Express News:
2026-06-03@02:19:12 GMT

صفر کبھی ہندسہ نہیں بن سکتا

اشاعت کی تاریخ: 8th, May 2025 GMT

بیٹے کو ایک صوبائی ادار ے میں سات سال تک دیہاڑی دار ملازمت پر رکھ کر… اورآج کل کے مستقل کرنے کے لارے دے کر بیک بینی ودوگوش نکال دیاگیا تو گھر میں منہ لٹکائے آگیا ، دیہاڑی دار ہونے کی وجہ سے خالی ہاتھ ، جیسے سکندر دنیا سے گیا تھا ، شاید نئے منتخب شہنشاہوںکو نوازنے اوردسترخوان خالی کرنے کے لیے۔

 ماتم کے دن گزرگئے تو ہم نے اس سے کہا کہ کہیں اورکسی اور محکمے میں ڈھونڈو، شاید کہیں اپنا یہ منحوس چہرا اورسڑا بھسا نام کام دے جائے ۔ہمیں ابھی تک یہ غلط فہمی یاخوش فہمی لاحق تھی کہ کچھ ’’بڑے لوگ‘‘ ہمیں جانتے ہیں اورقدرکرتے ہیں حالانکہ بارہا یہ بھی ثابت ہوچکا ہے کہ ہم تو ان کو جانتے ہیں لیکن وہ ہمیں ذرہ بھر بھی نہیں جانتے … لیکن خوش فہیوں کاکیا کریں کہ یہی تو ہماری زندگی کے سہارے ہیں ، انسان شاید دوسروں کو اتنی کامیابی سے دھوکہ نہیں دے پاتا جتنا خود کو دھوکہ دیتا ہے۔

ایک دومحکموں میں جگہیں نکل آنے کا سنا تو میں نے اسے ہدایت کی کہ جاکر معلومات اور طریقہ کار وغیرہ معلوم کر آؤ۔ خاص طور پر بڑوں یا بااختیاروں کے بارے میں پتہ لگاؤ کہ کس ذریعے سے رام کیے جاسکتے ہیں ۔چند روز بعد آکر بولا ، سب کچھ معلوم کرآیا ہوں۔لیکن وہ جانکاریاں الفاظ کی بجائے ہندسوں میں تھیں ، ایک جاب کی ساری شرائط ،طریقہ کار اورویئر اباوٹ تھا’’اسی لاکھ‘‘ اوردوسری پوسٹ کا تھا پچاس لاکھ۔

افسروں کے بارے میں پوچھا تو بولا کہ صرف ایک ہستی کی مانتے ہیں اوروہ ہستی ہے، حضرت قائد اعظم رحمۃ اللہ علیہ۔

اب آپ ہی بتائیں کہ ہم ’’صفر صفر صفر‘‘ لوگ ہندسے کیسے بن سکتے ہیں ہم تو جدی پشتی صفر تھے صفر ہیں اورہمیشہ ہمیشہ صفر رہنے کا پکایقین ہے۔ صفر دوسرے ہندسوں کی قیمت تو بڑھا سکتے ہیں لیکن خود اپنی قیمت پیدا نہیں کرسکتے ۔صفر کو آپ کچھ بھی کریں کسی بھی جگہ کسی بھی رنگ میں یا سائز میں لکھیں صفر ہی رہے گا، اسے بڑا بڑا لکھیں، چھوٹا چھوٹا لکھیں، اوپرنیچے، آگے پیچھے، دائیں بائیں کسی بھی طرف سے دیکھیں اسے اٹھائیں گرائیں بٹھائیں لٹائیں لڑ ھکائیں اوپر اچھالیں یا نیچے گراکر اس کے اوپر کو دیں۔ ہمیشہ صفر صفر ہی رہے گا اورصفر کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہوگا یا بنے گا۔

صفر کی ایجاد کے مدعی بے شمار ہیں لیکن ہند والے زیادہ بڑے مدعی ہیں اور ہندوؤں کا یہ دعویٰ سچا بھی لگتا ہے کہ ایسی اسٹوپڈ چیزوں کی توقع ایسے ہی اسٹوپڈ لوگوں سے کی جا سکتی ہے۔دنیا جہاں سے رنگ برنگے سکے ہندسے اورسکے بلکہ ’’سقے‘‘ بھی آتے ہیں اوریہ ان سب کے ساتھ ہوکر انھیں راجہ مہاراجہ شاہ و شہنشاہ بنا دیتے ہیں اوراس کے گرد ناچ ناچ کر اس کی قیمت بڑھاتے ہیں، خود کبھی کہیں نہیں گئے ہیں کہ صفر کہیں بھی جائے، چاہے آسمان کا آفتاب مہتاب اورستارہ ہی کیوں نہ بن جائے ،اپنی چمک سے دوسروں کو چمکاتے ہیں اورخود وہ اپنا سا…کالاسا منہ لے کر رہتے ہیں ،صفر اینڈ صفر اینڈ صفر۔

ہندسوں کی بے مثال لازوال اور باکمال ’’صفریت‘‘اصفریت، صفوریت اورصفاریت کا اندازہ اس سے لگائیں کہ جہاں کہیں کوئی ’’ہندسہ‘‘ پاتے ہیں، اسے ہند میں لاکر چمکاتے بڑھاتے اورہندیاتے رہتے ہیں ، باقی دیوی دیوتاؤں ہیرؤں اوریودھاؤں کو تو چھوڑئیے کہ گوتم بدھ وغیرہ کو بھی نہ جانے کہاں سے لاکر ’’ہندیایا‘‘ بلکہ ہندسیایا کرچکے ہیں ۔

دنیا میں جتنی کہاوتیں اوراقوال ہیں وہ کبیر میں اورآج کل گاندھی میں بھرتے ہیں ۔گاندھی کا چرخا، گاندھی کی لاٹھی ، گاندھی کے تین بندر ، گاندھی کے دو ہاتھی گاندھی کے چار کتے اورگاندھی کی یہ اور وہ وہ ۔

پچھلے دنوں آج کل کے مشہور’’صفر‘‘ مودی نے کہا تھا کہ سرجری کی ابتدابھارت سے ہوئی ہے کہ شیوجی مہاراج نے پہلے اپنے بیٹے کا سرکاٹ لیا اورپھر اسے ہاتھی کا سرلگایا۔ ایک اورمورخ اور محقق نے لکھا ہے کہ ہوائی جہاز کو ’’کوبیر‘‘ نامی سائنس دان نے پہلی بار ایجاد کیاتھا جس پر اضافہ کرکے ہنومان نے سہیلی کا پیڑ ایجاد کیا تھا جس پر لکشمن کے علاج کے لیے وہ ایک پورے پہاڑ کو لاد کر لے آیا تھا جس پر سنجیونی بوٹی تھی ۔

مجھے ایک مرتبہ جب میں بھارت گیا تو ایک ہندی نے بتایا کہ گاندھی جی کاقول ہے کہ جب ’’بلی‘‘ بھی گھر جاتی ہے تو پنجہ مار کر بھیڑئیے کی آنکھ لیتی ہے۔میں نے اسے کہاکہ کمال ہے ٹھیک یہی بات شیخ سعدی نے بھی کہی ہے کہ

 ندیدی کہ چوں گر بہ عاجز شود

برآرد بہ جنگال چشم پلنگ

 لگتا ہے شیخ سعدی نے یہ بات گاندھی سے چرائی ہے ۔

بات کہاں اورکس جانب لڑھک گئی ، یہی تو ہم صفر صفر لوگوں کاالمیہ ہے کہ کسی بھی طرف لڑھک کر کسی ہندسے کے ساتھ ہوجاتے ہیں ،اصل بات تو میں نے اپنے بیٹے صفر ابن صفر ابن صفر کی شروع میں کی تھی جس کی نوکری سات سال ایک بلیک بورڈ پر ہندسوں اورہند سوالوں کی صحبت میں ان کے آگے پیچھے ہوکر ہندسہ نہیں بن پائی اورصفر ہوکر اپنے صفرستان میں واپس آگئی تھی اورہم ہزاربار منہ کی کھا کر بھی ہندسوں کے اس بے پناہ ہجوم میں ان کے آگے پیچھے ہورہے کہ شاید شاید شاید … جب کہ ہمیں بھی اچھی طرح یہ بھی معلوم ہے کہ اس شاید کے آگے بھی ہمارا نصیب صرف ’’صفر‘‘ ہی ہے

جس نے سو باردل کو لوٹا ہے

 ہم ابھی تک ہیں اس کے دیوانے

ان کو کوئی بھی کچھ نہیں کہتا

لوگ آتے ہیں مجھ کو سمجھانے

ایک انصاف دار سے ہم نے پوچھا یہ کہاں کاانصاف ہے کہ ایک شخص کو سات وعدوں پر لٹکائے رکھو اورپھر اسے کہو معاف کروبابا

تو اس نے کہا یہ وہاں کا انصاف ہے جہاں ہرطرف انصاف ہی انصاف ہے ٹھیک صفر کی طرح۔

ترے وعدے پر کہاں تک میرادل فریب کھائے

کوئی ایسا کر بہانہ میری آس ٹوٹ جائے

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کسی بھی ہیں اور

پڑھیں:

عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی

بین الاقوامی سیاست کے افق پر بعض لمحات ایسے طلوع ہوتے ہیں جو محض روزمرہ سفارتی سرگرمیوں کا حصہ نہیں ہوتے بلکہ تاریخ کے دھارے میں ایک معنی خیز موڑ کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ آج مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر اسی نوع کی بے یقینی، اضطراب اور کشمکش سے دوچار ہے۔

ایک طرف جنگ کے بادل ہیں جو لبنان، غزہ اور خطے کے دیگر حساس مقامات پر مسلسل گہرے ہوتے جا رہے ہیں، دوسری طرف سفارت کاری کی وہ نحیف مگر روشن کرن بھی موجود ہے جو انسانیت کو ایک بڑے تصادم سے بچانے کی جدوجہد کر رہی ہے۔ ایسے نازک ماحول میں پاکستان کے کردار کو عالمی سطح پر ملنے والی پذیرائی نہ صرف قومی سفارت کاری کی کامیابی کا اعتراف ہے بلکہ اس حقیقت کی علامت بھی ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں پاکستان کو ایک ذمے دار، متوازن اور قابلِ اعتماد ریاست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس کی جانب سے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہنا بظاہر ایک بیان ہے، مگر اس کے مضمرات کہیں زیادہ گہرے ہیں۔ عالمی سیاست میں تعریف کے الفاظ اکثر مفادات کے پردے میں لپٹے ہوتے ہیں، لیکن جب کسی ملک کی ثالثی کی صلاحیت، اس کی قائدانہ بصیرت اور امن کے لیے اس کی سنجیدہ کوششوں کا اعتراف مختلف بین الاقوامی حلقوں سے ہونے لگے تو یہ محض سفارتی آداب نہیں رہتے بلکہ ایک نئی حقیقت کا اظہار بن جاتے ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی گزشتہ نصف صدی سے عالمی سیاست کے حساس ترین موضوعات میں شمار ہوتی رہی ہے۔

ان دونوں ممالک کے درمیان محاذ آرائی صرف دو ریاستوں کا تنازع نہیں بلکہ اس کے اثرات توانائی کی عالمی منڈیوں، بین الاقوامی تجارت، علاقائی سلامتی اور عالمی اقتصادی استحکام تک پھیل جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں اگر پاکستان نے متعدد مواقع پر دونوں فریقوں کو جنگ کے دہانے سے واپس لانے میں کردار ادا کیا ہے تو یہ ایک ایسی کامیابی ہے جسے محض رسمی تعریف کے پیمانے سے نہیں ناپا جا سکتا۔ یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ موجودہ عالمی نظام میں طاقت کی تعریف تبدیل ہو رہی ہے۔

ماضی میں عسکری قوت کو ریاستی برتری کی سب سے بڑی علامت سمجھا جاتا تھا، مگر آج دنیا بتدریج اس نتیجے پر پہنچ رہی ہے کہ مستقل اثر و رسوخ صرف وہی ریاست حاصل کر سکتی ہے جو تنازعات کے حل میں معاون ثابت ہو، جو پل تعمیر کرے، دیواریں نہیں؛ جو رابطے پیدا کرے، فاصلے نہیں۔ پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیاں اسی نئے تصور قوت کی عکاسی کرتی ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ روابط کی راہیں ہموار کرنا، مختلف سطحوں پر اعتماد سازی کے عمل کو زندہ رکھنا اور کشیدگی کو جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنے کی کوشش کرنا درحقیقت ایک ایسی ذمے داری ہے جس کے نتائج پوری دنیا پر مرتب ہوتے ہیں۔ دوسری طرف لبنان کی صورتحال عالمی ضمیر کے لیے ایک کڑا امتحان بن چکی ہے۔

اسرائیلی حملوں، حزب اللہ کے ساتھ جاری محاذ آرائی اور علاقائی طاقتوں کی مداخلت نے اس ملک کو ایک مرتبہ پھر عدم استحکام کے بھنور میں دھکیل دیا ہے۔ لبنان ایک ایسا معاشرہ ہے جو پہلے ہی معاشی بحران، سیاسی تقسیم اور سماجی مشکلات کا شکار ہے۔ ایسے میں مسلسل عسکری کارروائیاں نہ صرف اس کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا رہی ہیں بلکہ لاکھوں شہریوں کے مستقبل کو بھی تاریکی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔

 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے رابطہ اور بیروت میں ممکنہ کارروائی کو روکنے کی کوشش اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ واشنگٹن بھی اس بحران کے ممکنہ نتائج سے پوری طرح آگاہ ہے۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں سفارتی بیانات اور زمینی حقائق کے درمیان ہمیشہ ایک وسیع فاصلہ موجود رہا ہے۔ ایک جانب جنگ بندی کے اعلانات ہوتے ہیں، دوسری جانب گولہ باری، فضائی حملے اور عسکری پیش قدمی جاری رہتی ہے۔ یہی تضاد عالمی سفارت کاری کی ساکھ کو مجروح کرتا ہے اور متحارب فریقوں کے درمیان عدم اعتماد کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔

 نیتن یاہو کی جانب سے جنوبی لبنان میں کارروائیاں جاری رکھنے کے اعلانات دراصل اسی پیچیدہ حقیقت کی ترجمانی کرتے ہیں۔ اسرائیل اپنی سلامتی کے نام پر عسکری اقدامات کو ناگزیر قرار دیتا ہے، جب کہ لبنان اور خطے کی دیگر قوتیں انھیں جارحیت اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتی ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب ہر فریق اپنی کارروائی کو دفاع اور دوسرے کے عمل کو جارحیت قرار دینے لگے تو پھر امن کا راستہ مزید دشوار ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں بین الاقوامی اداروں اور ثالث ریاستوں کا کردار فیصلہ کن اہمیت اختیار کر لیتا ہے۔

 لبنان میں ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کے اعداد و شمار محض شماریاتی معلومات نہیں بلکہ انسانی المیوں کی ایک طویل داستان ہیں۔ ہزاروں جانوں کا ضیاع اور لاکھوں انسانوں کی بے یقینی اس بات کا ثبوت ہے کہ جنگ کبھی بھی صرف فوجیوں کے درمیان نہیں ہوتی، اس کا سب سے بھاری بوجھ ہمیشہ عام شہریوں کے کندھوں پر آتا ہے۔ ایک ماں کی آغوش اجڑتی ہے، ایک بچے کا مستقبل تاریک ہوتا ہے، ایک خاندان اپنے سہارے سے محروم ہو جاتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ عالمی سیاست میں اکثر انسانی دکھ کو جغرافیائی مفادات کے شور میں نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

 ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ جاری مذاکراتی عمل کو معطل کرنے کی اطلاعات اسی بگڑتی ہوئی صورتحال کا منطقی نتیجہ معلوم ہوتی ہیں، اگرچہ اس حوالے سے سرکاری سطح پر مکمل وضاحت سامنے نہیں آئی، تاہم ایرانی قیادت کے بیانات واضح کرتے ہیں کہ لبنان میں جاری کارروائیاں اعتماد کے ماحول کو شدید نقصان پہنچا رہی ہیں۔

سفارت کاری کا بنیادی اصول یہ ہے کہ مذاکرات طاقت کے استعمال کا متبادل ہوتے ہیں، لیکن جب میدانِ جنگ مسلسل گرم رہے تو مذاکراتی میز پر سنجیدہ پیش رفت تقریباً ناممکن ہو جاتی ہے۔ ایران کا یہ مؤقف کہ جنگ بندی کا اطلاق تمام محاذوں پر ہونا چاہیے، بین الاقوامی اصولوں کے تناظر میں خاصی اہمیت رکھتا ہے، اگر ایک معاہدہ صرف مخصوص علاقوں تک محدود رہے اور دوسرے مقامات پر عسکری کارروائیاں جاری رہیں تو اس کی حیثیت ایک عارضی سیاسی انتظام سے زیادہ نہیں رہتی۔ اس پورے بحران نے اقوام متحدہ کے کردار پر بھی کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس، تشویش کے بیانات اور قراردادوں کے مسودے اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ عالمی ادارے اکثر طاقتور ریاستوں کے سیاسی مفادات کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔

بین الاقوامی قانون کی بالادستی کا تصور اسی وقت معتبر رہ سکتا ہے جب اس کا اطلاق سب پر یکساں ہو، اگر بعض ریاستوں کے لیے ایک معیار اور دوسروں کے لیے دوسرا معیار اختیار کیا جائے تو عالمی نظام کی اخلاقی بنیادیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے سلامتی کونسل میں اختیار کیا گیا مؤقف خاص اہمیت رکھتا ہے۔ لبنان کی صورتحال کو ایک انسانی بحران قرار دینا دراصل اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ جنگوں کو محض عسکری زاویے سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ انسانی جانوں کا تحفظ، بنیادی حقوق کی پاسداری اور شہری آبادی کا امن ہر قسم کی سیاسی مصلحت سے بالاتر ہونا چاہیے۔

پاکستان نے مسلسل یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ تنازعات کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کے دائرے میں تلاش کیا جانا چاہیے۔ یہی مؤقف آج خطے کی ضرورت بھی ہے اور عالمی امن کا تقاضا بھی۔ اس پوری صورتحال کو اگر وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک تاریخی دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک راستہ مسلسل عسکری تصادم، انتقامی کارروائیوں اور بڑھتی ہوئی نفرت کی طرف جاتا ہے۔ دوسرا راستہ مکالمے، مفاہمت اور سیاسی حل کی جانب لے جاتا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ جنگ کا راستہ ہمیشہ زیادہ شور پیدا کرتا ہے جب کہ امن کی کوششیں خاموشی سے آگے بڑھتی ہیں۔ میڈیا کی شہ سرخیوں میں بمباری کی آواز زیادہ سنائی دیتی ہے، مگر سفارت کاری کی خاموش محنت اکثر نظروں سے اوجھل رہتی ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں بالآخر مذاکراتی میز پر ہی ختم ہوتی ہیں۔ کوئی بھی تنازع مستقل طور پر بارود کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکا۔ انسانی تہذیب کی بقا، اقتصادی ترقی اور عالمی استحکام کا انحصار بالآخر مکالمے پر ہی ہوتا ہے۔ آج لبنان، ایران، امریکا اور اسرائیل کے گرد گھومتا بحران اسی ابدی حقیقت کی ایک نئی یاد دہانی ہے، اگر عالمی قیادت نے دانش کا راستہ اختیار کیا تو یہ خطہ ایک اور بڑے سانحے سے بچ سکتا ہے، لیکن اگر طاقت کے استعمال کو ہی واحد حل سمجھا گیا تو اس کے نتائج صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کو عدم استحکام کی نئی لہر کا سامنا کرنا پڑے گا۔ایسے میں پاکستان کی آواز، جو جنگ کے شور میں امن، مفاہمت اور مذاکرات کی بات کر رہی ہے، محض ایک سفارتی مؤقف نہیں بلکہ ایک اخلاقی ضرورت اور بین الاقوامی ذمے داری کی علامت بن چکی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو تباہی کے اندھیروں سے نکل کر امن، استحکام اور مشترکہ انسانی مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
  • نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ