پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے تمام پرانے پاور پلانٹس کی تفصیل طلب کرلی
اشاعت کی تاریخ: 6th, May 2025 GMT
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) نے فروخت کے جانے والے تمام پرانے پاور پلانٹس کی تفصیلات طلب کرلیں۔
چیئرمین جنید اکبر خان کی زیر صدارت ہونے والے پی اے سی اجلاس میں سیکریٹری پاور ڈاکٹر فخر عالم نے شرکاء کو بریفنگ دی۔
سیکریٹری پاور نے بتایا کہ ملک میں بجلی کی پیداواری صلاحیت ضرورت سے زیادہ ہے، لوڈ شیڈنگ لائن لاسز والے علاقوں میں ہو رہی ہے۔
اس پر چیئرمین پی اے سی نے کہا کہ ملک میں بجلی نہیں ہے اور آپ کہہ رہے ہیں اوور کیپسٹی ہے۔
ڈاکٹر فخر عالم نے کہا کہ مظفر گڑھ کے 5 پاور ہاؤس فروخت کیے جائیں گے، پرانی ٹیکنالوجی کے حامل پاور پلانٹس کی نجکاری نہیں ہو سکتی۔
انہوں نے مزید کہا کہ گدو اور نندی پور کمبائنڈ سائیکل پاور پلانٹس کی نجکاری کی جا رہی ہے، پرانے پلانٹس کی فروخت کےلیے اسٹیٹ بینک کے ایلیوایٹرز سے قیمت لگوائی گئی ہے۔
سیکریٹری پاور نےیہ بھی کہا کہ پرانے پاور پلانٹس کو کابینہ نے بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے، ان پلانٹس کی صرف مشینری فروخت کی جا رہی ہے، اراضی نہیں۔
پی اے سی نے سیکریٹری پاور سے کہا کہ فروخت کیے جانے والے تمام پرانے پاور پلانٹس کی تفصیلات دی جائیں اوراب تک فروخت ہونے والے پاور پلانٹس کے اسپیشل آڈٹ کیا جائے۔
شرکاء کو آڈٹ حکام نے بتایا کہ صرف ان پلانٹس کا آڈٹ کر سکتے ہیں جن کی فروخت مکمل ہو چکی ہے۔
سیکریٹری پاور نے کہا کہ پرانی ٹیکنالوجی کے حامل یہ پلانٹس مہنگی بجلی پیدا کرتے ہیں، ان پلانٹس کی فروخت کا فیصلہ کابینہ کا ہے۔
دوران اجلاس پاکستان اسٹینڈرڈ اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی(پی ایس کیو سی اے) میں 5 ارب کی بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے، اس دوران 2 آڈٹ پیراز بھی زیر غور آئے۔
اس موقع پر پی پی پی کے ایم این اے نوید قمر نے کہا کہ یہ اتھارٹی خود کو وفاقی حکومت کے زیر انتظام نہیں سمجھتی۔
اس پر سیکریٹری سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے کہا کہ ہم اتھارٹی کے اس موقف کو درست نہیں سمجھتے ہیں، یہ وفاقی حکومت سے فنڈز لیتی ہے، اس لیے ہمارے زیر انتظام ہی رہے گی۔
پی اے سی نے ایک ماہ میں پی ایس کیو سی اے کے مالیاتی قواعد بنانے کی ہدایت کی۔
اجلاس کے شرکاء کو آڈیٹر جنرل نے بتایا کہ 7 سے 8 سرکاری ادارے اس وقت آڈٹ کروانے سے انکاری ہیں۔ پی اے سی نے ہدایت کی کہ آڈٹ نہ کروانے والے تمام اداروں کے سربراہان کو طلب کیا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: پرانے پاور پلانٹس پاور پلانٹس کی پی اے سی نے نے کہا کہ
پڑھیں:
پنجاب حکومت کا سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو جولائی کی ادائیگیاں قبل از وقت کرنے کا فیصلہ
پنجاب حکومت (Punjab Government)نے یکم اور 2 اگست کو ہفتہ اور اتوار کی سرکاری تعطیلات کے پیش نظر صوبے کے سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو جولائی کی تنخواہیں، الاؤنسز اور پنشن مقررہ تاریخ سے قبل ادا کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
محکمہ خزانہ پنجاب کے مطابق تمام سرکاری ملازمین کو جولائی کی تنخواہیں اور واجب الاؤنسز 31 جولائی کو ادا کیے جائیں گے، جبکہ صوبے کے تمام پنشنرز کو بھی اسی روز جولائی کی پنشن جاری کر دی جائے گی۔
محکمہ خزانہ نے بتایا کہ اس سلسلے میں گورنر پنجاب (Governor of Punjab) نے 31 جولائی کو تنخواہوں، الاؤنسز اور پنشن کی قبل از وقت ادائیگی کی منظوری دے دی ہے تاکہ تعطیلات کے باعث ادائیگی میں کسی قسم کی تاخیر نہ ہو۔
مزیدپڑھیں:دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری
فیصلے پر عملدرآمد کے لیے محکمہ خزانہ نے اکاؤنٹنٹ جنرل پنجاب (Accountant General Punjab)، تمام ضلعی ٹریژری دفاتر اور ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس افسران کو باضابطہ ہدایات جاری کر دی ہیں۔ اس کے ساتھ متعلقہ بینکوں کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ 31 جولائی کو سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشنرز کی پنشن کی بروقت ادائیگی کے لیے تمام ضروری انتظامات مکمل کریں۔
حکام کے مطابق یکم اور 2 اگست کو ہفتہ اور اتوار کی تعطیلات کے باعث یہ فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو بروقت ادائیگی یقینی بنائی جا سکے اور انہیں مالی معاملات میں کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔