صنعا: اسرائیلی فضائیہ نے یمن کے دارالحکومت صنعا کے مرکزی بین الاقوامی ایئرپورٹ پر فضائی حملہ کیا جس میں حوثی گروپ کے زیر استعمال بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا۔ حوثی میڈیا کے مطابق اس حملے میں تین افراد جاں بحق ہو گئے۔

یہ حملہ حوثی باغیوں کی جانب سے اسرائیل کے بن گوریون ایئرپورٹ کے قریب میزائل حملے کے بعد جوابی کارروائی کے طور پر کیا گیا۔ اسرائیلی فوج کے مطابق صنعا ایئرپورٹ مکمل طور پر غیر فعال ہو چکا ہے۔ مقامی ذرائع نے بتایا کہ ایئرپورٹ پر چار بڑے دھماکے ہوئے۔

ایئرپورٹ کے تین مسافر طیارے، روانگی کا ہال، رن وے اور ایک فوجی اڈہ نشانہ بنے۔ یمنیا ایئر ویز کے مطابق تین مسافر طیارے تباہ ہوگئے ہیں۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ یہ ایئرپورٹ حوثیوں کے لیے اسلحہ، افراد اور سامان منتقل کرنے کا مرکزی مرکز بن چکا تھا۔ حوثیوں نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ فلسطینیوں کی حمایت میں ان کی کارروائیاں جاری رہیں گی جب تک غزہ پر اسرائیلی جارحیت کا خاتمہ نہیں ہوتا۔

اقوام متحدہ کے یمن کے خصوصی ایلچی ہانس گرنڈ برگ نے کہا کہ یہ حملے ایک پہلے سے ہی نازک اور کشیدہ خطے میں سنگین اضافہ ہیں۔

ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملے روکنے کی یقین دہانی کے بعد امریکہ ان پر بمباری بند کر دے گا۔ تاہم حوثیوں کی جانب سے اس دعوے پر تاحال کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔


 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

روس کے کیف سمیت مختلف یوکرینی شہروں پر شدید حملے، 18 افراد ہلاک، 100 سے زائد زخمی

روس(نیوز ڈیسک)روس نے منگل کی صبح یوکرین پر سیکڑوں ڈرونز اور درجنوں میزائلوں سے شدید حملے کیے جن کے نتیجے میں کم از کم 18 افراد ہلاک اور 100 سے زائد زخمی ہو گئے۔

غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق حملے کیف اور ڈنیپرو سمیت مختلف شہروں پر کیے گئے۔ ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں کیف پر یہ تیسرا بڑا حملہ تھا۔

یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نےکہا کہ رات بھر ہونے والے حملوں میں روس نے 73 میزائل اور 600 سے زائد ڈرونز داغے۔ انہوں نے ایک بار پھر امریکا سے مطالبہ کیا کہ یوکرین کے کم ہوتے ذخائر کو پورا کرنے کے لیے مزید پیٹریاٹ میزائل دفاعی نظام فراہم کیے جائیں۔

حکام کے مطابق کیف ان حملوں کا مرکزی ہدف تھا، جہاں کم از کم 9 بلند و بالا عمارتوں، ایک اسکول، ایک کلینک، دفاتر اور انتظامی عمارتوں کو نقصان پہنچا۔

بجلی فراہم کرنے والی یوکرینی کمپنی کے مطابق حملے کے باعث عارضی طور پر ایک لاکھ 40 ہزار افراد بھی بجلی سے محروم ہوگئے۔

یوکرینی فضائیہ نے بتایا کہ روس نے مجموعی طور پر 656 ڈرونز اور 73 میزائل فائر کیے جن میں 33 بیلسٹک میزائل اور 8 زرکون ہائپرسونک میزائل شامل تھے، جو اس جنگ کے دوران اس نوعیت کے میزائلوں کا ممکنہ طور پر سب سے بڑا استعمال ہے۔

روس کے مطابق زرکون میزائل کی رینج 1000 کلومیٹر ہے اور یہ آواز کی رفتار سے 9 گنا زیادہ تیزی سے سفر کرتا ہے۔

یوکرینی فضائیہ کے مطابق 40 میزائلوں اور 602 ڈرونز کو مار گرایا یا ناکارہ بنا دیا گیا تاہم گرائے گئے میزائلوں میں زرکون میزائلوں کا ذکر نہیں کیا گیا۔

مزید پڑھیں۔رواں ماہ بجلی صارفین کو کتنا ریلیف ملے گا؟ پاور ڈویژن نے بتا دیا

متعلقہ مضامین

  • روس کے کیف سمیت مختلف یوکرینی شہروں پر شدید حملے، 18 افراد ہلاک، 100 سے زائد زخمی
  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا نے پاکستان کو 41 رنز سے شکست دے دی
  • ایرانی جزیرے پر امریکی حملے کے بعد ایران کا جوابی وار، بحرین، عراق اور قطر میں سائرن بج گئے
  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کا پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف
  • جاپان میں جنگلی ریچھ نے حملے کر کے چار افراد کو زخمی کر دیا
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام