بھارتی وزیراعظم بتائیں کیا سیز فائر امریکی دباؤ میں ہوئی، اشوک گہلوت
اشاعت کی تاریخ: 13th, May 2025 GMT
کانگریس لیڈر نے کہا کہ جنگ بندی کبھی بھی عارضی نہیں ہوتی، یہ ہمیشہ مستقل ہوتی ہے، اسکا مطلب ہے کہ مودی نے یہ فیصلہ امریکہ کے دباؤ میں لیا ہے، اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے بھارت اور پاکستان کے درمیان سیز فائر کے اعلان کے بعد مودی حکومت پر اپوزیشن کی جانب زبردست تنقید کی جارہی ہے۔ اپوزیشن لیڈر اس حوالے سے مسلسل حکومت پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ نریندر مودی نے کل رات 8 بجے قوم سے خطاب کیا، تاہم اپوزیشن اس بار پر بھی ناراض ہے کہ بھارتی وزیراعظم نے قوم سے خطاب میں ایک مرتبہ بھی امریکی صدر کا نام نہیں لیا۔ راجستھان کے سابق وزیراعلٰی اور کانگریس کے سینہئر لیڈر اشوک گہلوت نے نریندر مودی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ مودی کہہ رہے ہیں کہ آپریشن سندور کو ملتوی کر دیا گیا ہے اور ختم نہیں ہوا، تو کیا یہ فیصلہ بھی امریکہ کے دباؤ میں لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مودی اس پر کھل کر اپنے خیالات کا اظہار کریں اور ملک کو بتائیں۔ اشوک گہلوت نے دہلی میں آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے ہیڈکوارٹر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جنگ بندی کبھی بھی عارضی نہیں ہوتی، یہ ہمیشہ مستقل ہوتی ہے، اس کا مطلب ہے کہ مودی نے یہ فیصلہ امریکہ کے دباؤ میں لیا ہے، یہ واضح ہونا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ جنگ بندی کا فیصلہ ہمیشہ سوچ سمجھ کر لیا جاتا ہے، اسے جلدی میں نہیں لیا جاتا۔
اشکوک گہلوت نے کہا کہ سب کو توقع تھی کہ وزیراعظم قوم سے خطاب میں امریکہ کی مداخلت کے حوالے سے کوئی وضاحت کریں گے لیکن انہوں نے ایک بار بھی ٹرمپ کا نام نہیں لیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کے پاس موقع تھا لیکن انہوں نے ڈیمیج کنٹرول کرنے کا موقع گنوا دیا، اس حوالے سے عوام میں شدید غصہ پایا جاتا ہے، فوج اچھا کام کر رہی تھی اور اچانک جنگ بندی کا فیصلہ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت بتائے کہ اس کی کیا کمزوری تھی جس کی وجہ سے اسے امریکہ کے سامنے جھکنا پڑا۔ اشوک گہلوت نے کہا کہ طویل عرصے کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ تمام سیاسی پارٹیاں اور ملک کے عوام حکومت کے ساتھ متحد ہو کر کھڑے ہوئے ہیں۔ پوری دنیا میں یہ پیغام گیا کہ جب بھی ملک پر کوئی آفت آتی ہے، بھارت کی تمام سیاسی جماعتیں اور ملک کے عوام متحد ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ راہل گاندھی، کانگریس پارٹی اور دیگر تمام پارٹیاں حکومت کے ساتھ کھڑی تھیں، اس کے بعد بھی کیا وجہ تھی کہ حکومت کو پیچھے ہٹنا پڑا، میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں۔
کانگریس رہنما نے کہا کہ امریکی صدر پہلے ٹویٹ کر کے جنگ بندی کا اعلان کرتے ہیں اور پھر دونوں ممالک اس پر رضامند ہو جاتے ہیں۔ اس کے بعد ٹرمپ بھی مسئلہ کشمیر کو بین الاقوامی سطح پر حل کرنے کی بات کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا "مجھے نہیں معلوم کہ اگر وہ ایسا کریں گے تو پھر کس کے حق میں فیصلہ ہوگا، اس معاملے پر پوری قوم میں ناراضگی ہے کہ امریکہ ہمارے معاملات میں مداخلت کیوں کر رہا ہے"۔ اشوک گہلوت نے کہا کہ وزیراعظم پیر کی رات 8 بجے قوم سے خطاب کرنے والے تھے، اس سے پہلے بھی امریکی صدر نے ٹویٹ کیا تھا، یہ انتہائی خطرناک اقدام ہے، جو سمجھ سے بالاتر ہے، حکومت اس پر وضاحت کرے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم بتائیں کہ کیا امریکی صدر یہ سب کچھ بھارتی حکومت کی رضامندی سے کررہے ہیں یا اپنی مرضی سے کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹرمپ جو کچھ کہہ رہے ہیں اس کے پیچھے کونسا سیاسی دباؤ ہے، ہم ان کی بات کیوں سن رہے ہیں، اس پر بھی بات ہونی چاہیئے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ کہ وزیراعظم امریکی صدر امریکہ کے رہے ہیں کہ مودی کے بعد
پڑھیں:
پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
پاکستان کے سابق سفیر عمران علی کا کہنا ہے کہ اگر سعودی عرب نے خواہش ظاہر کی کہ پاکستان اپنی بحریہ کے ذریعے حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے تو پاکستان بھی اس پر پورا اترتے ہوئے ویسا ہی کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: ’پاک سعودی دفاعی معاہدہ محض مالی یا وقتی تعلق نہیں بلکہ فعال حکمت عملی کا حصہ ہے‘
وی نیوز کے ساتھ خصوصی گفتگو میں انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کی ریڈلائن ہے اور دونوں ممالک کے مابین دفاعی معاہدے کا یہ مطلب نہیں کہ صرف ان کی سرزمین پر حملے کی صورت میں دفاعی تعاون ہوگا بلکہ پاکستان اس سلسلے میں سعودی عرب کی خواہشات پر پورا اترے گا۔
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کی مستقل ’ریڈ لائن‘ ہے اور دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون محض معاہدوں تک محدود نہیں بلکہ تاریخی اور برادرانہ تعلقات پر مبنی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر سعودی عرب کو پاکستان سے کسی بھی نوعیت کے تعاون کی ضرورت پیش آئی تو اسلام آباد اس کی توقعات پر پورا اترے گا۔
ایمبیسیڈر عمران علی نے وزیراعظم پاکستان اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان حالیہ رابطے کو اہم سفارتی پیغام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے واضح ہو گیا ہے کہ پاکستان اس معاملے میں سعودی عرب کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے۔
مزید پڑھیے: وی ایکسکلوسیو: پاکستان، سعودی عرب دفاعی معاہدہ امت مسلمہ کو متحد کرسکتا ہے، وفاقی وزیر سردار یوسف
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے اشتعال انگیزی کے باوجود انتہائی متوازن اور ذمہ دارانہ کردار ادا کیا ہے اور پاکستان بھی یہی چاہتا ہے کہ مسلم دنیا مزید تقسیم نہ ہو۔ ان کے مطابق اگرچہ ایران کو اپنے مؤقف پر نظرثانی کرنی چاہیے تاہم امریکا کی بعض کارروائیاں بھی کشیدگی میں اضافے کا باعث بنی ہیں۔
ایران کے پاس 2 ہفتوں کی مہلتان کا کہنا تھا کہ ایران کے پاس کشیدگی کم کرنے کے لیے صرف 2 ہفتوں کی مہلت ہے اور اگر تہران آبنائے ہرمز سے متعلق سخت مؤقف ترک کرکے دوبارہ مذاکراتی عمل کی طرف آ جائے اور پاکستان کی ثالثی کو موقع دے تو خطے میں جاری بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
عمران علی نے کہا کہ پاکستان پہلے بھی ایران اور امریکا کے درمیان ایک قابل قبول مفاہمتی دستاویز تیار کرا چکا ہے اس لیے اب بھی اسلام آباد مؤثر ثالث کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کو جذباتی فیصلوں کے بجائے وسیع تر علاقائی اور عالمی تناظر میں حکمت عملی اپنانا ہوگی۔
ایمبیسیڈر عمران علی کے مطابق ایران کی موجودہ پالیسی کا مقصد عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل پر دباؤ ڈال کر دنیا کو غزہ کے مسئلے پر متوجہ کرنا ہے تاہم یہ حکمت عملی اب الٹا اثر دکھا رہی ہے۔ ان کے بقول ریڈ سی اور باب المندب میں کشیدگی سے عالمی تجارت اور مسلم ممالک کو زیادہ نقصان پہنچ رہا ہے جبکہ اسرائیل اور امریکہ پر مطلوبہ دباؤ نہیں پڑ رہا۔
عالمی جنگ کے امکانات نہیںعالمی جنگ کے خدشات پر انہوں نے کہا کہ تیسری عالمی جنگ کے امکانات کم ہیں کیونکہ روس اور چین براہ راست اس تنازع میں شامل ہونے سے گریز کریں گے تاہم خلیجی خطے میں محدود علاقائی جنگ کا خطرہ موجود ہے خاص طور پر اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو یورپ سمیت دنیا کی توانائی منڈی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیں: پاک سعودی دفاعی معاہدہ، آج یوم تشکر منایا گیا
ایران کے اندر ممکنہ رجیم چینج سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں اس کا امکان کم ہے کیونکہ ریاستی کنٹرول مضبوط ہے، البتہ ایران کو جنگی کامیابی کے بیانیے کے بجائے امن اور سفارت کاری کو ترجیح دینی چاہیے۔
پاکستان امریکا سے براہ راست مالی معاونت حاصل کرےپاکستان کی سفارتی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حالیہ ثالثی کی کوششوں سے عالمی سطح پر پاکستان کا مثبت تشخص ابھرا ہے تاہم اس سفارتی کامیابی کو معاشی فوائد میں تبدیل کرنا ضروری ہے۔
انہوں نے تجویز دی کہ پاکستان کو اپنی سب سے بڑی معاشی ضرورت یعنی مالی خسارے کے لیے امریکا سے براہ راست مالی معاونت حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اب تک کتنے معاشی معاہدے اور اُن پر کیا پیشرفت ہوئی؟
ایمبیسیڈر عمران علی کے مطابق پاکستان کو اسلحے سے زیادہ معاشی استحکام کی ضرورت ہے اور حالیہ سفارتی کردار کو اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاک سعودی دفاعی معاہدہ حوثی باغی سابق سفیر عمران علی سعودی عرب پاکستان کی ریڈ لائن سعودی عرب کی خواہش