جوہری حدود اور امن کی نازک نوعیت
اشاعت کی تاریخ: 12th, May 2025 GMT
22اپریل2025ء کو بھارتی کشمیر میں ہندو سیاحوں پرفالس فلیگ حملے کے بعد،بھارت نے پاکستان پراس حملے کاالزام عائدکیا۔اس کے ردعمل میں،7مئی2025ء کو بھارت نے ’’آپریشن سندور‘‘کے تحت آزاد کشمیر میں 9مقامات پر میزائل حملے پاکستان اورآزادکشمیرمیں مساجد اور عام شہریوں کونشانہ بناتے ہوئے جن میں خواتین اور بچے شامل ہیں۔پاکستان کے مطابق ان حملوں میں31افرادہلاک ہوئے،جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، اور متعددمساجداورتعلیمی ادارے بھی متاثرہوئے۔دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر ڈرون حملوں اور فضائی خلاف ورزیوں کے الزامات عائد کیے ہیں۔بھارت نے پاکستان کے اندر متعددمقامات پرفضائی حملے کیے،جن میں لاہور میں واقع ایک چینی ساختہ ’’ایچ کیو،9بی ای‘‘ فضائی دفاعی نظام بھی شامل تھا،جس کی آزاد ذرائع نے بھی نفی کردی ہے۔
پاکستانی فوج کے ترجمان کاکہناہے کہ انڈیا نے پہلے دن چھ مقامات پرمختلف اسلحہ استعمال کرتے ہوئے مجموعی طورپر24حملے کیے تھے۔ پاکستانی فوج کے ترجمان نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ انڈیا کے پہلے دن کے میزائل حملوں کے بعدجوابی کارروائی میں پاکستان نے انڈین فضائیہ کے پانچ جنگی طیارے اورایک ڈرون مارگرانے کے شواہد پیش کردیئے۔واضح رہے کہ یہ پہلاموقع نہیں جب انڈیاکی جانب سے کوئی میزائل پاکستان سرزمین پرآگراہو۔مارچ2022ء میں بھی انڈیاکی جانب سے ایک براہموس میزائل پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہرمیاں چنوں کے قریب آگرا تھا۔ تاہم اس میزائل حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہواتھا۔
اگرچہ انڈیانے اس واقعے کے متعلق جاری بیان میں کہاتھاکہ یہ میزائل حادثاتی طور پر پاکستان کی طرف داغاگیاتھاجبکہ پاکستانی فوج کے ترجمان جنرل بابرافتخارنے ذرائع ابلاغ کوتفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایاتھاکہ پاکستان حدودمیں داخل ہونے والا’’انڈین پروجیکٹائل‘‘ زمین سے زمین تک مارکرنے والاسپرسونک میزائل تھا۔ پاکستان نے دعویٰ کیاتھاکہ ابتدائی جانچ پڑتال سے معلوم ہواکہ یہ میزائل سپر سونک کروزمیزائل تھاجوآوازکی رفتارسے تین گنا فاصلہ طے کرنے کی صلاحیت رکھتاہے اوریہ پاکستان کی حدود میں تین منٹ44سیکنڈتک رہنے کے بعدگرکرپاکستان کی سرحدمیں 124 کلو میٹر اندر آکرتباہ ہوا۔ پاکستانی عسکری ذرائع نے یہ بھی دعویٰ کیاتھاکہ پاکستان کے ایئر ڈیفنس سسٹم نے اس میزائل کی نگرانی تب سے شروع کردی تھی جب اسے انڈیاکے شہرسرساسے داغاگیاتھا۔اس کی پروازکے مکمل دورانیے کامسلسل جائزہ لیاگیا۔
2019ء میں بالاکوٹ حملے اورانڈین طیارہ گرائے جانے کے بعددونوں ملکوں نے نیا دفاعی سازوسامان خریداہے۔جیسے انڈین ایئرفورس کے پاس اب36فرانسیسی ساختہ رفال جنگی طیارے ہیں۔پاکستانی فوج کادعویٰ ہے کہ انہوں نے حالیہ حملے میں جوابی کارروائی کے دوران تین رفال طیاروں سمیت پانچ طیارے مارگرائے ہیں اوراب تک79ڈرون بھی گرائے گئے ہیں جس میں اسرائیلی ڈرون ہاروپ بھی شامل ہیں جن کودنیامیں ناقابل تسخیرسمجھاجاتاتھالیکن پاکستان نے یہودہنود کا غرورخاک میں ملاکررکھ دیاہے۔تاہم انڈیا نے اس کی تصدیق نہیں کی ہے.
لندن میں قائم انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ آف سٹرٹیجک سٹڈیزکے مطابق اسی دورانیے میں پاکستان نے چین سے کم ازکم20 جدید جے10جنگی طیارے حاصل کیے ہیں جوکہ پی ایل 15میزائلوں سے لیس ہیں۔جہاں تک ایئرڈیفنس کی بات ہے تو2019ء کے بعدانڈیانے روسی ایس400اینٹی ایئرکرافٹ میزائل سسٹم حاصل کیاجبکہ پاکستان کوچین سے ایچ کیو9فضائی دفاعی نظام ملاہے جبکہ پاکستانی فضائیہ کے پاس اپنی فضائی صلاحیتوں میںایڈوانسڈایریل پلیٹ فارمز،ہائی ٹو میڈیم ایلٹیٹوڈایئرڈیفنس سسٹم،بغیرپائلٹ کامبیٹ ایریل وہیکلز،سپیس،سائبر، الیکٹرانک وارفیئر اور مصنوعی ذہانت سے چلنے والے سسٹمزموجود ہیں۔
انڈیاکے پاکستان پراس حملے کے بعدچند اہم سوالات پیداہوئے ہیں کہ کیاپاکستان کافضائی دفاعی نظام انڈیاکی جانب سے آنے والے میزائلوں کوبڑی حدتک روکنے کی صلاحیت رکھتا ہے؟ اوریہ کہ پاکستان انڈین فضائی حدود سے داغے گئے میزائلوں کو ہدف تک پہنچنے سے قبل فضامیں ہی تباہ کیوں نہیں کرپایا؟
پاکستان کے فضائی دفاعی نظام میں چینی ساختہ ’’ایچ کیو،9بی ای‘‘شامل ہیں۔’’ایچ کیو،9 بی ای‘‘ سسٹم 260کلومیٹرتک کی رینج میں لڑاکا طیاروں کونشانہ بناسکتاہے اور50کلو میٹر تک کی رینج میں فضائی سے زمین پرمارکرنے والے میزائلوں کوروکنے کی صلاحیت رکھتاہے تاہم، حالیہ بھارتی حملوں میں لاہورمیں واقع’’ایچ کیو،9 بی ای‘‘ سسٹمزکونشانہ بنایاگیا،جس سے پاکستان کے فضائی دفاعی نظام کونقصان پہنچانے کادعویٰ کیاگیاجس کی ابھی تک کسی بھی ذرائع سے تصدیق نہیں ہوسکی۔پاکستان کے پاس جدیدفضائی دفاعی نظام موجودہیں،جن میں چین سے حاصل کردہ پی ایل15میزائل شامل ہیں۔یہ میزائل 150 کلومیٹرسے زائدفاصلے پرہدف کونشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں اورجے ایف17 جیسے جدید لڑاکاطیاروں پرنصب کیے جاسکتے ہیں تاہم بھارت نے اپنے ایس400دفاعی نظام کا استعمال کرتے ہوئے پاکستان کے میزائل اورڈرون حملوں کو ناکام بنانے کادعویٰ کیاہے۔
پی ایل 15میزائل ایک جدیدچینی ساختہ فضاسے فضامیں مارکرنے والامیزائل ہے، جو150 کلومیٹرسے زائدفاصلے پرہدف کونشانہ بنا سکتاہے۔ یہ میزائل پاکستان کے جے ایف 17بلاک 3 طیاروں پرنصب کیے گئے ہیں اوربھارت کے جنگی طیاروں کے خلاف مؤثرثابت ہوسکتے ہیں ۔پاکستان نے حالیہ جھڑپوں میں چینی ساختہ’’ای ایل-15ای‘‘ فضا سے فضامیں مارکرنے والے میزائلوں کا استعمال کیاہے۔یہ میزائل145 کلومیٹرتک کی رینج میں ہدف کونشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور جدید’’اے ای ایس ایــ‘‘ریڈار سے لیس ہیں۔پاکستانی’’ایف17 بلااک3اور جے، 10 سی‘‘ طیاروں پرنصب یہ میزائل بھارتی رافیل اور دیگر لڑاکاطیاروں کیلئے خطرہ بن سکتے ہیں۔
پی ایل15چین کاجدید ترین میزائل ہے۔ بی وی آر(بی یانڈ ویشول رینج) ریڈار گائیڈڈسسٹم کوپاکستان نے اپنے طیاروں پرنصب کر رکھاہے علاوہ ازیں آسٹامیزال جوڈیڑھ سے دوسو کلومیٹرریجن رکھتاہے جوعام میزائل سے کہیں زیادہ موثرسمجھاجاتاہے۔فضائی برتری حاصل کرنے کیلئے یہ میزائل پاکستان کیلئے گیم چینجر ہے، خاص طورپرجب دشمن کے طیارے پاکستانی حدودسے باہرہوں۔(جاری ہے)
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: فضائی دفاعی نظام میزائل پاکستان پاکستانی فوج طیاروں پرنصب پاکستان نے پاکستان کی پاکستان کے کہ پاکستان یہ میزائل کی صلاحیت شامل ہیں بھارت نے ہیں اور ایچ کیو
پڑھیں:
لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔
جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔
حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔