جی ٹی روڈ پر ٹریفک کاالمناک حادثہ، 5 افراد جاں بحق، 4 زخمی
اشاعت کی تاریخ: 14th, May 2025 GMT
لاہور(اوصاف نیوز) مصروف علاقے آخری منٹ اسٹاپ جی ٹی روڈ پر ایک ہولناک ٹریفک حادثہ پیش آیا، جس میں 5 افراد جاں بحق اور 4 شدید زخمی ہو گئے۔ ریسکیو ذرائع کے مطابق حادثہ ایک تیز رفتار ڈمپر اور رکشہ کے درمیان پیش آیا، جس نے بعد ازاں تین رکشوں اور دو موٹر سائیکل سواروں کو بھی روند ڈالا۔
ریسکیو 1122 کے مطابق جاں بحق ہونے والے تمام افراد موقع پر ہی دم توڑ گئے جبکہ زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں ان کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
حادثے کے بعد ایمرجنسی گاڑیاں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور ریسکیو اہلکاروں نے امدادی کارروائیاں شروع کیں۔
ریسکیو اہلکاروں نے بتایا کہ چار افراد ڈمپر کے نیچے پھنس گئے تھے جنہیں بڑی محنت کے بعد باہر نکالا گیا۔ زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد بھی جائے وقوعہ پر فراہم کی گئی۔
عینی شاہدین کے مطابق حادثہ مبینہ طور پر ڈمپر کی بریک فیل ہونے کے باعث پیش آیا، جس کے بعد ڈرائیور نے گاڑی پر قابو کھو دیا اور سامنے موجود رکشوں اور موٹر سائیکل سواروں کو کچل دیا۔
پولیس اور ٹریفک حکام بھی جائے حادثہ پر پہنچ چکے ہیں، جبکہ ڈمپر کو تحویل میں لے کر تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ حادثے کے باعث جی ٹی روڈ پر ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی، جسے بحال کرنے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔
باجوڑ: وزیراعظم کے مشیر ورکن قومی اسمبلی مبارک زیب کے گھر کے قریب دھماکا
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
پڑھیں:
پیٹرول مہنگا، کیا دفتروں کے لیے ہفتہ دوبارہ 3 یا 4 روز پر مشتمل ہوسکتا ہے؟
پیٹرول کی قیمتوں میں ہر روز اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور قیمت 327 روپے فی لیٹر سے تجاوز کر گئی ہے۔
اس اضافے کے بعد سرکاری و نجی شعبے کے ملازمین کی جانب سے حکومت سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ ایندھن کی بڑھتی لاگت کو مدنظر رکھتے ہوئے ہفتے میں دفتری حاضری کم کی جائے اور 2 روز گھر سے کام یعنی ورک فرام ہوم کی اجازت دی جائے۔
تاہم، اس وقت وفاقی حکومت کی جانب سے ہفتے میں صرف 3 دفتری دن یا 2 دن لازمی ورک فرام ہوم کرنے کی کوئی سرکاری تجویز یا منظوری سامنے نہیں آئی۔
یہ بھی پڑھیں:
البتہ حکومت ماضی کی طرح توانائی کی بچت اور کفایت شعاری کے مختلف اقدامات پر غور کر رہی ہے، لیکن موجودہ سرکاری معلومات کے مطابق 3 روزہ آفس ورک کے کسی فیصلے کے زیر غور ہونے کی تصدیق نہیں ہوئی۔
وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے وی نیوز کو بتایا کہ حکومت نے ماضی میں ایندھن بچانے کے لیے محدود مدت کے لیے دفتری اوقات اور ورکنگ ڈیز میں تبدیلیاں کی تھیں۔
’فی الحال حکومت نے دوبارہ ہفتے میں 3 یا 4 ورکنگ ڈیز نافذ کرنے کا کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا ہے، نہ ہی ایسی کوئی تجویز زیر غور ہے۔‘
مزید پڑھیں:
گریڈ 18 کے سرکاری افسر محمد جہانزیب بٹ سمجھتے ہیں کہ اگر ہفتے میں 3 دن دفتر اور 2 دن گھر سے کام کرنے کی اجازت دی جائے تو ان کے پیٹرول کی مد میں اخراجات میں نمایاں کمی آئے گی۔
’میرا زیادہ تر کام لیپ ٹاپ، آن لائن رابطے اور ٹیلی فون کے ذریعے مؤثر انداز میں انجام دیا جا سکتا ہے، جس سے کارکردگی بھی متاثر نہیں ہوگی۔‘
انہوں نے کہا کہ پیٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باعث میرے ماہانہ سفری اخراجات بہت بڑھ گئے ہیں، جبکہ آمدنی میں کوئی اضافہ نہیں ہوا، جس سے گھریلو بجٹ سنبھالنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں:
’اگر ہفتے میں 2 دن گھر سے کام کرنے کی اجازت مل جائے تو نہ صرف میرے سفری اخراجات کم ہوں گے بلکہ میں اپنی ذمہ داریاں بھی مؤثر انداز میں، بغیر کسی رکاوٹ کے، انجام دیتا رہوں گا۔‘
ٹیلی کام سیکٹر سے منسلک شہزاد خان نے وی نیوز کو بتایا کہ اب دنیا میں بیشتر نوکریاں ایسی ہیں جو لیپ ٹاپ اور انٹرنیٹ کی مدد سے باآسانی کی جا سکتی ہیں۔
گزشتہ 3 ماہ سے ہماری کمپنی نے جمعہ کے روز ورک فرام ہوم کی اجازت دے رکھی ہے لیکن کسی کے کام کا حرج نہیں ہوا۔
’مہنگائی کے اس دور اور پیٹرول کی بڑھتی قیمتوں کے باعث اگر ملازمین کو ہفتے میں 2 دن گھر سے کام کرنے کی اجازت دے دی جائے تو اس سے لوگوں کو بہت سہولت ہوگی۔‘
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آمدنی انٹرنیٹ ایندھن پیٹرول کمپنی گھریلو بجٹ لیپ ٹاپ ملازمین مہنگائی نوکریاں ورک فرام ہوم ورکنگ ڈیز