پنجاب اسمبلی، آپریشن "بنیان مرصوص" کے ہیروز کو خراجِ تحسین پیش کرنے کی قرارداد جمع
اشاعت کی تاریخ: 11th, May 2025 GMT
قرار داد میں کہا گیا کہ پاکستانی پائلٹس نے دشمن کے جدید ترین وسائل کو بے اثر کر کے تاریخ رقم کی، پاک فضائیہ کی تکنیکی برتری اور فولادی عزم نے دشمن کے حوصلے پست کیے، قوم ان غازیوں اور شہداء کو سلام پیش کرتی ہے جنہوں نے مادرِ وطن کا دفاع کیا۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ حکومت آپریشن "بنیان مرصوص" کو قومی نصاب اور تقریبات کا حصہ بنائے، شہداء اور غازیوں کو اعلیٰ ترین قومی اعزازات سے نوازا جائے، یہ ایوان اس عزم کا اعادہ کرتا ہے کہ پاکستان ناقابلِ تسخیر ہے۔ پنجاب اسمبلی میں آپریشن "بنیان مرصوص" کے ہیروز کو خراجِ تحسین پیش کرنے کی قرارداد جمع کروا دی گئی۔ قرارداد مسلم لیگ ن کی رکن حنا پرویز بٹ کی جانب سے جمع کروائی گئی۔ قرارداد کے متن کے مطابق ایوان پاک فضائیہ کی بے مثال عسکری مہارت ،پیشہ ورانہ چابک دستی کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہے، آپریشن "بنیان مرصوص" دشمن کے عزائم کو ناکام بنانے کی سنہری مثال ہے۔ قرار داد میں کہا گیا کہ پاکستانی پائلٹس نے دشمن کے جدید ترین وسائل کو بے اثر کر کے تاریخ رقم کی، پاک فضائیہ کی تکنیکی برتری اور فولادی عزم نے دشمن کے حوصلے پست کیے، قوم ان غازیوں اور شہداء کو سلام پیش کرتی ہے جنہوں نے مادرِ وطن کا دفاع کیا۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ حکومت آپریشن "بنیان مرصوص" کو قومی نصاب اور تقریبات کا حصہ بنائے، شہداء اور غازیوں کو اعلیٰ ترین قومی اعزازات سے نوازا جائے، یہ ایوان اس عزم کا اعادہ کرتا ہے کہ پاکستان ناقابلِ تسخیر ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: بنیان مرصوص میں کہا گیا نے دشمن کے
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔