چین نے لاطینی امریکہ کی ترقی کو سپورٹ کرنے کے لیے 20 اقدامات کا اعلان کیا ہے، چینی وزیر خارجہ
اشاعت کی تاریخ: 14th, May 2025 GMT
بیجنگ : چین کے وزیر خارجہ وانگ ای نے چائنا- سی ای ایل اے سی فورم کے چوتھے وزارتی اجلاس میں شرکت کرنے والے سی ای ایل اے سی کے شریک چیئرمین کولمبیا اور ہونڈوراس کے وزراء خارجہ کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کی اور سوالات کے جوابات دیئے۔ وانگ ای نے کہا کہ اجلاس میں بیجنگ اعلامیہ اور مشترکہ ایکشن پلان (2025-2027) جاری کیا گیا، فریقین نے تین سالہ تعاون کے 100 سے زائد منصوبوں پر اتفاق کیا۔ اس کے علاوہ، چین نے لاطینی امریکہ کی ترقی کو سپورٹ کرنے کے لیے 20 اقدامات کا اعلان بھی کیا۔ وانگ ای نے اجلاس میں حاصل ہونے والے اہم اتفاق رائے پر بھی روشنی ڈالی۔پہلا، چائنا- سی ای ایل اے سی فورم کا میکانزم روز بروز بہتر ہوتا جا رہا ہے۔اب تک چار وزراء اجلاس اور 31 شعبوں میں سو سے زائد ضمنی فورم کی کامیاب میزبانی کی گئی ہے جس سے چین-لاطینی امریکہ تعلقات کی ترقی کو مضبوطی سے فروغ دیا گیا ہے۔ دوسرا، چین اور لاطینی امریکہ مشترکہ تقدیر کے حامل ہیں ۔ چاہے بین الاقوامی صورتحال کتنی ہی تبدیل ہو جائے یا کسی بھی قسم کی بیرونی مداخلت کا سامنا ہو، فریقین ثابت قدمی سے ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے رہیں گے اور ہر طرح کے حالات میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔ تیسرا، چین-لاطینی امریکہ یکجہتی وقت کے تقاضوں کے عین مطابق ہے۔ چین اور لاطینی امریکہ گلوبل ساؤتھ کے اہم اراکین ہیں اور دنیا کو کثیر قطبی بنانے اور بین الاقوامی تعلقات کو جمہوری بنانے کی اہم قوتیں ہیں۔ انھیں یکجہتی اور تعاون کو مضبوط بنا کر تبدیلیوں اور افراتفری کا مقابلہ کرنا چاہیے اور دنیا میں امن اور ترقی کے لیے مثبت توانائی فراہم کرنی چاہیے۔ چوتھا، چین اور لاطینی امریکہ کے درمیان تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ چین اور لاطینی امریکہ مل کر 2 ارب آبادی پر مشتمل ایک سپر مارکیٹ تشکیل دے سکتے ہیں، جو نہ صرف اپنی اپنی ترقی کے لیے نئے انجن کا کام کرے گی بلکہ عالمی خوشحالی کے لیے نئے مواقع بھی پیدا کرے گی۔
Post Views: 2.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: چین اور لاطینی امریکہ کے لیے
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔