‘بھارت شہباز شریف کے اسٹائل سے بھی خوفزدہ’، وزیراعظم کا اکاؤنٹ کیوں بند ہوا، وجہ سامنے آگئی
اشاعت کی تاریخ: 5th, May 2025 GMT
پہلگام حملے کے بعد بھارت کی جانب سے پاکستانی میڈیا پر پابندیاں عائد کی گئیں اور پابندیوں کا یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے، جس میں اب وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کا سرکاری یوٹیوب چینل بند کر دیا گیا ہے اور انسٹاگرام اکاؤنٹ پر بھی پابندی عائد کر دی ہے۔
وزیراعظم پاکستان کے چینل پر پابندی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ نے کہا کہ شہباز شریف کا انسٹاگرام اکاؤنٹ اس لیے بند کیا گیا کہ وہ بہت اچھی ڈریسنگ کرتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کو نہیں پتہ کہ انسٹاگرام پر بیانیہ نہیں بنتا بلکہ صرف اسٹائلش تصاویر لگتی ہیں۔ اور انڈیا والوں سے برداشت نہیں ہو رہا کہ ہمارے وزیراعظم اتنی اچھی ڈریسنگ کرتے ہیں اس لیے انہوں نے شہباز شریف کا انسٹا گرام اکاؤنٹ بند کر دیا ہے۔ جبکہ ان کا یوٹیوب اس لیے بند کیا گیا کہ انڈیا سے شہباز شریف کی کاکول میں کی گئی تقریر ہضم نہیں ہوئی۔
شہباز شریف کا انسٹاگرام اس لیے بند کیا گیا ہے کہ وہ بہت اچھی ڈریسنگ کرتے ہیں اور انہیں اپنی ڈریسنگ کی فکر بھی ہوتی ہے، وہ انسٹا پر سٹائلش تصویریں لگاتے ہیں جو انڈیا والوں سے برداشت نہیں ہو سکیں اس لیے انہوں نے شہباز شریف کا انسٹا گرام کا اکاؤنٹ بند کر دیا ہے pic.
— Waqar khan (@Waqarkhan123) May 2, 2025
عطا تارڑ کے بیان کے بعد صارفین کی جانب سے دلچسپ تبصرے کیے گئے۔ مزمل اسلم لکھتے ہیں کہ وزیر اطلاعات کے مطابق وزیر اعظم کے کپڑوں سے بھارت ڈر گیا ہے؟
وزیر اطلاعات کے مطابق وزیر اعظم کے کپڑوں سے بھارت ڈر گیا ہے؟ https://t.co/3r0TL6sFGt
— Muzzammil Aslam (@MuzzammilAslam3) May 3, 2025
علینہ شگری لکھتی ہیں کہ وزیر اطلاعات نے کہا کہ انسٹاگرام بیانیے کے لیے نہیں بلکہ اسٹائلش تصاویر شیئر کرنے کا پلیٹ فارم ہے، اسی لیے بھارت ہمارے خوش لباس اور پُراثر وزیر اعظم سے حسد کرنے لگا ہے۔ انہوں نے طنز کرتے ہوئے مزید لکھا کہ مارکیٹنگ ہو تو ایسی۔
PM Shehbaz Sharif’s instagram has been blocked in India — Information Minister says Instagram is not for narratives but for posting stylish pictures, hence India got envious of our well-dressed and articulate PM.
Marketing ho tou aisi ???? https://t.co/Me72MbXtWc
— Alina Shigri (@alinashigri) May 3, 2025
واضح رہے کہ بھارتی حکومت نے عابدہ پروین، ہانیہ عامر، فواد خان، ماہرہ خان، ماورہ حسین، عدنان صدیقی اور صبا قمر سمیت متعدد پاکستانی اداکاروں کے انسٹاگرام اکاؤنٹس پر بھی بھارت میں پابندی عائد کررکھی ہے۔
بھارتی حکومت نے کھلاڑیوں اور صحافیوں سمیت سوشل میڈیا انفلوئنسرز کے انسٹاگرام اکاؤنٹس بھی بلاک کر رکھا ہے جب کہ متعدد نیوز چینلز اور ڈراما چینلز کے یوٹیوب اور فیس بک اکاؤنٹس کو بھی بند کردیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پہلگام واقعہ شہباز شریف عطا تارڑ
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پہلگام واقعہ شہباز شریف عطا تارڑ شہباز شریف کا وزیر اطلاعات انہوں نے گیا ہے اس لیے
پڑھیں:
عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی سحر کامران کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں پیش آنے والے واقعے پر اب تک معافی نہیں مانگی جبکہ وزیراعظم کو اپنے وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لینا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے اگلے وزیراعظم بلاول بھٹو زرداری، سینیٹر سحر کامران نے دعویٰ کیوں کیا؟
وی ایکسکلوسیو میں گفتگو کرتے ہوئے سحر کامران نے بتایا کہ قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے دوران انہوں نے وزارت اور متعلقہ سیکریٹری سے سوال کیا تھا کہ کمیٹی کے اجلاس میں تقریباً 12 ارب روپے مالیت کے 14 منصوبوں کی منظوری لی گئی تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ بجٹ میں 14 ارب روپے سے زائد مالیت کے 17 منصوبے منظور کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کا صرف یہ سوال تھا کہ وہ 3 اضافی منصوبے کون سے تھے جو قائمہ کمیٹی کے سامنے پیش نہیں کیے گئے۔ ان کے بقول انہوں نے پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) سے متعلق بھی ایجنڈے کے مطابق چند سوالات کیے لیکن اسی دوران وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اونچی آواز میں گفتگو کرنے لگے جس سے انہیں شدید تضحیک کا احساس ہوا۔
سحر کامران کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس صورتحال پر واک آؤٹ کرنے کا فیصلہ کیا تاہم ان کے مطابق عطا اللہ تارڑ نے دوبارہ بلند آواز میں کہا کہ ’یہ ممبر کمیٹی کو ہائی جیک کرنا چاہتی ہیں‘، حالانکہ ان کے بقول انہوں نے ایسا کوئی اقدام نہیں کیا تھا۔
مزید پڑھیے: امریکا ایران مذاکرات، پیپلز پارٹی کا کردار پسِ منظر میں کیوں؟
رکن قومی اسمبلی نے مزید کہا کہ یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ عطا اللہ تارڑ کے رویے پر انہیں اعتراض ہوا ہو۔ ان کے مطابق اس سے قبل بھی ایک پارلیمانی سوال کے جواب میں وزیر اطلاعات نے ان کے سوال کا متعلقہ جواب نہیں دیا تھا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ جب انہوں نے قومی اسمبلی میں اس معاملے کی نشاندہی کی تو عطا اللہ تارڑ نے جواب دیا کہ میرا یہی کام ہے کہ سوال جیسا بھی ہو جواب میں اپنی مرضی کا دیتا ہوں۔
سحر کامران نے سپیکر قومی اسمبلی کے رویے پر بھی اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ایوان میں جانبداری محسوس ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ اس سے قبل بھی ایک وفاقی وزیر کی جانب سے پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان کے ساتھ بھی نامناسب رویہ اختیار کیا گیا تھا۔
سحر کامران نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ وزرا کے رویے کا نوٹس لیں اور پارلیمانی روایات کے مطابق ارکان کے ساتھ احترام پر مبنی طرز عمل یقینی بنائیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے جمہوریت اور آئین کی بالادستی کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ ان کے بقول پارٹی آج بھی جمہوریت کے استحکام کی خاطر وفاقی حکومت کی اتحادی ہے تاہم اسی وجہ سے کابینہ کا حصہ نہیں بنی۔
مزید پڑھیں: عطا تارڑ کا بڑا ایکشن: واجبات کی ادائیگی تک نجی ٹی وی کے اشتہارات بند کا اعلان
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی ملک کے تمام صوبوں کے علاوہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بھی نمایاں نمائندگی موجود ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
رکن قومی اسمبلی سحر کامران سحر کامران کو عطا تارڑ سے شکایت وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ