اسرائیل کا یمن پر دوسرا بڑا حملہ، صنعا ایئرپورٹ مکمل تباہ، تین افراد جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 7th, May 2025 GMT
صنعا: اسرائیلی فضائیہ نے یمن کے دارالحکومت صنعا کے مرکزی بین الاقوامی ایئرپورٹ پر فضائی حملہ کیا جس میں حوثی گروپ کے زیر استعمال بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا۔ حوثی میڈیا کے مطابق اس حملے میں تین افراد جاں بحق ہو گئے۔
یہ حملہ حوثی باغیوں کی جانب سے اسرائیل کے بن گوریون ایئرپورٹ کے قریب میزائل حملے کے بعد جوابی کارروائی کے طور پر کیا گیا۔ اسرائیلی فوج کے مطابق صنعا ایئرپورٹ مکمل طور پر غیر فعال ہو چکا ہے۔ مقامی ذرائع نے بتایا کہ ایئرپورٹ پر چار بڑے دھماکے ہوئے۔
ایئرپورٹ کے تین مسافر طیارے، روانگی کا ہال، رن وے اور ایک فوجی اڈہ نشانہ بنے۔ یمنیا ایئر ویز کے مطابق تین مسافر طیارے تباہ ہوگئے ہیں۔
اسرائیل کا کہنا ہے کہ یہ ایئرپورٹ حوثیوں کے لیے اسلحہ، افراد اور سامان منتقل کرنے کا مرکزی مرکز بن چکا تھا۔ حوثیوں نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ فلسطینیوں کی حمایت میں ان کی کارروائیاں جاری رہیں گی جب تک غزہ پر اسرائیلی جارحیت کا خاتمہ نہیں ہوتا۔
اقوام متحدہ کے یمن کے خصوصی ایلچی ہانس گرنڈ برگ نے کہا کہ یہ حملے ایک پہلے سے ہی نازک اور کشیدہ خطے میں سنگین اضافہ ہیں۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملے روکنے کی یقین دہانی کے بعد امریکہ ان پر بمباری بند کر دے گا۔ تاہم حوثیوں کی جانب سے اس دعوے پر تاحال کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔