بھارت بیانیہ کی جنگ میں ناکام ہو چکا ہے، اب اپنی خفت مٹانے کے لئے ان مینڈ ڈرونز سے حملہ کیا:عطاء اللہ
اشاعت کی تاریخ: 8th, May 2025 GMT
بھارت نے اپنی خفت اور شرمندگی مٹانے کے لئے unmanned ڈرونز بھیجنے شروع کئے۔ ان کے پائلٹ اب شاید کہتے ہوں گے کہ ہم کیوں جائیں مار کھانے کے لئے، آپ نے تو کہا تھا کہ سپیریئر ٹیکنالوجی ہے، بات جہاز کی نہیں ہوتی بات جہاز اڑانے والے کی ہوتی ہے کہ اس میں کتنی ہمت اور کتنا حوصلہ ہے، عطاء جب وہ ڈر گئے اور اپنے جہاز اور پائلٹس نہ بھیج سکے کیونکہ ہم نے ان کے پانچ جہاز اور سات ڈرونز بھی گرائے تھے جس رات انہوں نے ریفائل سے حملہ کیا، ہم نے ان کے 25 ڈرونز گرائے، کچھ ڈرونز کو سافٹ ہٹ اور کچھ ڈرونز کو اپنے ایئر ڈیفنس سسٹم کے ذریعے ہارڈ ہٹ سے گرایا گیا، عطاء اللہ تارڑ یہ چھپانا چاہتے تھے کہ ملبہ نظر نہ آئے مگر جہاز کا ملبہ کیسے چھپ سکتا ہے تو انڈین میڈیا نے پوری دنیا کو دکھا دیا کہ پاکستان نے ہمارے جہاز گرا دیئے ہیں۔ اب شرمندگی اور خفت مٹانے کے لئے سو بہانے کر لیں، مگر ہم نے جو ڈرونز گرائے ہیں وہ جگہ جگہ ہماری وار ٹرافیاں ہیں، ہم انہیں میوزیم ہم تیار ہیں، ہماری مسلح افواج ہمہ وقت تیار رہتی ہیں، ملکی دفاع مضبوط ترین ہاتھوں میں ہیں۔ پاکستان کے ایئر ڈیفنس سسٹم نے سافٹ ہٹ اور ہارڈ ہٹ ان ڈرونز کو ٹارگٹ کیا ہے، لائن آف کنٹرول پر نہ صرف 40 سے 50 بھارتی فوجی ہلاک کئے بلکہ ان کا بریگیڈ ہیڈ کوارٹرز بھی گرایا۔ روایتی جنگ میں یہ بہت بڑی کامیابی ہوتی ہے کہ آپ پورے بریگیڈ ہیڈ کوارٹرز کو اڑا دیں اس کی مثال بہت کم ملتی ہیں۔ بھارت کو لائن آف کنٹرول شدید نقصان پہنچا ہے، بھارت نے شہری آبادی، عورتوں اور بچوں کو نشانہ بنایا۔ ہم نے منہ توڑ جواب دیا، ہم نے ان کے جہاز گرائے، لائن آف کنٹرل پر ان کی ملٹری انسٹالیشن کو نقصان پہنچایا، ان کے فوجی ہلاک کئے، یہ جواب ہوتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: کے لئے
پڑھیں:
ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
ایرانی سفیر رضا امیری مقدم(فائل فوٹو)۔پاکستان میں متعین ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ ٹرمپ کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ میناب میں اسکول اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، امریکا اور اسرائیل کو 40 روزہ جنگ کے بعد شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے مزید کہا کہ مذاکرات کے حوالے پاکستان ثالث کے طور پر ابھرا، ہم مذاکرات میں اس لیے آئے کہ ہماری نیت ہے، ٹرمپ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔
ایرانی سفیر نے کہا ہمارے رہبر اعلیٰ نے فتویٰ دیا ہوا ہے کہ ہم ایٹمی ہتھیاروں کو حرام سمجھتے ہیں، مذاکرات کی میز پر امریکی کہتے ہیں آپ یورینیم بھی افزودہ نہیں کرسکتے۔
رضا امیری مقدم نے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں اور پرامن مقاصد کیلئے یورینیم افزودہ کرنا الگ ہے، امریکا اور مغرب کے سامنے ایران کبھی نہیں جھکے گا۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ ٹرمپ صبح سے شام تک دیوانوں کی طرح باتیں کرتے رہتے ہیں، ان کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔