لاہور: ڈمپر نے 3 رکشوں اور دو موٹرسائیکلوں کو کچل دیا، 5 افراد جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 14th, May 2025 GMT
لاہور (نیوز ڈیسک) صوبائی دارالحکومت لاہور میں ڈمپر نے 3 رکشوں اور دو موٹرسائیکلوں کو کچل دیا۔
ریسکیو حکام کے مطابق افسوسناک حادثہ باغبانپورہ جی ٹی روڈ آخری منٹ کے قریب پیش آیا جہاں ڈمپر نے 3 رکشوں اور دو موٹرسائیکل سواروں کو روند ڈالا جس کے نتیجے میں 5 افراد جاں بحق ہوگئے جبکہ 4 زخمی ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ حادثہ ڈمپر کے بریک فیل ہونے کے باعث پیش آیا، حادثے کے بعد تیز رفتار ڈمپر الٹ گیا جبکہ ایک رکشہ مکمل طور پر تباہ ہوگیا۔
ریسکیو حکام کے مطابق حادثے کے بعد نعشوں اور زخمیوں کو ہسپتال منتقل کردیا گیا۔
دوسری جانب رحیم یار خان میں وائر لیس پل کے قریب موٹرسائیکل سوار طالبہ ٹریکٹر ٹرالی کی زد میں آ کر جاں بحق ہوگئی۔
ریسکیو حکام کے مطابق طالبہ موٹرسائیکل خود چلا رہی تھی، حادثہ ٹریکٹر ٹرالی ڈرائیور کی غفلت اور تیز رفتاری کے باعث پیش آیا، نعش کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
Post Views: 4.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ؛ بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان
اسلام آباد: ملک میں ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان ہے۔بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے. جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے .تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔