’پاک فوج جیسی فوج پوری دنیا میں نہیں‘، معرکہ مرصوص پر عوامی رائے
اشاعت کی تاریخ: 13th, May 2025 GMT
بھارت کو منہ توڑ جواب دینے کے لیے شروع کیے گئے معرکہ مرصوص کے حوالے سے عوام نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاک فوج جیسی فوج پوری دنیا میں نہیں ہے۔
رپورٹ کے مطابق عوام نے کہا کہ ہندوستان کی فوج ہماری فوج کے مقابل نہیں، ہم نے ہندوستان کو منہ توڑ جواب دیا ہے۔
عوام نے کہا کہ پاک فوج جذبہ ایمان سے سرشار ہے، ہمارا ایک فوجی ہندوستان کے 10 فوجیوں پر بھاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم پاک فوج کے ساتھ جان دینے کے لئے حاضر ہیں، ہم پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ نریندر مودی ایک ڈرپوک شخص ہے، پاکستان کا حصول کلمہ طیبہ پر ہوا ہے اسے کوئی نہیں مٹا سکتا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پاک فوج
پڑھیں:
نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائیگا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت میں برسراقتدار مخلوط حکومت کی اتحادی جماعت بی جے پی کے لیڈر اور راجیہ سبھا کے رکنِ پارلیمان انجینیئر غلام علی کھٹانہ نے الزام عائد کیا کہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت عوامی مسائل کے حل میں ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوئی ہے، جس کے باعث عوام میں بے چینی اور ناراضگی بڑھ رہی ہے۔ ضلع رامبن کے سب ڈویژن بنیہال میں منعقدہ ایک عوامی دربار سے خطاب کرتے ہوئے جس میں مقامی باشندوں اور سرکاری افسران نے شرکت کی، غلام علی کھٹانہ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی اور بجلی کے شعبوں کی حالت مزید خراب ہوئی ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت پر عوام سے دور ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے زیادہ جوابدہی کا مطالبہ کیا۔
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے مرکز کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی انتظامیہ کی کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور گوجر-بکروال برادریوں اور بے گھر کشمیری پنڈتوں کے لئے مزید حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ عوامی ملاقات کے دوران مختلف عوامی مسائل اور ترقیاتی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا، جس میں مقامی حکام، بی جے پی رہنماؤں اور علاقے کے باشندوں نے شرکت کی۔