کرپٹوکونسل کا شاندار کارنامہ، محض 50 دن میں عالمی کرپٹو انڈسٹری میں پاکستان کا پرچم سربلند کردیا
اشاعت کی تاریخ: 5th, May 2025 GMT
پاکستان کرپٹوکونسل (پی سی سی) نے شاندار کارنامہ انجام دیتے ہوئے محض پچاس دن میں عالمی منظر نامے میں کرپٹو انڈسٹری میں پاکستان کاپرچم سربلند کرکے سب کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا۔
پریس ریلیز کے مطابق پاکستان کرپٹوکونسل کا آغاز 14 مارچ 2025 کو ہوا لیکن اس مختصرعرصے میں اس ادارے نے جوکچھ کر دکھایا ہے اس سے دنیا بھرکے مبصرین اورناقدین متاثر ہیں ۔ یہ محض ایک ادارے کی کامیابی نہیں بلکہ ریاستی سطح پر وژن،رفتاراورعمل کی ایک زندہ مثال ہے۔
جہاں بیشترسرکاری ادارے برسوں تک صرف مفاہمتی یادداشتوں(ایم او یوز) اورگول میزکانفرنسوں تک محدود رہتے ہیں، وہاں پی سی سی نے نہ صرف عملدرآمدکیا بلکہ عالمی منظرنامے پر پاکستان کاپرچم کرپٹو انڈسٹری میں بلندکردیاہے۔
عالمی سطح پربڑا قدم ہے کہ کونسل کی طرف سے ایک ایسا اعلان ہواجس نے دنیابھرکی نظریں پاکستان پرمرکوزکردی ہیں، بائنانس کے بانی چانگ پین گژا (سی زیڈ) کواسٹریٹجک ایڈوائزر مقررکردیاگیا ہے۔
یہ وہ شخصیت ہیں جنہوں نے دنیاکے سب سے بڑے کرپٹو ایکسچینج کی بنیاد رکھی اورجنکی ذاتی دولت بسا اوقات 100 ارب ڈالر سے بھی تجاوزکرچکی ہے۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کیلئے ایسی عالمی شخصیت کوریاستی سطح پر مشیر مقرر کرنا ایک غیرمعمولی پیشرفت ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ خطے کا کوئی دوسرا ملک، حتی کہ بھارت بھی ایسی کامیابی حاصل نہیں کرسکا۔ ٹرمپ کی حمایت یافتہ بلاک چین کا ساتھ ایک اورحیران کن پیشرفت ہے جس میں پی سی سی نے ورلڈ لبرٹی فنانشل (ڈبلیو ایف ایل) کے ساتھ لیٹر آف انٹینٹ پر دستخط کئے۔
یہ ایک امریکی بلاک چین منصوبہ ہے جسے امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت حاصل ہے۔
اس وفد میں زیکر یوٹکوف شامل تھے، جوامریکی ریئل اسٹیٹ ٹائیکون اسٹیووٹکوف کے صاحبزادے ہیں اورمشرق وسطی امن ٹیم کے رکن بھی رہ چکے ہیں۔
یہ اشتراک پاکستان میں اسٹیبل کوائنز، ڈیسینٹرلائزڈ فنانس (DeFi) اورکراس بارڈر بلاک چین انفرااسٹرکچر کوفروغ دینے کیلئے کیا گیا ہے۔ اس نوعیت کا معاہدہ پاکستان کے کسی ادارے اورامریکی بلاک چین منصوبے کے مابین پہلی بار طے پایا ہے۔
خطے میں پاکستان کا ابھرتا ہوا کردار جس وقت خطے میں سرحدی تنائو کی خبریں گرم تھیں، اس وقت پاکستان کی یہ اسٹریٹجک پیشرفت عالمی میڈیا میں موضوع بنی۔
بھارت جیسے ملک کے اخبارات بشمول ٹائمز آف انڈیا نے اس خبرکوشائع کرنے پرمجبورہوکر پاکستان کی کامیابی کو نہ صرف تسلیم کیا بلکہ اپنی کرپٹو پالیسیوں پرتنقید بھی کی۔
جیسے ماضی میں کرکٹ ڈپلومیسی نے جنوبی ایشیاکے بیانیے کو تبدیل کیا تھا، ویسے ہی آج پاکستان ”کرپٹو ڈپلومیسی” کے ذریعے ایک نیا میدان مار رہا ہے اور اس باردائو بہت بڑا ہے۔
اسلامی مالیات اور ڈیجیٹل معیشت کا اشتراک پاکستان کرپٹو کونسل کے چیف ایگزیکٹو بلال بن صاقب نے حال ہی میں ملائشیا کے وزیر خارجہ، محمد بن حاجی حسن سے کوالالمپور میں ملاقات کی۔ اس ملاقات میں بلاک چین ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل اثاثے اور شریعت سے ہم آہنگ مالیاتی نظام کے اشتراک پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اس ملاقات کا مقصد پاکستان۔ملائشیا ڈیجیٹل فنانس پارٹنرشپ کی بنیاد رکھنا تھا، جس کے ذریعے ایف اے ٹی ایف سے ہم آہنگ اور اسلامی مالیات کے اصولوں پر مبنی ڈیجیٹل اثاثہ جات کا فریم ورک تیار کیاجائے گا۔
توانائی سے معیشت کی طرف کرپٹومائننگ اور اے آئی سینٹرز کونسل بین الاقوامی بٹکوائن مائننگ کمپنیوں سے مذاکرات کر رہی ہے تاکہ پاکستان کی اضافی بجلی کو استعمال کرتے ہوئے ڈیٹا سینٹرز اورمائننگ فارمز قائم کیے جائیں۔ ملک بھر میں مختلف مقامات کا جائزہ لیا جارہا ہے تاکہ ضائع ہونے والی توانائی کومعیشت میں بدلاجاسکے۔
اسی دوران، رئیل ورلڈ اثاثوں(زمین، اجناس وغیرہ) کو ٹوکنائز کرنے والے اداروں سے بھی بات چیت جاری ہے تاکہ حقیقی اثاثوں کو بلاک چین پر لایا جاسکے۔ شفا ف قوانین کی تشکیل اورعالمی توجہ کونسل ایک جامع اور ایف اے ٹی ایف کمپلائنٹ ریگولیٹری فریم ورک پر کام کر رہی ہے۔
اس میں عالمی ماہرین کی مدد سے اے ایم ایل، کے وائی سی معیارات، خطرے پر مبنی ضوابط اور پائیدار جدت کی پالیسیوں کوشامل کیا جارہا ہے۔
اس کا نفاذ اتنے کم وقت میں متوقع ہے جو عالمی جنوبی ممالک میں کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔ ٹران نیٹ ورک کے بانی جسٹن سن،جنکا نیٹ ورک 24 ارب ڈالرسے زائدکی مارکیٹ ویلیو رکھتا ہے، پاکستان کا دورہ کرنے کیلئے تیارہیں۔ دیگر کرپٹو موجدین اور ادارہ جاتی پارٹنرز بھی دعوت نامے پر لبیک کہہ چکے ہیں۔
بھارت میں کرپٹو پرسختی ہے جبکہ پاکستان میں وسعت ہے۔ جہاں بھارت نے کرپٹو پر 30 فیصد ٹیکس نافذ کرکے اپنے ڈیویلپرز اورسرمایہ کاروں کو باہر دھکیل دیا، وہاں پاکستان کا کھلا اور منظم رویہ خطے میں سرمایہ، ٹیلنٹ اور اختراع کو اپنی جانب متوجہ کر رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پاکستان کا بلاک چین
پڑھیں:
اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
روم ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) اٹلی کے جنوبی علاقے میں 4 پاکستانی کھیت مزدوروں کو ایک منی وین کے اندر مبینہ طور پر زندہ جلا کر قتل کر دیا گیا، اطالوی پولیس نے اس وحشیانہ قتل کے الزام میں 2 پاکستانی شہریوں کو گرفتار کرلیا۔ اطالوی اخبار کوریئر ڈیلا سیرا (Corriere della Sera) کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا ہے کہ اٹلی کے جنوبی علاقے کلابریا میں ایک پیٹرول پمپ کے قریب ایک جلی ہوئی منی وین سے چار پاکستانی کارکناں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں، اطالوی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ان مقتولین کے قتل کے شبہے میں 2 پاکستانی باشندوں کو حراست میں لے لیا، اطالوی پولیس نے گرفتار دونوں پاکستانی ملزمان کو ریمانڈ پر لے کر ان سے تفتیش شروع کر دی تاکہ اس گینگ اور دیگر سہولت کاروں کا پتہ لگایا جا سکے۔(جاری ہے)
بتایا گیا ہے کہ یہ ہولناک واقعہ کلابریا کے ایک وسیع زرعی علاقے میں واقع گاؤں امینڈولارا کے قریب ایک پیٹرول اسٹیشن پر پیش آیا، پیٹرول پمپ پر لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی تصاویر نے اس سفاکیت کو بے نقاب کیا، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوٹیج میں دیکھا کہ دو افراد نے باہر سے منی وین کے دروازوں کو بلاک کر دیا تاکہ اندر موجود لوگ باہر نہ نکل سکیں۔ معلوم ہوا ہے کہ دروازے بند کرنے کے بعد ان افراد نے گاڑی کے اندر کوئی آتش گیر مائع پٹرول یا کیمیکل پھینکا، مائع پھینکتے ہی گاڑی میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی اور دونوں ملزمان موقع سے فرار ہو گئے، فائر فائٹرز نے موقع پر پہنچ کر جب آگ پر قابو پایا تو گاڑی کے اندر سے چاروں پاکستانیوں کی جھلسی ہوئی لاشیں برآمد ہوئیں، مقامی پولیس چیف انتونیو بوریلی نے تصدیق کی کہ یہ یقینی طور پر قتل کا معاملہ ہے، ہمیں بس اب اس کی مزید تفصیلات اور تانے بانے معلوم کرنے ہیں۔ بتایا جارہا ہے کہ یہ علاقہ گزشتہ چند ماہ سے تارکینِ وطن کے درمیان شدید کشیدگی کا مرکز بنا ہوا تھا، اس زرعی علاقے میں غیر ملکیوں اور خاص طور پر پاکستانیوں کے درمیان کھیتوں میں کام کی تقسیم، رہائشی کاغذات اور رہائش گاہوں کے مسائل پر شدید اختلافات چل رہے ہیں، حالیہ مہینوں میں اسی علاقے کے اندر پاکستانیوں کو لے جانے والی کاروں اور منی وینز کو آگ لگانے کے 14 واقعات پہلے بھی رپورٹ ہو چکے ہیں، جن کا انجام اب اس ہولناک ڈبل مرڈر کی صورت میں سامنے آیا۔