میزبان:اجمل ستار ملک

(ایڈیٹر فورم)

رپورٹ: احسن کامرے

عکاسی: وسیم نیاز

ولی عہد ووزیر اعظم سعودی عرب محمد بن سلمان بن عبد العزیز آل سعود اور وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے پاکستان اور سعودی عرب کے مابین اسٹرٹیجک باہمی دفاعی معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔ معاہدے میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی ایک ملک کے خلاف کسی بھی جارحیت کو دونوں ملکوں کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا۔پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان حالیہ دفاعی معاہدہ نہ صرف دونوں ممالک کی طویل المدتی دوستی اور تعاون کا مظہر ہے بلکہ یہ معاہدہ موجودہ عالمی اور علاقائی حالات کے تناظر میں ایک غیر معمولی سفارتی پیش رفت بھی ہے۔ اس معاہدے کے ذریعے پاکستان اور سعودی عرب نے یہ واضح پیغام دیا ہے کہ وہ نہ صرف داخلی سلامتی کے لیے سنجیدہ ہیں بلکہ خطے میں امن، استحکام اور باہمی اعتماد کو فروغ دینے کے لیے بھی پر عزم ہیں۔ پاکستان اور سعودی عرب کا دفاعی اتحاد اس وقت ایک معنی خیز پیغام دے سکتا ہے کہ مسلم دنیا میں فلسطینی عوام کے حق میں اجتماعی موقف اختیار کیا جارہا ہے۔ یہ اتحاد اسرائیل کے ممکنہ جارحانہ عزائم کے خلاف ایک بالواسطہ ڈیٹرنس (روک تھام) کے طور پر بھی کام کر سکتا ہے۔یہ معاہدہ اس وقت منظر عام پر آیا ہے جب دنیا بھر میں دفاعی شراکت داریاں تیزی سے نئی جہتیں اختیار کر رہی ہیں۔ مشرق وسطی کی بدلتی ہوئی سیاسی فضا، خلیجی ممالک کے باہمی تعلقات،اسرائیل فلسطین تنازع، اسرائیل کا قطر پر حملہ اور افغانستان میں غیر یقینی صورتحال کے تناظر میں، پاکستان اور سعودی عرب کا دفاعی طور پر ایک دوسرے کے قریب آنا نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ معاہدے میں یہ شق کہ کسی ایک ملک کے خلاف جارحیت کو دونوں ممالک کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا ایک اسٹرٹیجک گہرائی اور عسکری عزم کی آئینہ دار ہے، جو بظاہر ایک اتحادی سیکیورٹی ڈھانچے کی بنیاد رکھتی ہے۔ اس معاہدے کے بارے میں تفصیل سے جاننے کیلئے ’’ایکسپریس فورم‘‘ میں ’’پاکستان سعودی عرب دفاعی معاہدہ اور دنیا پر اس کے اثرات‘‘ کے موضوع پر ایک خصوصی مذاکرہ کا اہتمام کیا گیا جس میں مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والی شخصیات کو مدعو کیا گیا۔ فورم میں ہونے والی گفتگو نذر قارئین ہے۔

مولانا سید محمد عبدالخبیر آزاد

(چیئرمین مرکزی رویت ہلال کمیٹی

و خطیبِ بادشاہی مسجد لاہور)

 اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا اور اسے بڑا مقام و مرتبہ عطاء فرمایا ہے۔ امام الانبیاء حضرت محمد مصطفی ﷺکی سیرت طیبہ ہمیں وحدت،اتحاد، اخوت ومحبت،بھائی چارہ ، احترام اور خدمت انسانیت کا درس دیتی ہے۔ سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان باہمی مضبوط دفاعی معاہدہ خوش آئند ہے جس پر ہم اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیںاور سعودی ولی عہد امیر محمد بن سلمان،وزیر اعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل جنرل حافظ سید عاصم منیر کو پاک سعودی تاریخی دفاعی معاہدہ کرنے پر خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ پاکستان سعودی عرب دفاعی معاہدہ خطے میں امن استحکام اور اُمت مسلمہ کی سلامتی و تحفظ کا ضامن ہے۔ یہ معاہدہ دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات اور باہمی اعتماد کا روشن مظہر ہے۔ سعودی عرب سے پاکستان کی لازوال اور بے مثال دوستی و تعلقات کوہ ہمالیہ سے بھی بلند ہیں۔ پاکستان اور سعودی عرب اسلامی اُمت کی قیادت کے امین ہیں۔ حرمین شریفین کا تحفظ ہم سب کی ذمہ داری اور ایمان کا حصہ ہے۔ سعودی عرب ہمارا دوسرا گھر ہے۔ پاک سعودی عظیم دفاعی معاہد ہ پر امیر محمد بن سلمان، وزیر اعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل جنرل حافظ عاصم منیر کو پوری پاکستانی قوم کی طرف سے سلام پیش کرتے ہیں۔ پاک سعودی دفاعی معاہدہ میں سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی کا عظیم کردار ہے،ہم انہیں بھی مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ تمام اسلامی ممالک کے مابین مضبوط دفاعی تعاون اور دفاعی اتحاد وقت کی اشد ضرورت ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ اسلامی فوج بنائی جائے اور تمام اسلامی ممالک کی عوام کے تحفظ اور حرمین شریفین کی سیکیورٹی کے تمام انتظامات فیلڈ مارشل جنرل حافظ سید عاصم منیر کی قیادت میں افواج پاکستان کے سپرد کیے جائیں۔ آج پوری قوم اپنی بہادر مسلح افواج اور سپہ سالار پاکستان فیلڈ مارشل حافظ جنرل سید عاصم منیر کے ساتھ کھڑی ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تاریخی دفاعی معاہدے نے دنیا کو دکھا دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پاکستان فوج کو ایک عظیم فریضہ سونپا ہے اور وہ ہے حرمین شریفین کے دفاع کا فریضہ۔ جو فوج اس مقدس ذمہ داری کے لئے منتخب کی گئی ہو، اس کے خلاف ہتھیار اٹھانا یا بغاوت کرنا دراصل دین سے انحراف ہے۔ ایسے خوارج دراصل االلہ اور رسولﷺ کے حکم کی خلاف ورزی کے مرتکب ہیں، اس لئے ان کی جنگ سراسر ناجائز اور گناہ ہے۔ اسرائیل عالمی دہشت گرد ریاست ہے جو انسانیت کا قتل عام کررہا ہے،بہت جلد اسرائیل کا غرور خاک میں مل جائے گا،تمام اسلامی ممالک متحد ہوکر ہی دشمن کا مقابلہ کرسکتے ہیں۔

 بریگیڈیئر (ر) سید غضنفر علی

(دفاعی تجزیہ کار)

موجودہ عالمی حالات اور خطے کی صورتحال میں پاک سعودی دفاعی معاہدہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔قیام پاکستان سے لے کر اب تک پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات سول اور ملٹری دونوں سطح پر نزدیکی رہے ہیں۔ معاشی، دفاعی اور مذہبی حوالوں سے دونوں ممالک کے تعلقات مثالی ہیں۔ شاہ فیصل نے مختلف مواقع پر پاکستان کی حمایت کی اور پاکستان نے بھی ہر مشکل مرحلے میں سعودی عرب کا ساتھ دیا۔ گزشتہ کچھ عرصے میں دنیا میں جنگی حالات پیدا ہوئے ہیں۔ چند ماہ قبل بھارت نے رات کی تاریکی میں پاکستان پر حملہ کیا ۔ پاکستان نے کہا کہ ہم بھارت کو ماریں گے اپنی مرضی کے وقت اور ٹارگٹ پر، اور پھر پاکستان نے اسے تاریخی شکست دی۔ دوسرا واقعہ ایران پر اسرائیل کا حملہ ہے، اس نے ایران پر میزائل داغے۔ اس وقت پاکستان نے ایران کا ساتھ دیا جس پر ایران کی اسمبلی میں ’’تشکر پاکستان‘‘ کے نعرے لگے۔ اب اسرائیل نے قطر پر حملہ کر دیا جس پر دنیا، خصوصاً اسلامی ممالک میں شدید ردعمل آیا۔ ان دو واقعات میں ایک چیز مشترک ہے: جب ایران پر اسرائیل نے حملہ کیا تو اس سے پہلے نیوکلیئر معاملے پر اس کے امریکا کے ساتھ مذاکرات جاری تھے۔ مذاکرات سے ایک دن قبل امریکا نے ایران کو دھوکے میں رکھا اور نیتن یاہو کو حوصلہ دیا کہ ایران پر حملہ کر دو۔ اس طرح اس نے نہ صرف ایران بلکہ دنیا کو بھی دھوکہ دیا۔ صہونیت دہشت گردی کا محور ہے اور اس کا سب سے بڑا دہشت گرد نیتن یاہو ہے، جسے ٹرمپ سپورٹ کرتا ہے لہٰذا وہ بھی جرم میں برابر شریک ہے۔جب اسرائیل نے قطر پر حملہ کیا تو وہاں حماس کے مذاکرات ہو رہے تھے۔ حماس کا دفتر قطر میں ہے۔ ٹرمپ نے ایک امن کا فارمولا دیا جس پر حماس غور کررہا تھا اور پھر اس پرحملہ کر دیا گیا۔ دونوں مرتبہ امریکا نے ایک بڑے ملک ہونے کے باوجود ریاکاری اور نفاق کا مظاہرہ کیا۔ اس وجہ سے مشرقِ وسطیٰ اور خلیجی ممالک کا امریکا سے اعتبار اٹھ گیا ہے۔ ان ممالک نے اپنی سکیورٹی امریکا کے حوالے کی، اسے پیسے اور جہاز دیے لیکن یہ سب کسی کام نہ آیا، امریکا آج بھی اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہے۔ سعودی عرب کے اوپر سے گزر کر میزائل گئے لیکن امریکی سسٹم نے ان کی نشاندہی نہیں کی۔ اس کا مطلب ہے کہ امریکا نے سعودی عرب کو ناقص یا کمزور سسٹم دیا ہے۔اب سعودی عرب اور قطر کا اعتماد امریکا سے اٹھ گیا ہے۔ پاک بھارت جنگ میں پاکستان نے دنیا کو دکھا دیا کہ چاہے ٹیکنالوجی مغربی ہو یا چینی، پاکستان نہ صرف اس کا بہترین استعمال کر کے اپنا دفاع یقینی بنانا جانتا ہے بلکہ ایران کے ساتھ کھڑے ہو کر یہ بھی ثابت کر دیا کہ وہ اسلامی ممالک کو بھی دفاعی لحاظ سے فائدہ پہنچا سکتا ہے۔ اسلامی ممالک کے 52 ممالک کا قطر کے حوالے سے اجلاس ہوا جس کے اعلامیے میں امریکا کی تعریف اور امن کی بات کی گئی۔ میرے نزدیک دنیا اس طرح نہیں چلتی ، اگر بدتمیز کے منہ پر طمانچہ رسید نہیں کیا جائے گا تو وہ رکے گا نہیں۔سعودی عرب نے صورتحال کو سمجھا اور پاکستان کے ساتھ دفاعی معاہدہ کیا ہے۔ یہ معاہدہ ایسے حالات میں ہوا ہے جب دنیا کے حالات، مشرقِ وسطیٰ اور خطے کے حالات ٹھیک نہیں ہیں۔ غزہ میں اسرائیل کا ظلم و بربریت جاری ہے۔ غزہ میں رہنے والے ایک لاکھ اسی ہزار کے قریب افراد کی زندگیاں تباہ کر دی گئی ہیں۔ ویسٹ بینک سے لوگوں کو نکالا جا رہا ہے۔ سعودی عرب نے پہلے اسرائیل سے تعلق قائم کرنے کی کوشش کی لیکن اب کہا ہے کہ جب تک فلسطین کا مسئلہ حل نہیں ہوتا اسرائیل سے کوئی تعلق قائم نہیں کیا جا سکتا۔دنیا کے حالات کے تناظر میں پاک سعودی معاہدہ انتہائی اہم ہے۔ اس معاہدے کے تحت دونوں ممالک ایک دوسرے کی ٹیکنالوجی اور اثاثے شیئر کریں گے۔ ایک ملک پر حملہ دوسرے پر حملہ تصور کیا جائے گا اور دونوں مشترکہ مشقیں بھی کریں گے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے ملٹری تعلقات بہت قریبی رہے ہیں۔ 80ء کی دہائی میں ہمارے بیس ہزار فوجی سعودی عرب بھیجے گئے، ان میں زیادہ تر وہ تھے جو سعودی فوج کی تربیت کے لیے گئے تھے۔ ہماری اینٹی ٹینک گائیڈڈ میزائل کی یونٹس بھی بھیجی گئیں۔ سعودی ایئر فورس کے پائلٹس کی تربیت بھی پاکستانی پائلٹس نے کی ہے۔ اسی طرح سعودی نیوی کو تربیت بھی ہماری نیوی نے دی۔ ہمارے اسٹاف کالج، نیشنل ڈیفنس کالج اور دیگر اداروں میں سعودی فوجی افسران بڑے پیمانے پر تربیت حاصل کرنے آتے ہیں۔ اسی طرح انسدادِ دہشت گردی کے حوالے سے سعودی فورسز، پولیس اور دیگر اداروں کو ہم نے تربیت دی ہے۔دونوں ممالک کے درمیان یہ تعلقات بہت پہلے سے قائم ہیں، اب انہیں تحریری شکل دے دی گئی ہے جس کا فائدہ ہوگا۔ پاکستان میں ہمیشہ سے وسائل کی کمی رہی ہے۔ جب ہم دفاعی حوالے سے تحقیق کرتے ہیں اور پھر ہتھیاروں کی تیاری شروع کرتے ہیں تو معاشی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ سعودی عرب اس میں پاکستان کی مدد کر سکتا ہے۔ جنگ صرف میزائل اور ہتھیاروں سے نہیں لڑی جاتی بلکہ اس میں خوراک، وسائل، صلاحیت اور دیگر چیزیں بھی اہمیت رکھتی ہیں۔ سعودی عرب سے معاہدے کے بعد ہماری جنگی صلاحیت بڑھ گئی ہے۔ اگر پہلے ہمارے پاس بیس دن کے لیے تیل تھا تو اب اس میں اضافہ ہو جائے گا۔ سعودی عرب کو دفاعی حوالے سے جس صلاحیت کی ضرورت ہے وہ ہمارے پاس موجود ہے۔ پاکستانی افواج کو یہ برتری حاصل ہے کہ ہم نے روسی، مغربی اور چینی تینوں ٹیکنالوجیز ماہرانہ طور پر استعمال کی ہیں ۔ ہم نے جے ایف17 تھنڈر بنایا بھی اور استعمال بھی کیا۔ دنیا میں کوئی ایسی فوج نہیں جس کا بیک وقت دو یا تین ٹیکنالوجیز کا تجربہ ہو۔ امریکی فوج کے پاس صرف مغربی ٹیکنالوجی کا تجربہ ہے۔ ہم نے چینی و مغربی ٹیکنالوجی کے جہاز بھی اڑائے ہیں۔ ہمارے پاس امریکی ٹینک بھی ہیں اور ہم نے اپنا ٹینک بھی بنا لیا ہے۔ سعودی عرب کے پاس 840 امریکی ٹینک ہیں۔ پاکستان آرمی کی مختلف ٹیکنالوجیز کی مہارت سعودی عرب کے لیے فائدہ مند ہوگی اور سعودی عرب کے پاس جو امریکی یا مغربی ٹیکنالوجی ہے اس کا فائدہ ہمیں ہوگا۔پاکستان میں دہشت گردی کے مسئلے میں اسرائیل، بھارت اور افغانستان کی ایجنسیاں ملوث ہیں۔ اب جبکہ پاکستان پر حملہ سعودی عرب پر حملہ تصور کیا جائے گا تو پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف سعودی چینل کو بھی استعمال کرنا ہوگا۔ مفتیِ اعظم سے دہشت گردی کے حوالے سے شرعی فتویٰ لیا جانا چاہیے۔ مجھے یقین ہے کہ افغان حکومت سعودی عرب کی سنجیدہ بات کو ضرور سنے گی۔ سعودی عرب، افغانستان اور پاکستان بیٹھ کر افغان حکومت کو دہشت گردی روکنے پر آمادہ کر سکتے ہیں۔میرے نزدیک پاکستان اور سعودی عرب میں معاہدہ تاریخی ہے اور اس کا فائدہ دونوں ممالک کو ہوگا۔

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

(ماہرِ امورِ خارجہ)

پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان طے پانے والا معاہدہ ایک اہم پیشرفت ہے۔ اس معاہدے کے ہونے سے سعودی عرب اور پاکستان دونوں کو اپنے اپنے خطّے میں اور مشترکہ خطے یعنی مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں بھی تقویت ملے گی۔اس معاہدے کی اہم شق یہ ہے کہ کسی ایک ملک پر حملہ دوسرے ملک پر حملہ تصور کیا جائے گا اور دونوں مل کر اس کا مقابلہ کریں گے۔ یہ نیٹو کے آرٹیکل 5 سے مطابقت رکھتا ہے جس کے مطابق کسی ایک پر حملہ نیٹو پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ اس کا مقصد یہ نہیں کہ دونوں فوراً کسی جنگ میں کود جائیں۔ دراصل اس کا مقصد لوگوں اور ممالک کو ہوشیار اور خبردار کرنا ہے کہ اگر کسی ایک کے ساتھ دشمنی ہوگی تو دوسرے کے ساتھ بھی اس کے معاملات خراب ہو سکتے ہیں۔ممالک کے آپسی تعلقات کی مختلف نوعیت اور جہتیں ہوتی ہیں، تجارتی روابط بھی ہوتے ہیں لہٰذا اب کوئی بھی ملک جب پاکستان یا سعودی عرب میں سے کسی ایک کے ساتھ جنگ کا سوچے گا تو اسے دوسرے کے ساتھ تعلقات کو بھی مدِ نظر رکھنا ہوگا۔ جب ایسے معاملات ہوں تو سفارت کاری کو ترجیح دی جاتی ہے اور یہ راستہ زیادہ موثر رہتا ہے جبکہ جنگ کی صورت میں نقصانات کا اندیشہ بڑھ جاتا ہے۔اس میں یہ نکتہ بھی اہم ہے کہ مشترکہ دفاع صرف مشکل صورت یا کسی حملے کی صورت تک محدود نہیں رہتا بلکہ ایک جامع سسٹم بنایا جائے گا ۔ ایک جنگی فلسفہ وضع کیا جائے گا کہ کس طرح تربیت ہونی چاہیے، کمانڈ کی یکجہتی کیسے ممکن بنائی جائے، حربی اور غیر حربی وسائل کو کیسے استعمال کیا جائے تاکہ کسی تنازعہ کی صورت میں فائدہ حاصل کیا جا سکے۔ پاکستان کے لیے یہ بھی اہم ہے کہ وہ براہِ راست حرمین شریفین کے تحفظ میں پارٹنر بنے گا۔ اس صورتحال کو اس تناظر میں دیکھیں کہ بیسویں صدی کی پہلی دو دہائیوں کے بعد یہ پہلی مرتبہ ہوگا کہ کسی غیر عرب ملک کو اتنے بڑے پیمانے پر عرب خطے میں رسائی دی جائے گی ۔ یہ ایک بڑی ڈویلپمنٹ ہے۔ سلطنتِ عثمانیہ کے بعد عرب ممالک میں اس نوعیت کا فوجی تعاون یا دفاعی مشترکہ منظرنامہ پہلی مرتبہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اس معاہدے سے اسرائیل اور بھارت، دونوں کو وارننگ ملے گی جس سے خطے میں امن کو فروغ ملنے کا امکان ہے۔ اسرائیل کو بھی اندازہ ہو جائے گا کہ اب صورتحال پہلے جیسی نہیں رہی، خاص طور پر سعودی عرب اور ایران کے تناظر میں۔ پاکستان کے سعودی عرب اور ایران دونوں کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں اور پاکستان کا ترکی اور چین کے ساتھ بھی گہرا رابطہ ہے۔ عرب دفاعی سسٹم کا انحصار عام طور پر امریکا پر رہا ہے۔ دوحہ میں جب حملہ ہوا تو ایئر ڈیفنس نے کام نہیں کیا کیونکہ اسے زیادہ تر امریکی مینج کر رہے تھے۔ پاک بھارت جنگ میں چینی ہتھیار اور جہازوں کی کامیابی کو دنیا نے دیکھا لہٰذا یہ ممکن ہے کہ سعودی عرب چینی ٹیکنالوجی کی جانب بھی متوجہ ہو۔سعودی عرب صرف ایک ملک نہیں ہے۔ اس کے ساتھ معاہدے سے دیگر عرب ممالک بھی شامل ہو سکتے ہیں اور ممکن ہے کہ ترکی بھی اس میں شامل ہو جائے، ایسا ہوا تو یہ بہت مضبوط الائنس کی صورت اختیار کر سکتا ہے۔ پاکستان اس وقت بہترین سفارت کاری کر رہا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف سعودی عرب اور لندن گئے۔ اب وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر امریکا بھی جائیں گے اور وہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات متوقع ہے۔ وہ انہیں یقین دہانی کرائیں گے کہ ہمارے عزائم کسی کے خلاف نہیں ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ آپسی تعلقات اچھے ہوں تو دفاع بھی بہتر ہوگا۔ اسی طرح وہ صدر ٹرمپ سے بھی توقع کریں گے کہ وہ اسرائیل کو خبردار کریں کہ سعودی عرب اور خلیجی ممالک کے حوالے سے اپنی پالیسی پر نظر ثانی کرے۔پاک سعودی دفاعی معاہدہ ایک بڑا قدم ہے جس کے عالمی سیکیورٹی سسٹم پر بھی بڑے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ اس معاہدے کے فوائد کے ساتھ ساتھ کچھ خدشات بھی جڑے ہیں۔ مثال کے طور پر سی پیک جیسا بڑا منصوبہ جہاں ترقی کے دروازے کھولتا ہے وہاں اندرونی سکیورٹی کے لیے چیلنجز بھی پیدا ہوتے ہیں۔ داعش، ٹی ٹی پی، بی ایل اے وغیرہ کی کوشش رہی ہے کہ سی پیک یا دیگر اہم منصوبوں کو ناکام بنایا جائے۔ اسی طرح اسرائیل اور بھارت جو اسے اپنے لیے خطرہ سمجھ سکتے ہیں، وہ ان ممالک کی اندرونی سکیورٹی صورتِ حال کو خراب کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ اس وقت مضبوط داخلی استحکام، قانون کی بالادستی اور عوام میں یکجہتی پیدا کرنا ضروری ہے تاکہ دشمن کو سازش کا موقع نہ ملے۔یہ ایک تاریخ ساز وقت ہے، اسے عہد ساز بنانے کے لیے ممالک، عوام اور سکیورٹی اداروں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔   n

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پاکستان اور سعودی عرب کے پر حملہ تصور کیا جائے گا دونوں ممالک کے سعودی عرب اور اسلامی ممالک حرمین شریفین دفاعی معاہدہ کے تناظر میں اس معاہدے کے دہشت گردی کے اور پاکستان کے حوالے سے پاکستان کے فیلڈ مارشل پاکستان نے اسرائیل کا شہباز شریف یہ معاہدہ پاکستان ا کے درمیان پاک سعودی کرتے ہیں ایران پر سکتے ہیں معاہدہ ا ہیں اور کے خلاف کی صورت کریں گے ایک ملک سکتا ہے نہیں کی کے ساتھ کسی ایک میں پاک بھی اس گیا ہے کہ کسی کے لیے ہے اور کو بھی اور اس

پڑھیں:

اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید

راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہدالراشدی اور انصار اُلامہ پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن خلیل نے سعودی عرب کے ممتاز علماء کی جانب سے اتحاد مذاہب کے بارے میں جاری کردہ فتوے کی بھرپور تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد ابراھیمی معاہدہ درحقیقت اسرائیل کو خطے میں مستقل حیثیت دلانے اور ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے توسیع پسندانہ منصوبے کی راہ ہموار کرنے کی ایک خطرناک کوشش ہے، جسے عالم اسلام کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں باہمی ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر پاکستان شریعت کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف محمدی، سیکرٹری اطلاعات پروفیسر حافظ محمد منیر، مولانا جمیل الرحمن فاروقی، حاجی صلاح الدین فاروقی، مفتی محمد نعمان، مولانا محمد معاویہ، سردار زاہد منان اور دیگر راہنما بھی موجود تھے۔ راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔
 
انہوں نے کہا کہ ’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل نے گزشتہ کئی دہائیوں سے فلسطینی سرزمین پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے، لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا، بیت المقدس کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں کی گئیں اور غزہ سمیت فلسطینی علاقوں میں انسانیت سوز مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے حالات میں اسرائیل کو تسلیم کرنے یا اس کیساتھ معمول کے تعلقات قائم کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں۔ مولانا زاہد الراشدی اور مولانا فضل الرحمن خلیل نے کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا اور اس کے نام پر مختلف مذاہب کو ایک ایسے نظریاتی فریم ورک میں جمع کرنے کی کوشش کرنا جس سے اسلامی عقائد و تعلیمات متاثر ہوں، قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کی تعلیمات اور امت مسلمہ کے اجماعی عقائد کی روشنی میں اسلام اپنی مستقل شناخت اور نظریاتی اساس رکھتا ہے جسے کسی مصنوعی عنوان کے تحت خلط ملط نہیں کیا جا سکتا۔
 
اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب سمیت تمام مسلم ممالک کو اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم اور گریٹر اسرائیل کے منصوبے کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے اور ایسی ہر کوشش کو سختی سے مسترد کر دینا چاہیے جو فلسطینی کاز کو نقصان پہنچانے یا صہیونی ریاست کو مزید تقویت دینے کا باعث بنے۔ انہوں نے عالم اسلام کے حکمرانوں، دینی قیادت اور عوام سے اپیل کی کہ وہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اپنے تاریخی، دینی اور اخلاقی موقف پر ثابت قدم رہیں اور بیت المقدس اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے متحدہ کردار ادا کریں۔ اس موقع پر شرکاء نے فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام ہمیشہ کی طرح فلسطینی بھائیوں کے حق خود ارادیت، آزادی اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھیں گے۔

متعلقہ مضامین

  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • پاکستان اور اٹلی کے سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کیلئے ویزا ختم کرنے کا معاہدہ
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان