لاہور ایئرپورٹ کے میس میں ڈرون گر گیا، رینجرز نے قبضے میں لے لیا
اشاعت کی تاریخ: 13th, May 2025 GMT
ڈرون ائیرپورٹ کی سرویلنس کرتے ہوئے گرا۔ رینجرز نے گرنے والے ڈرون کو قبضہ میں لے لیا ہے۔ پولیس حکام کے مطابق ملنے والے ڈرون کو قبضہ میں لیکر تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت اپنی جارحیت سے باز نہ آیا، جنگ بندی کے باوجود لاہور کے علامہ اقبال انٹرنیشنل ائیرپورٹ کے قریب سول ایوی ایشن میس میں سرویلنس ڈرون گرا لیا گیا۔ رینجرز نے ڈرون قبضہ میں لیکر تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ پولیس ذرائع کے مطابق ائیرپورٹ کے قریب سول ایوی ایشن میس میں ڈرون گرا۔ رینجرز ذرائع کے مطابق ڈرون ائیرپورٹ کی سرویلنس کر رہا تھا کہ اسے جام کرکے اتارا گیا۔ رینجرز نے گرنے والے ڈرون کو قبضہ میں لے لیا ہے۔ پولیس حکام کے مطابق ملنے والے ڈرون کو قبضہ میں لیکر تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: نے والے ڈرون کو قبضہ میں کے مطابق
پڑھیں:
روینہ ٹنڈن کی والدہ کے گھر بڑی چوری، لاکھوں روپے مالیت کے زیورات غائب
بالی وڈ اداکارہ روینہ ٹنڈن کی والدہ کے گھر ممبئی میں چوری کی بڑی واردات سامنے آئی ہے جس میں تقریباً 25 لاکھ روپے مالیت کے زیورات اور قیمتی گھڑیاں چوری کرلی گئیں۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق واقعہ ممبئی کے علاقے جوہو میں پیش آیا، جہاں روینہ ٹنڈن کی والدہ کے گھر سے قیمتی سامان اس وقت غائب پایا گیا جب اہل خانہ نے لاکر چیک کیا۔ لاکر کھولنے پر زیورات اور گھڑیاں موجود نہ ہونے کا انکشاف ہوا، جس کے بعد فوری طور پر پولیس کو اطلاع دی گئی۔
پولیس نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات میں معلوم ہوا ہے کہ تقریباً 25 لاکھ روپے مالیت کے زیورات اور گھڑیاں چوری ہوئی ہیں۔ معاملے کی سنگینی کے پیش نظر تحقیقات کا دائرہ وسیع کردیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق اس کیس میں ایک خاتون کو گرفتار کیا گیا ہے جس کا تعلق روینہ ٹنڈن کے خاندان سے ہی بتایا جا رہا ہے۔ ملزمہ کی شناخت 47 سالہ راشی چھابریا کے نام سے ہوئی ہے۔
تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ مذکورہ خاتون 2020 سے اداکارہ کے گھر آ جا رہی تھی اور اس دوران اس نے گھر والوں کا اعتماد حاصل کر لیا تھا۔ وہ روینہ ٹنڈن کی والدہ کی مدد اور دیکھ بھال بھی کرتی رہی۔
پولیس نے مزید بتایا کہ گرفتار ملزمہ کے قبضے سے کچھ قیمتی گھڑیاں برآمد کر لی گئی ہیں، تاہم باقی زیورات کی بازیابی کے لیے مزید تحقیقات جاری ہیں تاکہ مکمل ریکوری ممکن بنائی جا سکے۔