وادی نیلم :شاہکوٹ سیکٹر پر بھارتی فوج کا حملہ، خاتون شہید، متعدد مکانات تباہ
اشاعت کی تاریخ: 15th, May 2025 GMT
وادی نیلم(اوصاف نیوز) وادی نیلم کے علاقے شاہکوٹ سیکٹر پر بھارتی فورسز کی بلااشتعال فائرنگ سے ایک خاتون شہید جبکہ کئی رہائشی مکانات بری طرح متاثر ہوئے۔ مقامی آبادی کے مطابق بھارتی افواج نے بھاری ہتھیاروں کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں کئی خاندان بے گھر ہو گئے ہیں۔
علاقہ مکینوں نے حکومت اور ضلعی انتظامیہ سے فوری مدد کا مطالبہ کیا ہے۔ ایک متاثرہ شخص نے کہاکہ بمشکل جان بچا کر بنکر میں پناہ لی ابھی فی الحال ہم کھلے آسمان کے نیچے ہیں ، گھر مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے۔ حکومت ہمیں معاوضہ دے تاکہ ہم اپنے مکانات دوبارہ تعمیر کر سکیں۔ ضلعی انتظامیہ متاثرہ خاندانوں کی بحالی کے لیے فوری اقدامات کرے۔
مقامی افراد کا کہنا ہے کہ بھارتی جارحیت کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے۔ عوامی حلقوں نے اقوامِ متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس صورتِ حال کا نوٹس لیں اور نہتے شہریوں کی حفاظت یقینی بنائیں۔
رافیل کی ڈیل، مودی کے گلے کی ہڈی بن گئی، اربوں روپے کی ہیرا پھیری کا انکشاف
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
پڑھیں:
سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے
سکھر:سندھ کے مختلف اضلاع میں آنے والی شدید آندھی، مٹی کے طوفان اور موسلا دھار بارش نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی۔
مورو میں طوفانی ہواؤں کے باعث گھروں، دکانوں، ہوٹلوں اور سرکاری و نیم سرکاری عمارتوں کی چھتوں پر نصب سولر پلیٹیں اور سائن بورڈ اکھڑ کر دور جا گرے جبکہ متعدد مقامات پر درخت اور بجلی کی تاریں بھی زمین بوس ہوگئیں۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق مختلف حادثات میں کم از کم پانچ افراد زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
کئی علاقوں میں شہری خوف و ہراس کا شکار رہے جبکہ طوفان کے باعث معمولات زندگی شدید متاثر ہوئے۔
دوسری جانب لاڑکانہ، شکارپور، دادو اور گرد و نواح میں خراب موسمی صورتحال کے باعث بجلی کا ترسیلی نظام بھی بری طرح متاثر ہوا۔
سیپکو حکام کے مطابق شدید آندھی اور بارش کے نتیجے میں 220 کے وی گرڈ اسٹیشن لوڈرا، شکارپور اور دادو سے آنے والی 132 کے وی مین سپلائی متاثر ہوگئی جس کے باعث لاڑکانہ سرکل کے متعدد فیڈرز بند ہوگئے۔
سیپکو کنٹرول سینٹر کے مطابق طوفانی موسم سے 220 کے وی اور 132 کے وی کی متعدد اہم ٹرانسمیشن لائنیں ٹرپ کر گئیں جبکہ کئی مقامات پر ٹاورز، پولز اور بجلی کی لائنوں کو نقصان پہنچا ہے۔
صورتحال کے باعث مجموعی طور پر 46 گرڈ اسٹیشنز متاثر ہوئے جس سے لاڑکانہ، قمبر، شہدادکوٹ، کشمور، کندھکوٹ، گھوٹکی، خیرپور، نوشہروفیروز، مورو اور دیگر علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل یا شدید متاثر ہوگئی۔
سیپکو کے چیف ایگزیکٹو آفیسر انجینئر اعجاز احمد چنہ کی ہدایات پر آپریشن، کنسٹرکشن، جی ایس او اور فیلڈ ٹیموں کو ہنگامی بنیادوں پر متحرک کر دیا گیا ہے۔
انجینئرز اور تکنیکی عملہ متاثرہ علاقوں میں مرمتی کاموں میں مصروف ہے اور خراب ہونے والے پولز، ٹاورز اور ٹرانسمیشن لائنوں کی بحالی کا عمل جاری ہے۔
سیپکو حکام کا کہنا ہے کہ ادارہ اپنے تمام دستیاب وسائل استعمال کرتے ہوئے بجلی کی جلد بحالی کے لیے کام کر رہا ہے تاہم شدید موسمی حالات کے باعث مرمتی سرگرمیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔
متاثرہ علاقوں کے صارفین سے صبر و تحمل کی اپیل کرتے ہوئے یقین دلایا گیا ہے کہ بجلی کی فراہمی جلد از جلد بحال کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔