Express News:
2026-07-24@04:37:04 GMT

ٹرمپ کی مسئلہ کشمیر پر ثالثی

اشاعت کی تاریخ: 13th, May 2025 GMT

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مسئلہ کشمیر کے حل میں تعاون کی پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان اور بھارت کے ساتھ مل کر دیکھیں گے کہ کیا کشمیر کے تنازع کا کوئی حل نکالا جاسکتا ہے۔ دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے صدر ٹرمپ کی قیادت، عالمی امن کے لیے وابستگی اور جنوبی ایشیا میں دیرپا امن کے قیام میں اہم کردار ادا کرنے کے لیے ان کی انتہائی قیمتی پیشکش پر اظہار تشکر کیا ہے۔

 بلاشبہ امریکی صدر کا حالیہ بیان پاکستان کی سفارتی سطح پر بڑی کامیابی ہے۔ امریکی صدر کے بیان کے بعد کشمیر کا معاملہ پھر سے عالمی توجہ کا مرکز بن گیا ہے اور اس کو اجاگر کرنا پاکستان کے لیے اہم پیشرفت ہے۔ ٹرمپ نے یقیناً سوچ سمجھ کر یہ پیشکش کی ہے اور اس بیان کے بھارتی رد عمل کا بھی انھیں خوب اندازہ ہوگا کہ مودی کشمیر کا ذکر کرنے پر جلنے لگتے ہیں، کشمیر مودی کے لیے نو گو ایریا ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ دنیا میں موجود تنازعات اور خاص طور پر مسئلہ کشمیر سمیت تمام مسائل حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، وہ معاملات حل کرنے کی غیر معمولی مہارت رکھتے ہیں، اگر سنجیدگی سے دیکھا جائے تو ٹرمپ نے کوئی دیو مالائی گفتگو نہیں کی، وہ سیاست کے امکانات کے وسیع تر تناظر میں بات کررہے ہیں۔

جنوبی ایشیا میں امن و استحکام مسئلہ کشمیر کے حل سے جڑا ہوا ہے، خطے کو جس مسئلے نے فلیش پوائنٹ بنایا ہے وہ مقبوضہ جموں و کشمیر کی اندوہناک صورتحال ہے، علاقائی سیاست، عسکری حرکیات اور ایٹمی صلاحیت کے حامل پڑوسیوں کے مابین امن، معمول کے تعلقات کی بحالی، سفارت گری اور تجارت ممکن ہی نہیں جب تک عالمی قوتیں کشمیر کا مسئلہ حل کرنے پر راضی نہیں ہو جاتیں۔ خطے کے اس درد کی دوا ان ہی بالا دست طاقتوں کے پاس ہے جنھوں نے اپنے مفادات کی جنگ میں کشمیر کو فراموش کیا ہے مگر اس بار معاملہ کچھ اور ہے۔

 بھارتی وزیر اعظم مودی کے تمام بیانات جو انڈس واٹر ٹریٹی کے بارے میں ہیں یہ بات بالکل واضح کرتے ہیں کہ ہندوستان اس معاہدے کو ہر صورت ختم کرنا چاہتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ موجودہ سیز فائر جس کے لیے ہندوستان کے محکمہ خارجہ نے ’’ سیز فائر یا جنگ بندی‘‘ کا لفظ ابھی تک استعمال نہیں کیا ہے۔ یہ سیز فائر کسی بڑے طوفان کے آنے سے پہلے چھا جانیوالی خاموشی کی سی صورتحال کا غماز ہے۔ پاکستان کسی بھی صورت یہ نہیں چاہے گا کہ انڈس واٹر ٹریٹی کو ہندوستان یکطرفہ طور پہ توڑ دے یا اس کے تحت پاکستان کے خلاف دریائی پانی کی دہشت گردی کرتا رہے۔

ہندوستان اس تمام 22 اپریل و ما بعد کی صورتحال کو سیاسی طور پر انڈس واٹر ٹریٹی کو ختم کرنے کے لیے استعمال کر نا چاہتا ہے، وہ سندھ طاس معاہدے کا از سر نو جائزہ لینے کے نام پر سیاسی طور پر پاکستان کے خلاف استعمال کرنا چاہتا ہے۔ 1949 پاکستان انڈیا جنگ بندی معاہدہ اقوام متحدہ، تاشقند معاہدہ 1966 روس، رن آف کچھ بین الاقوامی ثالثی 1968، 2002میں محاذ آرائی کو کنٹرول کرنے میں امریکی کردار، شملہ معاہدے 1972کے دستخط کرانے میں روس اور امریکا کی جانب سے دباؤ۔

یہ تمام چند مثالیں ہیں کہ انڈیا اور پاکستان اپنے معاملات کو کسی بھی صورت نہیں سنبھال سکتے۔ آج اس انڈیا پاکستان محاذ آرائی کو ختم کرانے میں امریکا، سعودی عرب، یو اے ای، قطر، ایران، آذربائیجان، برطانیہ و چائنہ اور دیگر دوست ملکوں کی کوششیں اس جانب اشارہ کرتی ہیں کہ اگر انڈس واٹر ٹریٹی پر 10 مئی کا یہ سیز فائر ختم ہو جاتا ہے تو ان قوتوں کو ایک بار پھر آگے آنا پڑے گا اور پاکستان اور انڈیا کو مذاکرات کی ٹیبل پر آمنے سامنے بٹھانا ہوگا۔

ہندوستان کے مسلسل پاکستان کے اندر ڈرون اور میزائل حملوں نے پاکستان کو مجبور کر دیا کہ وہ ہندوستان کے آپریشن سیندور کے جواب میں اپنا آپریشن بنیان مرصوص شروع کرے۔ یہ آپریشن علی الصبح 10 مئی کو شروع ہوا اور دوپہر ہونے تک ہندوستان کی فوجی و ٹیکنالوجی برتری کے سارے بتوں کو زمین بوس کر چکا تھا۔ پاکستان کی شدید فوجی کارروائی نے بھارتی قیادت کو مجبور کر دیا کہ وہ امریکی قیادت سے رابطہ کر کے جنگی صورتحال کو روکنے کے لیے بات کرے۔

اگرچہ سعودی، ایرانی، اماراتی اور قطری سفارت کار اور کچھ مغربی ملکوں کے ساتھ ساتھ چین و برطانیہ کے سفارت کار بھی پاکستان انڈیا کے درمیان اس فوجی کشیدگی کو کم کرانے کی کوششوں میں یکم مئی کے بعد سے مصروف تھے، لیکن انڈیا کے میڈیا کے قائم کردہ طاقت کے گھمنڈ اور مودی حکومت کی سیاسی سوچ نے اس بات چیت کو اور ثالثی کی کوششوں کو ہندوستان کے فیصلہ سازوں کی سوچ سے کافی دور رکھا ہوا تھا۔ آپریشن بنیان مرصوص شروع ہونے کے چند گھنٹوں میں بھارتی حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ امریکی صدر ٹرمپ، نائب صدر جے ڈی وینس اور سیکریٹری خارجہ امور مارکو روبیو نے درمیان میں کود کر دونوں ملکوں کو فائر بندی پر رضامند کیا۔

اس پس منظر میں پاکستان کی فوجی اور سفارتی برتری اور پاکستان کے سرکاری وغیرہ سرکاری میڈیا اور پاکستانی قوم کے پرامن زمانے سے زیادہ جنگ کے دوران پرامن و متحد رہنا واضح کرتا ہے کہ پاکستان کی صرف ایک دن میں چند گھنٹوں کی مربوط اور مضبوط فوجی کارروائی نے پاکستان کو بین الاقوامی طور پر مضبوط اقوام میں دوبارہ لا کھڑا کیا ہے۔

اگرچہ ابھی اس کے معاشی اثرات کا پاکستان کی معیشت پر سامنے آنا باقی ہے لیکن اصل بات جو حکومت پاکستان کو بہت ہی زیادہ سنجیدگی سے لینا چاہیے وہ اس تمام کشیدگی کا سیاسی پہلو ہے۔ آج اس قومی ایمرجنسی کے وقت میں فوری طور پر طے ہو گیا ہے کہ چینی اسلحہ اور فوجی ساز و سامان مغرب اور امریکا سے کہیں اعلیٰ درجے کا ہے، پاکستان کی فضائیہ دنیا کی سب سے اعلیٰ تربیت یافتہ فورس ہے۔

 پاکستان کا سفارت کاری کا شعبہ برد بار، سمجھدار اور کسی بھی صورت ہندوستان سے کمزور نہیں ہے۔ پاکستان کا میڈیا کچھ کمزوریوں کے باوجود سنجیدہ اور حقیقت پر مبنی رپورٹنگ ایسے مشکل حالات میں بھی کر سکتا ہے۔ معاشی مشکلات کے باوجود قوم ایک ہے۔ لیکن اگر کچھ طے نہیں ہوتا نظر آرہا ہے تو وہ اس کشیدگی کے سیاسی مضمرات اور اثرات ہیں۔ ابھی تک اس بات کا تعین نہیں ہو سکا کہ سیز فائر کو کہاں تک لے جایا جا سکتا ہے۔

بین الاقوامی برادری کا نقطہ نظر تنازعہ کی رفتار اور ممکنہ حل کے لیے اہم مضمرات کا حامل ہو سکتا ہے۔ اب فیصلہ عالمی قوتیں کریں گی دنیا کو امن کا گہوارہ بنانا ہے یا سب اصول بالائے طاق رکھنا ہے اگر اقوام عالم نے انصاف کا دامن نہ تھاما تو پھر مشکلات میں اضافہ ہوگا۔جوہری ہتھیاروں کی موجودگی اور ان کے استعمال کی صلاحیت عالمی سلامتی کے لیے مستقل خطرہ ہے۔

دہشت گرد تنظیمیں عالمی استحکام اور سلامتی کے لیے مسلسل خطرہ ہیں۔ معاشی عدم استحکام اور عدم مساوات سماجی بدامنی اور تنازعات میں حصہ ڈال سکتے ہیں۔ عالمی ادارے اور بین الاقوامی تعاون تنازعات کو کم کرنے اور مشترکہ چیلنجوں سے نمٹنے میں مدد کر سکتے ہیں۔ سفارتی کوششیں تنازعات کو پرامن طریقے سے حل کرسکتی ہیں اور تناؤ کو کم کرسکتی ہیں۔ اقوام کے درمیان اقتصادی باہمی انحصار تعاون کو فروغ دے سکتا ہے اور تصادم کے امکانات کو کم کر سکتا ہے۔ تکنیکی ترقی مواصلات، تعاون، اور تنازعات کے حل کو بہتر بنا سکتی ہے۔

جنگ کا پھیلنا اکثر غیر متوقع ہوتا ہے، اور غیر متوقع واقعات کشیدگی کو بڑھا سکتے ہیں۔ تاریخ نے ثابت کیا ہے کہ بظاہر معمولی واقعات بھی بڑے تنازعات کو جنم دے سکتے ہیں۔ اقوام کے درمیان موجودہ تناؤ، خاص طور پر جوہری صلاحیتوں کے حامل، تنازعات کے خطرے کو بڑھاتے ہیں۔ دنیا چیلنجوں سے نمٹنے اور امن کو فروغ دینے کے لیے بھی اقدامات کر رہی ہے۔

جنگ کا امکان موجود ہے، لیکن یقین کے ساتھ اس کی پیش گوئی کرنا ناممکن ہے۔ جاری سفارتی کوششیں، بین الاقوامی تعاون، اور امن کے عزم سے تنازعات کے خطرے کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ امریکا کو اس حقیقت کا ادراک کرنا ہوگا کہ مسئلہ کشمیر کی گیند تاریخ اور لمحہ موجود کی عالمی سیاست کے کورٹ میں ہے۔ مسئلہ کشمیر کے ممکنہ حل کو ٹرمپ کی کوششوں سے نتھی کر کے بڑی پیش رفت کی ہے ان کی معروضات میں غور و فکر کا کافی سامان موجود ہے۔

حالیہ دنوں میں پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی بڑھی ہے، تاہم نئی امریکی انتظامیہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے سنجیدہ ہے، خطے میں استحکام کے لیے جوہری ممالک کے درمیان معاملات حل ہونے چاہئیں۔ کشمیر شعلہ جوالہ بن چکا ہے، مودی حکومت کی سیکولر ازم برہنہ ہے، کشمیر امریکی نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے ٹیسٹ کیس ہے، ثالثی ناگزیر ہے۔ا1ھ

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: مسئلہ کشمیر کے بین الاقوامی اور پاکستان ہندوستان کے پاکستان کے پاکستان کی امریکی صدر کے درمیان سیز فائر سکتے ہیں کو کم کر سکتا ہے کے لیے کیا ہے

پڑھیں:

پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا

پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔

آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔

 پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔

پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔

 بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔

حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔

 پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔

اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔

اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔

پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔

اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔

عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔

پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم