بھارتی جارحیت کے اثرات، پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں شدید مندی، بھارتی معیشت بھی دباؤ کا شکار
اشاعت کی تاریخ: 7th, May 2025 GMT
بھارتی جارحیت اور اس کے بعد پیدا ہونے والی کشیدہ صورتحال نے مالیاتی منڈیوں کو شدید متاثر کیا ہے پاکستان اسٹاک مارکیٹ شدید مندی کی لپیٹ میں آ گئی ہے اور سرمایہ کاروں میں بے چینی اور غیر یقینی صورتحال بڑھتی جا رہی ہے کاروباری ہفتے کے تیسرے روز جب اسٹاک مارکیٹ کا آغاز ہوا تو شدید مندی کا رجحان دیکھنے میں آیا ہنڈرڈ انڈیکس میں چھ ہزار سے زائد پوائنٹس کی بڑی کمی ہوئی جس کے بعد انڈیکس ایک لاکھ سات ہزار سات پوائنٹس کی کم ترین سطح پر آ گیا جو کہ سرمایہ کاروں کے اعتماد میں بڑی کمی کی نشاندہی کرتا ہے گزشتہ کاروباری روز کے اختتام پر انڈیکس پانچ سو تینتیس پوائنٹس کی کمی کے ساتھ ایک لاکھ تیرہ ہزار پانچ سو اڑسٹھ پوائنٹس پر بند ہوا تھا مگر آج کی صورتحال نے مارکیٹ کو مزید غیر مستحکم کر دیا ہے ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت کی جانب سے جاری حملے اور کشیدگی کے باعث مالیاتی منڈیوں میں شدید غیر یقینی فضا قائم ہو چکی ہے سرمایہ کار بڑی تعداد میں اپنے شیئرز فروخت کر رہے ہیں اور محتاط رویہ اپناتے ہوئے مارکیٹ سے باہر نکلنے کو ترجیح دے رہے ہیں جس کا براہ راست اثر ہنڈرڈ انڈیکس پر پڑ رہا ہے دوسری جانب بھارتی معیشت بھی اس کشیدگی سے محفوظ نہیں رہ سکی بھارتی روپیہ امریکی ڈالر کے مقابلے میں نمایاں گراوٹ کا شکار ہو چکا ہے جس نے بھارت کی مالیاتی منڈیوں میں بھی غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی ہے ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر موجودہ کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو نہ صرف پاکستان بلکہ بھارت کی معیشت کو بھی شدید دھچکا لگ سکتا ہے جنگی صورتحال کی صورت میں سرمایہ کاری کا ماحول تباہ ہو سکتا ہے اور دونوں ممالک کی مالیاتی سلامتی پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔