فضائی حملوں کے بعد بھارت میں ایلرٹ جاری، کئی پروازیں منسوخ کردیں
اشاعت کی تاریخ: 7th, May 2025 GMT
سرینگر ہوائی اڈے کو پاکستان پر ہندوستانی فوج کے فضائی حملے کے بعد احتیاطی اقدام کے طور پر شہریوں کیلئے بند کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پہلگام دہشت گردانہ حملے کے بعد بھارت نے بدھ کی صبح دہشت گردی کے خلاف "آپریشن سندور" شروع کیا۔ اس آپریشن کے تحت ہندوستانی فضائیہ نے پاکستان پر فضائی حملے کئے۔ اس کے بعد احتیاطی تدابیر کے طور پر سرینگر ہوائی اڈے کو عام لوگوں کے لئے بند کر دیا گیا ہے۔ ساتھ ہی ایئر انڈیا نے جموں و کشمیر، راجستھان، چنڈی گڑھ اور پنجاب کے لئے دوپہر 12 بجے تک کئی پروازیں منسوخ کر دی ہیں۔ ذرائع کے مطابق سرینگر ہوائی اڈے کو پاکستان پر ہندوستانی فوج کے فضائی حملے کے بعد احتیاطی اقدام کے طور پر شہریوں کے لئے بند کر دیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق تینوں افواج نے مل کر آپریشن سندور کیا۔
ایئر انڈیا نے ایک ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ صورتحال کے پیش نظر ایئر انڈیا نے جموں، سرینگر، لیہہ، جودھ پور، امرتسر، بھوج، جام نگر، چنڈی گڑھ اور راجکوٹ کے لئے اپنی تمام پروازیں 7 مئی کی دوپہر 12 بجے تک اگلے احکامات تک منسوخ کر دی ہیں۔ ایئر لائن کمپنی نے کہا کہ امرتسر جانے والی دو بین الاقوامی پروازوں کو دہلی بھیجا جا رہا ہے۔ دریں اثنا انڈیگو نے اپنے مسافروں کے لئے ایک ایڈوائزری جاری کی ہے اور مسافروں سے گزارش کی ہے کہ وہ اپنا سفر شروع کرنے سے پہلے پرواز سے متعلق معلومات حاصل کریں۔
انڈیگو نے ایک ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے ٹوئٹر پر لکھا کہ علاقے میں فضائی حدود کے بدلتے ہوئے حالات کی وجہ سے سرینگر، جموں، امرتسر، لیہہ، چنڈی گڑھ اور دھرم شالہ جانے والی ہماری پروازیں متاثر ہوئی ہیں۔ فضائی حدود کی جاری پابندیوں سے بیکانیر جانے والی پروازیں بھی متاثر ہیں۔ ساتھ ہی فضائی حملے کے بعد پورے پاکستان میں تناؤ کا ماحول ہے۔ اب اطلاعات آرہی ہیں کہ اسلام آباد اور لاہور ایئرپورٹ جانے والی تمام پروازیں اگلے احکامات تک منسوخ کردی گئی ہیں۔ یہ فیصلہ حالیہ سکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا گیا ہے۔ درحقیقت دو ہفتے قبل پہلگام دہشت گردانہ حملے کا جواب دیتے ہوئے بھارتی مسلح افواج نے بدھ کی صبح پاکستان پر میزائل حملے کئے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: حملے کے بعد فضائی حملے پاکستان پر جانے والی گیا ہے کے لئے
پڑھیں:
بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔
قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔ ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔
پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔
قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔