بھارت کے ساتھ مذاکرات کے دوران دہشت گردی، کشمیر اور پانی کے حوالے سے بات چیت ہوگی، وزیر دفاع
اشاعت کی تاریخ: 13th, May 2025 GMT
وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ بھارت کے ساتھ مذاکرات کے دوران دہشت گردی، کشمیر اور پانی کے حوالے سے بات چیت ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ مودی پر پارلیمنٹ کے اندر اور باہر تنقید کا سیلاب آیا ہوا ہے، مودی نے اپنے خطاب میں چیزوں کو سمیٹنے کی کوشش کی ہے، چیزیں اتنی بکھر چکی ہیں کہ مودی سمیت نہیں سکے گا، مودی کے دن گن جاچکے ہیں، فیصلہ عوام کریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ کشمیراور دہشتگردی پر بات ہوگی، بھارت سے مذاکرات کے ایجنڈے میں 3 چیزیں ہیں، دہشتگردی ایجنڈے کا ایک حصہ ہے، دنیا اب خود فیصلہ کرے، پاکستان 25 سال سے دہشتگردی کا نشانہ بنا ہے، الزام بھی ہمارے اوپر لگایا جارہا ہے۔
وزیر دفاع نے کہا کہ وزیر اعظم نے خود پیش کش کی تھی کہ دہشتگردی کے واقعے کی تحقیقات کی جائیں، پاکستان کی دہشتگردی کے خلاف جنگ کو تسلیم کیا جائے، اس نے بڑا نقصان اٹھایا، پوری دنیا سے زیادہ نقصان پاکستان نے اٹھایا۔
خواجہ آصف نے کہا کہ دوسرا ایجنٍڈا مسئکہ کشمیر ہے اس پر بھی بات ہونی چائیے، تیسرا پانی کے مسئلہ پر بات کی جائے گی، پانی نے معاملے کو متنازع بنانے کی کوشش کی گئی، سندھ طاس معاہدے کو چھیڑا نہیں جاسکتا۔
انہوں نے کہا کہ جب مزاکرات کی کوششں شروع ہو تو معاہدے کی شقوں کے مطابق دیکھنا چائیے، بھارت خود کئی سال سے دہشتگردی کرا رہا ہے، بھارت انٹر نیشنل دہشتگرد ہے، ہم گزشتہ 25 سے بھارت کے خلاف مشرقی اور مغربی محاز پر لڑ رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بھارت کے دہشتگردی کے ثبوت کینیڈا اور امریکا مں بھی موجود ہیں، یہ دہشگردی کے ثبوت مذاکرات میں سامنے آنے چائییں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :