کراچی:

پاکستان کے سابق فاسٹ بولر شعیب اختر نے ایشیا کپ سپر فور میچ میں بھارت کے ہاتھوں پاکستان کرکٹ ٹیم کی یکطرفہ شکست پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

شعیب اختر نے میچ کے بعد ایک ٹی وی شو میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر پاکستان کے پاس 200 رن بھی بورڈ پر ہوتے تب بھی بولرز اس کا دفاع نہیں کر پاتے۔  اگر فہیم کو بولنگ کرنی تھی تو نئی گیند کا استعمال کرنا چاہیے تھا، اگر وہ صائم کی جگہ لے لیتے تو وہ کارآمد ثابت ہوتے۔

شعیب اختر نے کہا کہ ابرار سے پہلے پارٹ ٹائم باؤلرصائم ایوب آ رہے ہیں۔ ابرارآپ کے مین باؤلر ہیں۔ آپ کی باؤلنگ لائن اپ اس قابل نہیں تھی، اگر پاکستانی ٹیم نے 200 رن بھی بنائے ہوتے تب بھی بولرز اس کا دفاع نہیں کرپاتے ۔

شعیب اختر نے کہا کہ پاکستان کی باؤلنگ ناقص تھی۔ حارث رؤف نے حریف کےایک بھی بلے باز کو آؤٹ نہیں کیا۔ ہندوستانی بلے باز اپنی غلطیوں سے آؤٹ ہوئے۔ سوریا کمار یادیو نے غلط شاٹ کھیلا اور پاکستان کو وکٹ مل گئی۔ یہ میچ تواتنا آگے بھی نہیں جاتا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ذرا سوچیں، اس ٹیم کے پاس کے ایل راہل نہیں ہے۔ وہ ہمیشہ گیند بازوں کو مارتا ہے۔ کے ایل راہل کو سنجو سیمسن کی بجائے ٹیم میں ہونا چاہیے تھا۔ سنجو سیمسن ٹیم انڈیا کی کمزور کڑی تھے۔ اسی وجہ سے میچ 19 ویں اوور تک چلا۔

شعیب اختر نے یہ بھی کہا کہ ابھیشیک شرما اگر کچھ دیر اور کریز پر رہتے تو میچ پانچ اوور پہلے ہی ختم ہوجاتا، ان کے آؤٹ ہونے کی وجہ سے مقابلہ انیسویں اوور تک گیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کہا کہ

پڑھیں:

وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم

وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔

وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔

متعلقہ مضامین

  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل