WE News:
2026-06-03@07:57:05 GMT

ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل کو غزہ پر مکمل قبضہ کی کھلی چھوٹ دیدی

اشاعت کی تاریخ: 6th, August 2025 GMT

ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل کو غزہ پر مکمل قبضہ کی کھلی چھوٹ دیدی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر اسرائیل سے متعلق متنازع بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اسرائیل غزہ پر مکمل قبضہ کرنا چاہے تو یہ اُس کا اپنا فیصلہ ہے، امریکا اس میں رکاوٹ نہیں ڈالے گا۔

منگل کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے جب ٹرمپ سے اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کے مبینہ منصوبے — پورے غزہ پر قبضے — کے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا:

’میری توجہ اس وقت صرف اس بات پر ہے کہ غزہ کے لوگوں کو کھانا فراہم کیا جائے۔ باقی معاملات کا فیصلہ اسرائیل کو کرنا ہے۔‘

یہ بھی پڑھیں ’غزہ جنگ بند کروائیں‘، اسرائیل کے 600 سے زائد سابق سیکیورٹی عہدیداروں کا امریکی صدر ٹرمپ کو خط

یاد رہے کہ امریکا ہر سال اسرائیل کو اربوں ڈالر کی فوجی امداد دیتا ہے، اور اکتوبر 2023 میں اسرائیل کی غزہ پر جنگ کے آغاز کے بعد سے یہ امداد مزید بڑھ چکی ہے۔

غزہ میں انسانیت سوز صورتِ حال

اسرائیلی فوج کی جانب سے فلسطینیوں کو غزہ کے چھوٹے چھوٹے علاقوں میں محدود کر دیا گیا ہے، جہاں 86 فیصد سے زائد علاقہ اب مکمل طور پر عسکری زون بن چکا ہے۔
غزہ میں خوراک کی شدید قلت، روزانہ بمباری اور اسرائیلی ناکہ بندی کے باعث انسانی جانوں کو شدید خطرات لاحق ہیں۔

یہ بھی پڑھیے ہم چاہتے ہیں کہ اسرائیل غزہ کے لوگوں کو خوراک فراہم کرے، ڈونلڈ ٹرمپ

اقوام متحدہ کے اعلیٰ عہدیدار میروسلاف جینچا نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل نے غزہ پر مکمل قبضہ کیا تو اس کے ’تباہ کن نتائج‘ برآمد ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا:

’بین الاقوامی قانون کے مطابق غزہ مستقبل کی آزاد فلسطینی ریاست کا ایک لازمی حصہ ہے۔‘

اسرائیل کے عزائم، اور فلسطینیوں کے خدشات

اسرائیل نے 2005 میں غزہ سے اپنی فوج اور آبادکار واپس بُلا لیے تھے، لیکن قانونی ماہرین کے مطابق غزہ پر قبضہ تکنیکی طور پر برقرار رہا، کیونکہ اسرائیل اب بھی غزہ کی فضائی حدود، سمندری حدود اور بارڈر کنٹرول پر قابض ہے۔

2023 کی جنگ کے بعد اسرائیل کی دائیں بازو کی حکومت نے غزہ میں دوبارہ بستیوں کے قیام اور فوجی موجودگی کا مطالبہ کیا۔
نیتن یاہو نے کئی مواقع پر فلسطینیوں کو مکمل طور پر غزہ سے بےدخل کرنے کا عندیہ دیا — جو کہ نسل کشی (ethnic cleansing) کے زمرے میں آتا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی رواں سال فروری میں اس تصور کی حمایت کرتے ہوئے کہا تھا کہ:

’غزہ کو خالی کر کے اسے مشرق وسطیٰ کی ریویرہ میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔‘

انسانی امداد میں رکاوٹیں اور امریکا کا کردار

مارچ 2025 سے اسرائیل نے غزہ میں امدادی سامان کا داخلہ تقریباً مکمل طور پر بند کر دیا ہے۔ امریکا کی مالی معاونت سے چلنے والے GHFمراکز ہی واحد ذریعہ ہیں جہاں سے فلسطینی خوراک حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں — اس دوران کئی افراد اسرائیلی فوج کے ہاتھوں ہلاک ہو چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے فلسطین باقی نہ رہا تو تسلیم کیا ہوگا؟ آسٹریلوی وزیر خارجہ کا انتباہ

اگرچہ اقوامِ متحدہ نے بارہا مطالبہ کیا کہ اسے امداد کی تقسیم کی اجازت دی جائے، امریکا بدستور GHF کو امداد فراہم کر رہا ہے۔

منگل کو ایک مرتبہ پھر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکا نے غزہ کے لیے 60 ملین ڈالر کی امداد فراہم کی ہے، جس میں سے 30 ملین ڈالر GHF کو دیے گئے۔
انہوں نے کہا:

’ہم نے خوراک کے لیے بہت بڑی رقم دی ہے۔ اسرائیل اور عرب ریاستیں اس خوراک کی ترسیل میں ہماری مدد کریں گی۔‘

غزہ پر اسرائیلی جارحیت کے نتائج

اب تک اسرائیلی کارروائیوں میں 61,000 سے زائد فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں، اور غزہ کا بیشتر علاقہ مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے۔
بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں اور اقوام متحدہ کے ماہرین نے ان حملوں کو نسل کشی قرار دیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیل اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو امریکا ڈونلڈ ٹرمپ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسرائیل اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو امریکا ڈونلڈ ٹرمپ ڈونلڈ ٹرمپ غزہ کے

پڑھیں:

امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر

ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔

ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔

علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔

انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے  ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔

کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔

علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا میں مصنوعی ذہانت کی نگرانی، ٹرمپ کا نیا ایگزیکٹو آرڈر جاری
  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام