ دوسرا راستہ مکالمے، مفاہمت اور سیاسی حل کی جانب لے جاتا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ جنگ کا راستہ ہمیشہ زیادہ شور پیدا کرتا ہے جب کہ امن کی کوششیں خاموشی سے آگے بڑھتی ہیں۔ میڈیا کی شہ سرخیوں میں بمباری کی آواز زیادہ سنائی دیتی ہے، مگر سفارت کاری کی خاموش محنت اکثر نظروں سے اوجھل رہتی ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں بالآخر مذاکراتی میز پر ہی ختم ہوتی ہیں۔ کوئی بھی تنازع مستقل طور پر بارود کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکا۔ انسانی تہذیب کی بقا، اقتصادی ترقی اور عالمی استحکام کا انحصار بالآخر مکالمے پر ہی ہوتا ہے۔ آج لبنان، ایران، امریکا اور اسرائیل کے گرد گھومتا بحران اسی ابدی حقیقت کی ایک نئی یاد دہانی ہے، اگر عالمی قیادت نے دانش کا راستہ اختیار کیا تو یہ خطہ ایک اور بڑے سانحے سے بچ سکتا ہے، لیکن اگر طاقت کے استعمال کو ہی واحد حل سمجھا گیا تو اس کے نتائج صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کو عدم استحکام کی نئی لہر کا سامنا کرنا پڑے گا۔ایسے میں پاکستان کی آواز، جو جنگ کے شور میں امن، مفاہمت اور مذاکرات کی بات کر رہی ہے، محض ایک سفارتی مؤقف نہیں بلکہ ایک اخلاقی ضرورت اور بین الاقوامی ذمے داری کی علامت بن چکی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو تباہی کے اندھیروں سے نکل کر امن، استحکام اور مشترکہ انسانی مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا نے پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف دے دیا
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کا پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • چلاس: پی ٹی آئی کے مرکزی جنرل سیکریٹری سلمان اکرم راجا کو دیامر میں روک لیا گیا
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد