بھارتی حملے کے بعد چین کا اہم بیان، ترکیہ نے پاکستان کیساتھ کھڑا ہونے کا پیغام دیدیا
اشاعت کی تاریخ: 7th, May 2025 GMT
چین نے بھارت کی جانب سے حملوں کو افسوس ناک قرار دے دیا، ترکیہ نے پاکستان کی حمایت کرتے ہوئے قریبی تعاون برقرار رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق چین نے پاکستان پر بھارتی حملوں پر افسوس اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دونوں جوہری فریقوں پر زور دیا ہے کہ وہ کشیدگی کے جواب میں تحمل کا مظاہرہ کریں۔
پاکستان کے قریبی اتحادی چین نے کہا کہ اسے آج بھارت کی فوجی کارروائی پر افسوس کا ہے، اسے موجودہ پیشرفت پر تشویش ہے۔
چینی دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ بھارت اور پاکستان ایسے ہمسایہ ممالک ہیں، جنہیں الگ نہیں کیا جا سکتا، اور دونوں چین کے ہمسائے بھی ہیں، چین ہر قسم کی دہشت گردی کی مخالفت کرتا ہے۔
ترجمان چینی وزارت خارجہ نے کہا کہ ہم بھارت اور پاکستان دونوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ امن و استحکام کو ترجیح دیں، پرسکون اور پرسکون رہیں، اور ایسے اقدامات سے گریز کریں جن سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو۔
دوسری جانب اسلام آباد میں تعینات ترکیہ کے سفیر نے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحٰق ڈار سے ملاقات کی، بھارت کی جانب سے پاکستان کی خودمختاری کی بلااشتعال خلاف ورزی اور بے گناہ جانوں کے المناک زیاں کے تناظر میں پاکستان کے ساتھ بھرپور یکجہتی کا اظہار کیا۔
ترکیہ کے سفیر نے علاقائی سلامتی کے خدشات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا، اور قریبی ہم آہنگی اور تعاون کو برقرار رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
اسلام آباد میں ترکیہ کے سفیر نے پاکستان کی حمایت کا اظہار کرتے ہوئے بھارت کی کارروائی کو ’پاکستان کی خودمختاری کی بلا اشتعال خلاف ورزی‘ قرار دیا۔
پاکستانی وزارت خارجہ نے ’ایکس‘ پر ایک بیان میں کہا کہ پاکستان اور ترکیہ نے علاقائی سلامتی کے خدشات پر گہرائی سے تبادلہ خیال کیا، اور قریبی تعاون کا عہد کیا۔
واضح رہے کہ بھارت نے گزشتہ رات، اندھیرے میں پاکستان کے شہری علاقوں پر حملہ کرکے طبل جنگ بجادیا تھا۔
بھارتی حملے کے بعد پاکستان کی مسلح افواج نے بزدلانہ حملے کا منہ توڑ جواب دیتے ہوئے بھارتی فضائیہ کے 3 رافیل طیاروں سمیت 5 جنگی طیارے مارے گرائے، جب کہ ایک بریگیڈ ہیڈکوارٹر سمیت متعدد فوجی چیک پوسٹوں کو تباہ کردیا تھا، بھارتی فوج نے ایل اوسی کے چورا کمپلیکس پر سفید جھنڈ الہرا کر شکست تسلیم کرلی تھی۔
وزیراطلاعات عطا اللہ تارڑ نے صبح سویرے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ بھارتی فوج نے سفید جھنڈا لہرا کر شکست تسلیم کرلی ہے، پاک فوج کی جانب سے لائن آف کنٹرول پر دشمن کی پوسٹوں کو بھاری نقصان پہنچایا گیا ہے، پاکستان کے مؤثر جواب کے بعد بھارت کی متعدد پوسٹیں تباہ ہوئیں جبکہ پاکستان نے بھارت کے 5 لڑاکا طیارے اور ایک ڈرون مار گرایا۔
اس کے علاوہ پاک فوج کی جوابی کارروائیاں تاحال جاری ہیں، اور دشمن کو بھاری نقصان پہنچنے کی مسلسل اطلاعات مل رہی ہیں۔
Post Views: 4.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: نے پاکستان پاکستان کے پاکستان کی کرتے ہوئے بھارت کی کہا کہ
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔