وزیر اعظم کی پروفیسر ساجد میر کی رہائش گاہ آمد ، پروفیسر کے انتقال پر گہرے دکھ اور رنج کا اظہار
اشاعت کی تاریخ: 12th, May 2025 GMT
سیالکوٹ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 12 مئی2025ء)وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف امیر جمیتِ اہل حدیث، سینیٹر پروفیسر ساجد میر کی رہائش گاہ پہنچے اور پروفیسر ساجد میر کے انتقال پر گہرے دکھ اور رنج کا اظہار کیا ہے ۔ جاری اعلامیہ کے مطابق وزیراعظم نے کہاکہ ساجد میر پاکستان کی اہل بصیرت سیاسی شخصیت اور دینی اسکالر تھے جنکی رحلت سے پاکستان کے سیاسی منظر نامے میں ایک ایسا خلاء پیدا ہوگیا جو شاہد ہی کبھی پٴْر ہو سکے۔
(جاری ہے)
شہبازشریف نے کہاکہ ساجد میر نے ہمیشہ انتہاء پسندی اور فرقہ واریت کے خلاف آواز اٹھائی، جو انکی سیاست و دین کی خدمات کا سنہری باب ہے۔شہبازشریف نے کہاکہ مشکل کی اس گھڑی میں مجھ سمیت پوری قوم کی ہمدریاں ساجد میر کے اہل خانہ کے ساتھ ہیں۔وزیراعظم محمد شہباز شریف سیالکوٹ میں سابق رکن صوبائی اسمبلی اور مسلم لیگ ن کے راہنما مرحوم چوہدری ارشد وڑائچ کی رہائش گاہ بھی پہنچے ۔وزیراعظم نے مرحوم کے لیے دعائے مغفرت اور اہل خانہ کے لیے صبر و استقامت کی دعا ء کی ۔وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال اور وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ بھی وزیراعظم کے ہمراہ تھے۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے
پڑھیں:
بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رکن قومی اسمبلی نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف ایک خاموش جنگ لڑی جا رہی ہے جو بارود سے زیادہ نوجوانوں کے ذہنوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
صوبائی وزرا علی مدد جتک اور عاصم کرد گیلو کے ہمراہ کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ دشمن پاکستان اور بلوچستان کو توڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 2018 میں بشیر زیب نے جب ایک کالعدم تنظیم کی کمان سنبھالی تو حالات مزید خراب ہوئے، جبکہ جنید بشیر زیب کا رائٹ ہینڈ ہے۔
انہوں نے کہاکہ آج کی جنگ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر لڑی جا رہی ہے اور کالعدم تنظیموں کے کارندے زنگی ایپ کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیمیں سنگل ایپ کے ذریعے آپریشنل منصوبہ بندی جبکہ ڈیلٹا چیٹ کے ذریعے خفیہ بھرتیاں کرتی ہیں۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ آج دشمن صرف گولی کا استعمال نہیں کر رہا بلکہ سوشل میڈیا پر ٹرینڈز چلا کر بھی اپنا ایجنڈا آگے بڑھا رہا ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ نوجوان پہاڑوں کا رخ کریں۔
انہوں نے دعویٰ کیاکہ کالعدم تنظیموں نے اپنی سرگرمیوں میں خواتین کا استعمال بھی شروع کر دیا ہے۔ شہناز بلوچ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جلسوں میں شرکت کرتی تھیں اور ان کا باہوٹ کے ذریعے کالعدم تنظیم سے رابطہ ہوا۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے مزید کہاکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی بلوچستان کی قیادت ڈاکٹر صبیحہ کر رہی ہیں اور ان کا بھائی ایک کالعدم تنظیم کا حصہ ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کراچی سیل کی قیادت فوزیہ شاہوانی کررہی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بلوچستان سیاست خاموش جنگ نوابزادہ جمال رئیسانی وی نیوز