بنیان مرصوص کے سائے تلے باغ جلسہ، مسلم کانفرنس کا بھرپور کردار ہو گا، مہرالنساء
اشاعت کی تاریخ: 24th, September 2025 GMT
مسلم کانفرنس کی سیکرٹری جنرل و سابق ڈپٹی اسپیکرکا کہنا ہے کہ تحریکِ آزادی کا بیس کیمپ کسی بھی انتشار، افراتفری اور بدامنی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ اسلام ٹائمز۔ آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کی سیکرٹری جنرل و سابق ڈپٹی اسپیکر محترمہ مہرالنساء نے کہا ہے کہ تحریکِ آزادی کا بیس کیمپ کسی بھی انتشار، افراتفری اور بدامنی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ مسلم کانفرنس بحیثیت ریاستی جماعت ہمیشہ امن، سیاسی استحکام، باہمی رواداری اور پاکستان و کشمیر کے عوام کی خدمت کے لیے کردار ادا کرتی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ تمام محب وطن قوتیں یکجا ہو کر پاکستان کی نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کریں، یہی وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ مسلم کانفرنس ریاست کے عوام کے حقوق کی ضامن اور واحد ریاستی سیاسی قوت ہے جو آزادی، استحکامِ پاکستان اور مقبوضہ جموں و کشمیر کی آزادی کے لیے پرامن سیاسی جدوجہد کر رہی ہے۔۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی بڑی تعداد اپنی نظریاتی وابستگی کا ثبوت دینے کے لیے جلسے میں شریک ہوئی اور یہ اجتماع تحریکِ آزادی کشمیر کو کمزور ہونے سے بچانے اور اسے اپنے منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے سنگِ میل ثابت ہوا۔ انہوں نے مزید کہا کہ مسلم کانفرنس کی موجودگی میں پاکستان مخالف ایجنڈے کی تکمیل ناممکن ہے۔
عوام نے باغ جلسہ میں شریک ہو کر یہ پیغام دیا کہ ریاستی عوام تحریکِ آزادی کشمیر کو اپنے خونِ جگر سے سینچنے کے لیے تیار ہیں۔ محترمہ مہرالنساء نے کہا کہ راولا کوٹ اور باغ میں منعقدہ کامیاب جلسے اس بات کا ثبوت ہیں کہ کشمیری عوام اور پاک فوج ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ پاک فوج نے ہر مشکل گھڑی میں کشمیری عوام کی رہنمائی اور حفاظت کا حق ادا کیا ہے۔ انہوں نے فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر کو زبردست الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی قیادت میں پاک فوج نے نہ صرف دشمن کی سازشوں کو ناکام بنایا بلکہ عوامی فلاح و بہبود کے اقدامات کے ذریعے ریاستی عوام کا دل بھی جیتا ہے۔ ان کا وژن اور کردار پاکستان اور کشمیر دونوں کے لیے امید کی کرن ہے۔ سیکرٹری جنرل مسلم کانفرنس نے کہا کہ ہر شہری نے تحریکِ آزادی کو کمزور ہونے سے بچایا اور دشمن کے پروپیگنڈے کو ناکام بنایا۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام اپنے اتحاد و اتفاق سے یہ پیغام دیا ہے کہ آزادی کشمیر کے مقدس مشن کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: مسلم کانفرنس نے کہا کہ انہوں نے کے لیے
پڑھیں:
حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔