بھارت کے بزدلانہ حملے کی مذمت کرنے والی اداکارہ کو قتل کی دھمکیاں؛ پوسٹ ہٹانے پر مجبور
اشاعت کی تاریخ: 7th, May 2025 GMT
ساؤتھ انڈین فلم انڈسٹری کی معروف اداکارہ امینہ نظام نے پاکستان پر بزدلانہ حملے پر خوشی کے شادیانے بجانے والی مودی سرکار کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔
اداکارہ امینہ نظام نے سوشل میڈیا پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ جو لوگ سمجھتے ہیں کہ پاکستان پر حملہ کرکے پہلگام حملے کا بدلہ لیا گیا ہے، انہیں حقیقت نہیں بتائی گئی۔
اداکارہ نے مزید کہا کہ افسوس ہے کہ ہمارے ملک نے قتل کو مسئلے کا حل سمجھا جب کہ بہت سے سوالات کے جوابات ابھی آنا باقی ہیں۔
امینہ نظام نے بھارت کے ابتر معاشی حالات کو یاد دلاتے ہوئے کہا کہ جنگ کبھی امن نہیں لاتی۔ میں اس کی حمایت نہیں کرتی۔
اداکارہ کا یہ بیان سوشل میڈیا پر ہندوتوا کے غنڈوں کو بالکل پسند نہیں آیا اور وہ اداکارہ کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دینے پر اتر آئے۔
جس پر اداکارہ امینہ نظام نے اپنی یہ پوسٹ ڈیلیٹ کردی تھی۔
یاد رہے کہ ملیالم اداکارہ نے فلم ’گینگزآف 18‘ سے فلمی کیریر کا آغاز کیا اور انجام پاتھیرا، ترکش ٹھرکام اور پتا پاکال میں اہم کردار ادا کیے۔
علاوہ ازیں ٹی وی ریئلٹی شو ’نائیکا نائیکن‘ سے بھی شہرت حاصل کی اور بعد میں او ٹی ٹئی پلیٹ فارمز میں پرفارمنس دی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
بھارتی شہر کولکتہ کے علاقے لیک ٹاؤن میں نصب فٹبال لیجنڈ لیونل میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ مقامی رہائشیوں کی شکایات کے بعد ہٹا دیا گیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق شہریوں کا کہنا تھا کہ تیز ہواؤں کے دوران یہ دیوقامت ڈھانچہ ہلتا محسوس ہوتا تھا جس سے حفاظتی خطرات پیدا ہو رہے تھے۔
میسی کا یہ مجسمہ گزشتہ سال دسمبر میں نصب کیا گیا تھا اور اسے 2022 فیفا ورلڈ کپ کے فاتح کپتان کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔
مجسمے میں ارجنٹائن کے سپر اسٹار کو ورلڈ کپ ٹرافی تھامے ہوئے دکھایا گیا تھا جو ان کی تاریخی کامیابی کی یادگار کے طور پر بنایا گیا تھا۔
یہ یادگار میسی کے مداحوں کی جانب سے ان کے بھارت کے دورے کے موقع پر وی آئی پی روڈ کے کنارے قائم کی گئی تھی۔
View this post on Instagramتاہم حالیہ دنوں میں مقامی افراد نے انتظامیہ کو آگاہ کیا کہ تیز ہوا چلنے پر مجسمہ معمولی طور پر جھولتا نظر آتا ہے جس سے راہگیروں اور قریبی آبادی کے لیے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔
حکام نے عوامی تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے مجسمے کو عارضی طور پر ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ اس کے مستقبل کے بارے میں تاحال کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔