لاہور:

بھارت رات کے اندھیرے میں پاکستان پر حملہ کرنے کے بعد دن کی روشنی میں واہگہ بارڈر پر ہونے والی پریڈ سے بھاگ گیا اور اپنے شہریوں کو مشترکہ پریڈ دیکھنے کی اجازت نہیں دی، جس کے باعث بھارتی اسٹیڈیم میں سناٹا چھایا رہا۔

بھارت کو پاکستان رینجرز پنجاب نے واہگہ بارڈر پر ہونے والی جوش اور جذبوں کی جنگ میں بھی شکست سے دوچار کر دیا، پاکستان پر مشن سندور کے نام سے حملے کرنے والے بھارت کا اسٹیڈیم دن کی روشنی میں سونا نظر آیا جبکہ پاکستان رینجرز پنجاب کے شیر دل جوان اپنی سرحد پر سینہ تانے کھڑے رہے اور سرحدوں کی نگہبانی کا فریضہ ادا کررہے ہیں۔

گورنر سندھ کامران ٹیسوری بھی پاک فوج اور پاکستان رینجرز پنجاب کا حوصلہ بڑھانے  کے لیے واہگہ بارڈر پہنچے اور انہوں نے پاکستان رینجرز پنجاب کے جوانوں کی شان دار پریڈ دیکھی۔

اس موقع پر  گفتگو کرتے ہوئے گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نے بھارت کی جانب سے کی گئی جارحیت کی شدید مذمت کی اور کہا کہ پاکستانی افواج نے بروقت اور مؤثر جواب دے کر دشمن کو واضح پیغام دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں آج واہگہ بارڈر پر اپنے بہادر جوانوں کے ساتھ ان کے جذبے کو سلام پیش کرنے آیا ہوں، گزشتہ رات بھارت نے حملہ آور ہو کر ہماری سرحدوں پر نہیں بلکہ ہمارے معصوم شہریوں، مساجد اور بچوں کو نشانہ بنایا، ایک پانچ سالہ معصوم بچے کی شہادت نے دنیا کو بھارت کا اصل چہرہ دکھا دیا ہے۔

کامران ٹیسوری نے عالمی برادری، اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارت کی طرف سے شہری آبادی پر حملے کا نوٹس لیں۔

ان کا کہنا تھا کہ "بھارت نے دعویٰ کیا کہ اس نے 9 مقامات پر میزائل داغے لیکن ان جگہوں پر نہ کوئی دہشت گرد تھا اور نہ ہی کوئی عسکری ہدف، صرف عام شہری بستیاں تھیں۔"

انہوں نے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل حافظ عاصم منیر کو خراج تحسین پیش کیا کہ انہوں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے بھارت کو منہ توڑ جواب دیا اور پاک فضائیہ کے ان پائلٹس کو سلام پیش کیا جنہوں نے بھارتی فضائیہ کے پانچ طیارے مار گرائے۔

گورنر نے کہا کہ واہگہ پر آج کی پریڈ کے موقع پر پاکستانی عوام کا جوش و خروش قابل دید تھا جبکہ بھارتی جانب خالی کرسیاں اس بات کا ثبوت تھیں کہ بھارتی عوام اپنی حکومت کی پالیسیوں سے نالاں ہے۔

انہوں نے بھارتی مسلمانوں، سکھوں اور دیگر اقلیتوں کو پیغام دیا کہ وہ نریندر مودی کے فسطائی نظریات سے ہوشیار رہیں، مودی، جو گجرات کا قصاب ہے، نے پاکستان میں مساجد کو نشانہ بنا کر کروڑوں بھارتی مسلمانوں کو ایک نئی سوچ پر مجبور کر دیا ہے۔

کامران ٹیسوری نے 7 مئی 2025 کو 1965 کی جنگ کے بعد دوسرا یادگار دن قرار دیتے ہوئے کہا کہ جیسے ہم نے 1965 میں دشمن کو شکست دی تھی، ویسے ہی اس بار بھی بھارت کو سبق سکھایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے پہلے چائے پلا کر واپس بھیجا تھا، اس بار اگر دوبارہ آئے تو چائے کے ساتھ کراچی کے پان بھی کھلا کر بھیجیں گے۔

گورنر سندھ نے کہا کہ وہ اپنی اہلیہ اور  بیٹی کے ساتھ واہگہ بارڈر پر موجود ہیں تاکہ دنیا کو یہ پیغام دیا جا سکے کہ پاکستانی قوم اپنے فوجی جوانوں کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑی ہے، ہمارا اصل سرمایہ ہمارا ایمان، ہمارے جذبے اور 'لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ' کا نعرہ ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پاکستان رینجرز پنجاب واہگہ بارڈر پر نے کہا کہ انہوں نے کے ساتھ

پڑھیں:

’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی

پاکستان کے معروف ریپر اور گلوکار طلحہ انجم نے نئی دہلی میں تعلیمی نظام کے خلاف احتجاج کرنے والے بھارتی طلبا سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ان کے حوصلے اور ثابت قدمی کو سراہا ہے۔ انہوں نے طلبا پر ہونے والی پولیس کارروائی کے بعد ایک پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے غصے اور احساسات کو بخوبی سمجھتے ہیں۔

طلحہ انجم نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر بھارتی طلبا کے احتجاج کی ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں مظاہرین پر آنسو گیس اور لاٹھی چارج ہوتے دکھایا گیا۔ ویڈیو کے ساتھ انہوں نے لکھا کہ ’بھارت کے طلبا مظاہرین کے نام، مجھے آپ کی ثابت قدمی کا بے حد احترام ہے، میں آپ کی مایوسی اور غصے کو سمجھ سکتا ہوں، اور یہ بھی جانتا ہوں کہ آپ کے ساتھ کیا کیا جا رہا ہے، مضبوط رہیں۔‘

طلحہ انجم پاکستان کے سب سے زیادہ سنے جانے والے موسیقاروں میں شمار ہوتے ہیں اور اسٹریمنگ پلیٹ فارم اسپاٹیفائی پر ان کی مقبولیت کئی ریکارڈ قائم کر چکی ہے۔ بھارت میں بھی ان کے مداحوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ گزشتہ برس نیپال میں ایک کنسرٹ کے دوران ایک مداح کی جانب سے بھارتی پرچم پیش کیے جانے پر وہ خبروں میں آئے تھے، بعد ازاں انہوں نے پاکستان میں اس معاملے پر وضاحت بھی کی تھی۔

سماجی اور انسانی مسائل پر کھل کر مؤقف اختیار کرنے والے طلحہ انجم اس سے قبل بھی کئی معاملات پر آواز بلند کر چکے ہیں۔ اپریل میں صومالیہ کے ساحل کے قریب قزاقوں کے قبضے میں جانے والے پاکستانی ملاحوں کی رہائی کے لیے انہوں نے حکومت سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا تھا اور وزارتِ خارجہ سے متاثرہ خاندانوں کے لیے مستقل ہیلپ لائن قائم کرنے کی اپیل بھی کی تھی۔

دوسری جانب بھارت میں تعلیمی امتحانات کے مبینہ پیپر لیکس کے خلاف احتجاج کا سلسلہ گزشتہ ماہ سے جاری ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے پلیٹ فارم سے ہونے والے اس دھرنے میں طلبہ وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں پارلیمنٹ کی جانب مارچ کی کوشش کے دوران پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔
 

متعلقہ مضامین

  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا