سانحہ 12 مئی کو 18 سال گزرگئے، ذمہ دار آج تک قانون کی گرفت سے باہر
اشاعت کی تاریخ: 12th, May 2025 GMT
سانحہ 12 مئی کے زیرِ سماعت 7 مقدمات میں سے ایک مقدمے کا فیصلہ ہوا جس میں ملزمان کو بری کردیا گیا جب کہ 6 مقدمات انسداد دہشتگردی کی عدالتوں میں زیرِ سماعت ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ کراچی میں ہونے والے سانحہ 12 مئی کو 18 سال گزر گئے لیکن ذمہ دار آج بھی قانون کے شکنجے سے آزاد ہیں۔ سانحہ 12 مئی کے زیرِ سماعت 7 مقدمات میں سے ایک مقدمے کا فیصلہ ہوا جس میں ملزمان کو بری کردیا گیا جب کہ 6 مقدمات انسداد دہشتگردی کی عدالتوں میں زیرِ سماعت ہیں۔ 12 مئی 2007 کو کراچی میں قتل کیے گئے 50 سے زائد شہریوں کے اہلخانہ آج بھی انصاف کے منتظر ہیں۔ واضح رہے کہ 12 مئی 2007 کو فائرنگ کے واقعات اُس وقت کے چیف جسٹس افتخار چوہدری کی کراچی آمد پر رونما ہوئے تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
کراچی، 7 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
کراچی کے علاقے کیماڑی سے 7 سالہ بچی کو اغوا اور زیادتی کے بعد قتل کرنے والا ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک ہوگیا۔
ایس ایس پی کیماڑی سنگھار ملک نے بتایا کہ جیکسن پولیس دعا کے اغوا، زیادتی کے بعد قتل کیس کی تفتیش میں مصروف تھی کہ تھانے کی حدود میں آنے والے ایک علاقے میں پولیس مقابلہ ہوا جس میں ملزم ہلاک ہوگیا۔
انہوں نے بتایا کہ سی سی ٹی وی فوٹیجز اور شواہد کی بنیاد پر مشتبہ شخص کی موجودگی کی اطلاع ملی تھی، پولیس ملزم کی گرفتاری کیلیے اسٹریٹ مبارک مسجد کے قریب پہنچی تو ملزم نے اہلکاروں پر فائرنگ کردی۔
مزید پڑھیںکیماڑی میں جھاڑیوں سے کمسن بچی کی لاش برآمد، مشکوک شخص کی ویڈیو سامنے آگئی
2 سالہ بچے آذان کے اغوا میں ملوث 3 ملزمان گرفتار، مرکزی ملزم والد کا دوست نکلا
ایس ایس پی کیماڑی کے مطابق جوابی فائرنگ میں ملزم مارا گیا جبکہ جائے وقوعہ سے شواہد تحویل میں لے کر قانونی و فرانزک کارروائی شروع کردی گئی ہے۔
سنگھار ملک کے مطابق ہلاک شخص کے کوائف اور بچی کے اغواء و قتل کیس سے ممکنہ تعلق کی جانچ جاری ہے جبکہ پولیس سرجن نے معصوم بچی دعا کے ساتھ زیادتی کی تصدیق کردی ہے۔