پاکستان سے تیل و گیس کے ذخائر دریافت کرنے کیلیے بڑے پیمانے پر کام شروع
اشاعت کی تاریخ: 14th, May 2025 GMT
کراچی:پاکستان سے تیل و گیس کے ذخائر دریافت کرنے کے لیے 10 بلاکس پر بڑے پیمانے پر کام شروع ہوگیا۔
تفصیلات کے مطابق بلوچستان، سندھ اور پنجاب میں واقع بلاکس سے تیل و گیس کے ذخائر وافر مقدار میں دریافت کیے جائیں گے۔
اس سلسلے میں ماڑی انرجیز نے قدرتی ذخائر بلاکس کی ورکنگ تفصیلات پاکستان اسٹاک ایکس چینج کی انتظامیہ کو ارسال کر دی ہیں۔
خط کے مطابق بلوچستان کے مختلف شہروں میں واقع 8 بلاکس سے ذخائر کی دریافت ہوگی جبکہ پنجاب اور سندھ میں واقع ایک ایک بلاکس سے ذخائر دریافت کیے جائیں گے۔
ماڑی انرجیز کے خط کے مطابق تیل و گیس کے ذخائر کی دریافت کے لیے ماری انرجیز، او جی ڈی سی ایل، ترکش پیڑولیم اور گورنمنٹ ہولڈنگ لمیٹڈ کے درمیان جوائنٹ وینچر کا معاہدہ طے پا گیا ہے۔
خط کے مطابق حکومت پاکستان نے تمام کمپنیوں کو نئے قدرتی ذخائر کی دریافت کے لیے لائسنس کا اجراء کر دیا ہے۔
Post Views: 5.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: تیل و گیس کے ذخائر کے مطابق
پڑھیں:
کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار مقرر کرنے کی سفارش
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے آئندہ مالی سال کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش کر دی۔
نجی ٹی وی چینل ہم نیوز کے مطابق پائیڈ نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شواہد پر مبنی فریم ورک رپورٹ تیار کرلی، کم از کم اجرت 40 ہزار سے بڑھا کر 45 ہزار روپے کرنے کی تجویز دی گئی ہے، اس طرح تنخواہوں میں 12.5 فیصد اضافہ ممکن ہوگا۔
رپورٹ کے مطابق کم از کم ماہانہ تنخواہ میں 12.5 فیصد اضافے سے کم آمدنی والے طبقے کی قوتِ خرید بہتر ہوگی اور انہیں مہنگائی کے اثرات سے تحفظ مل سکے گا۔ پائیڈ کا کہنا ہے کہ اجرتی پالیسی کا اثر غربت، روزگار، گھریلو طلب اور مقامی معیشت پر براہِ راست پڑتا ہے، اس لیے کم از کم اجرت کا معاملہ اب صرف لیبر ڈیپارٹمنٹ تک محدود نہیں رہا۔
اے این پی نے سوشل میڈیا پر مذہبی اشتعال انگیز مہم کیخلاف این سی سی آئی اے میں درخواست جمع کرادی
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جولائی تا اپریل مالی سال 2025-26 کے دوران اوسط افراطِ زر 6.19 فیصد رہی، جبکہ اپریل 2026 میں سالانہ بنیادوں پر مہنگائی کی شرح 10.9 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
پائیڈ نے زور دیا ہے کہ اجرتوں کو مہنگائی اور موجودہ معاشی حقائق کے مطابق بنایا جائے تاکہ سماجی استحکام، غربت میں کمی اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ کو یقینی بنایا جا سکے۔