یہ وقت ملک کے دفاعی اداروں کو مضبوط کرنے کا ہے، ملکی وحدت کیلئے ہم ایک ہیں: مولانافضل الرحمان
اشاعت کی تاریخ: 9th, May 2025 GMT
یہ وقت ملک کے دفاعی اداروں کو مضبوط کرنے کا ہے، ملکی وحدت کیلئے ہم ایک ہیں: مولانافضل الرحمان WhatsAppFacebookTwitter 0 9 May, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(آئی پی ایس) سربراہ جمعیت علما اسلام مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ یہ وقت ملک کے دفاعی اداروں کو مضبوط کرنے کا ہے اور ملکی وحدت کیلئے ہم ایک ہیں۔
قومی اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا جے یو آئی نے آج یوم دفاع وطن کے طور پر منانے کا فیصلہ کیا ہے، 11 مئی کو پشاور میں ملین مارچ ہو گا اور 15 مئی کو کوئٹہ میں ملین مارچ ہو گا، عوام یکجہتی کا اظہار کریں گے۔
ان کا کہنا تھا حکومت نے کہا شہری دفاع کے لیے نوجوان نام لکھوائیں، ہم نے انصار السلام کو شہری دفاع کے لیے ذمہ داری سونپ دی ہے، آج پاکستان کے دفاع میں پہلے مورچے پر جو لڑ رہا ہے وہ دینی مدرسے کا نوجوان ہے۔
مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا موجودہ صورتحال میں سفارتی سرگرمیوں سے متعلق میں مطمئن نہیں ہیں، ہمارا کوئی سفارتی مشن بیرون ملک نہیں، صرف ٹیلی فون پر گفتگو کی گئی، ہمیں چین، سعودی عرب، ایران اور افغانستان کو انگیج کرنا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا غزہ مکمل طور پر ختم ہو چکا، لوگ بے گھر ہیں، یہ وقت ملک کے دفاعی اداروں کو مضبوط کرنے کا ہے، ہم دفاعی اداروں کو مضبوط کریں ان کی پشت پر کھڑے ہوں، ملک کی وحدت کے لیے ہم ایک ہیں، یہ جنگ ہے، جنگ میں پھول نہیں آگ برستی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حقیقت ہے کہ اس وقت پاکستان بھارتی جارحیت کے مقابلے میں محاز پر ہے، بھارت نے مساجد، مدارس اور سویلین علاقوں پر راکٹ داغے، ہمارے بہن بھائی شہید ہوئے، پاکستان کی فوج نے بہادری کے ساتھ، خوبصورت حکمت عملی سے دفاع کیا۔
مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا حکومت یا اسٹیبلشمنبٹ سے نہیں پوچھتا کہ آپ کی کیا حکمت عملی ہے، ملکی مفاد میں آپ کی صف میں کھڑا ہوں،آپ بھی میرے ساتھ صف میں کھڑے ہوں۔
ان کا کہنا تھا لوگ انفرادی طور پر سوشل میڈیا پر پوسٹ لگا رہے ہیں، وہ جنگ کو مذاق سمجھ رہے ہیں، ان کا فوج کے بارے میں تضحیک آمیز رویہ ہوتا ہے، حکومت کو ان پر پابندی لگانی چاہیے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرسی ڈی اے نے جدید فائر فائٹنگ فورس قائم کر دی، ہنگامی حالات سے نمٹنے کی مکمل تیاری سی ڈی اے نے جدید فائر فائٹنگ فورس قائم کر دی، ہنگامی حالات سے نمٹنے کی مکمل تیاری پاک فوج کی جوابی کارروائیوں پر بھارتی بوکھلاہٹ، آئی پی ایل کو ہی معطل کردیا خطرناک صورتحال کا تمام تر ذمہ دار بھارت ہے، پورا خطہ جنگ کے دہانے پر ہے، محسن نقوی بھارت کی ایل او سی پر گولہ باری، 5شہری شہید، پاک فوج کی جوابی کارروائی سے کئی پوسٹیں تباہ عمران خان کی زندگی کو اڈیالہ جیل میں شدید خطرہ ہے، علی امین گنڈاپور کا دعویٰ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر 9 مئی کو شیڈول کیمبرج امتحانات منسوخCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: ہم ایک ہیں
پڑھیں:
جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
تقریب سے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی، معروف عالمِ دین مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی، معروف اہلِ سنت عالمِ دین مفتی فضل ہمدرد، مولانا سید عروج زیدی اور مولانا سید فرخ عباس سمیت دیگر نے خطاب کیا۔ اس موقع پر شرکاء کے لیے سبیلِ حسینی اور تبرکات کا خصوصی اہتمام کیا گیا، جبکہ ماحولیاتی آلودگی سے آگاہی کے فروغ کے لیے مفت پودے بھی تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر میناب اسکول کے شہداء کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔ متعلقہ فائیلیںرپورٹ: میثم عابدی
جامعہ کراچی میں آئی ایس او ڈسٹرکٹ پروفیشنل اور دفترِ مشیر امورِ طلبہ کے زیر اہتمام سالانہ یومِ حسینؑ نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا، جس میں جامعہ کے اساتذہ، طلبہ، علمائے کرام اور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ حضرت امام حسینؑ کی عظیم قربانی رہتی دنیا تک حق و باطل کے درمیان امتیاز کی علامت بنی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے کربلا کی قربانی کا مقصد انسانیت کو گمراہی کے اندھیروں سے نکال کر ہدایت کی روشنی سے آشنا کرنا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ آج جمہوری اسلامی ایران امریکا اور اسرائیل کے خلاف جس استقامت اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کر رہا ہے، وہ تعلیماتِ حسینی کا عملی مظہر ہے۔ تقریب کے مقررین میں معروف عالمِ دین مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی نے کہا کہ کربلا شعور، بصیرت اور حق شناسی کا راستہ ہے، حضرت امام حسینؑ نے اپنی لازوال قربانی سے دینِ اسلام کو نئی حیات عطا کی جبکہ سیدالشہداءؑ سے محبت درحقیقت رسولِ اکرم ﷺ سے محبت کا اظہار ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے کربلا کی قربانی تاریخِ انسانیت کی عظیم ترین قربانی ہے۔
معروف اہلِ سنت عالمِ دین مفتی فضل ہمدرد نے اپنے خطاب میں کہا کہ حضرت امام حسینؑ نے دینِ اسلام کی سربلندی اور حق کی بقا کے لیے عظیم قربانی پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ حسینیت کا راستہ ہی پاکستان میں امن، اتحاد اور باہمی ہم آہنگی کو فروغ دے سکتا ہے۔ اسی موقع پر مولانا سید عروج زیدی نے کہا کہ واقعۂ کربلا پوری انسانیت کے لیے ایک ہمہ گیر نمونۂ عمل ہے، جو انسان کو بیداری، حق شناسی اور ظلم کے خلاف ڈٹ جانے کا درس دیتا ہے۔ تقریب کے درمیان شیعہ اور سنی شرکاء نے مولانا سید فرخ عباس کی اقتدا میں باجماعت نمازِ ظہرین ادا کی۔ شرکاء کے لیے سبیلِ حسینی اور تبرکات کا خصوصی اہتمام کیا گیا، جبکہ ماحولیاتی آلودگی سے آگاہی کے فروغ کے لیے مفت پودے بھی تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر میناب اسکول کے شہداء کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔ یوم حسینؑ میں مختلف طلبہ تنظیموں کے رہنما بھی شریک تھے۔