اپنے بیان میں بی این پی کے رہنماء غلام نبی مری نے کہا ہے کہ حالیہ احتجاجی جلسے جلوسوں سے حکومت شدید بوکھلاہٹ کا شکار ہے اور وہ بلوچ قوم پرستوں کے جمہوری جدوجہد سے خوفزدہ ہو کر اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ بلوچستان نیشل پارٹی کے رہنماؤں غلام نبی مری، جمال لانگو و دیگر نے پارٹی کے سینئر رہنماء اور ممبر مرکزی کونسل حاجی وحید لہڑی کے خلاف ایف آئی آر کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بی این پی کے حالیہ احتجاجی جلسے جلوسوں سے حکومت شدید بوکھلاہٹ کا شکار ہے اور وہ بلوچ قوم پرستوں کے جمہوری جدوجہد سے خوفزدہ ہو کر اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئی ہے۔ انکا کہنا تھا کہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ سمیت بی وائی سی کی مرکزی قیادت کو گرفتار کرنے کے بعد بی این پی کے کارکنوں کی گرفتاریاں اور بے بنیاد ایف آئی آرز اس حقیقت کا واضح ثبوت ہے کہ حکومت سیاسی کارکنوں کو پولیس اور قید و بند کے ذریعے خوفزدہ و ہراساں کرنے اور انہیں سیاسی جدوجہد سے باز رکھنے کے راستے پر چل پڑی ہے۔ مگر وہ یاد رکھے کہ ہم کبھی بھی اپنی جدوجہد سے پیچھے نہیں ہٹیں گے اور قائد بلوچستان سردار اختر جان مینگل کی قیادت میں بلوچ قوم کے ننگ و ناموس کی دفاع اور ساحل و وسائل پر واگ و اختیار کے حصول سے کبھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ ایسے ناروا ایف آئی آر اور قید و بند کی سعوبتوں سے بی این پی کے نظریاتی کارکن نہ پہلے کبھی خوفزدہ ہوئے تھے اور نہ آئندہ کبھی ہوں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: بی این پی کے

پڑھیں:

ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔

متعلقہ مضامین

  • وسیم، مصباح اور فخرِ عالم نے حج کرکے بال کیوں نہیں منڈوائے؟
  • جھانوی کپور کی وائرل ویڈیو، پروموشنل ایونٹ میں خوفزدہ ردعمل
  • روس سے طالبان کے بڑھتے روابط پر افغان سوشل میڈیا میں بحث، ملا عمر کی جدوجہد اور موجودہ پالیسیوں کا موازنہ
  • جمال رئیسانی کا بی وائی سی اور کالعدم بی ایل اے کے مبینہ روابط کا دعویٰ، خواتین کے استعمال کو بلوچ روایات کے خلاف قرار دے دیا
  • گمشدہ لڑکیاں اور معاشرتی بحران: ایک سنجیدہ عدالتی جائزہ
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • ناتمام (آخری قسط)
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • جو ایم پی اے بانی کی رہائی کے لئے جدوجہد کرے گا وہ پاکستان کا سب سے بڑا ہیرو ہو گا ؛علیمہ خانم
  • حکمران ہم سے خوفزدہ، ہمارا فوکس بانی پی ٹی آئی کی رہائی ہے، علیمہ خان