5 ہزار پاکستانی گداگرڈی پورٹ ، سب سے زیادہ کس صوبے سے ہیں؟
اشاعت کی تاریخ: 15th, May 2025 GMT
سعودی عرب نے گزشتہ 16 ماہ کے دوران مجموعی طور پر 5033 پاکستانی بھکاریوں کو ڈی پورٹ کیا، جبکہ مزید 369 افراد کو پانچ دیگر ممالک میں بھیک مانگنے پر پکڑا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:سعودی عرب میں گداگری کرنے والے 10 پاکستانی ڈی پورٹ، واپسی پر گرفتار
یہ معلومات گزشتہ روز کو قومی اسمبلی کے سامنے وزیر داخلہ محسن نقوی نے پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی ایم این اے سحر کامران کے ایک سوال کے تحریری جواب میں فراہم کی۔
وزیر داخلہ کی جانب سے فراہم کردہ سرکاری اعداد و شمار سے پتا چلتا ہے کہ جنوری 2024 سے اب تک سعودی عرب، عراق، ملائیشیا، عمان، قطر اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) سے مجموعی طور پر 5,402 پاکستانیوں کو ڈی پورٹ کیا جا چکا ہے۔
سال 2024 میں ان ممالک سے 4,850 پاکستانی شہریوں کو ڈی پورٹ کا سامنا کرنا پڑا جبکہ اس سال 552 پاکستانی واپس آئے ہیں۔ اس کے علاوہ 369 افراد پانچ دیگر ممالک میں بھیک مانگتے ہوئے پکڑے گئے۔
یہ بھی پڑھیں:دبئی میں گداگروں کے خلاف کریک ڈاؤن، 9 افراد گرفتار
ان اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 52 فیصد جلاوطن افراد کا تعلق سندھ سے ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ صوبے کے حساب سے اعداد و شمار کی بریک اپ سے پتا چلتا ہے کہ ان ممالک سے ڈی پورٹ کیے جانے والوں میں سے زیادہ تر کا تعلق صوبہ سندھ سے ہے۔
ان ممالک سے بھیک مانگنے کے الزام میں ڈی پورٹ کیے جانے والوں میں صوبے کے کل 2795 افراد شامل ہیں، جب کہ پنجاب سے تعلق رکھنے والے ایسے افراد کی تعداد 1437 ہے۔
اعدادوشمار کے مطابق 6 ممالک سے ڈی پورٹ کیے جانے والوں میں خیبرپختونخوا سے 1002، بلوچستان سے 125، آزاد کشمیر سے 33 اور اسلام آباد سے 10 افراد شامل ہیں۔
سعودی عرب کے بعد عراق سے سب سے زیادہ 247 پاکستانیوں کو وطن واپس لایا گیا ہے۔
متحدہ عرب امارات، جس نے حکومت پاکستان سے اس معاملے کو زیادہ بھرپور طریقے سے اٹھایا اور پاکستانی شہریوں کے ویزوں پر سخت پابندیاں عائد کیں، اس عرصے کے دوران اب تک ایسے 58 افراد کو ملک بدر کر چکا ہے۔
واضح رہے کہ سحر کامران کی جانب سے گزشتہ 3 برس کا ڈیٹا طلب کیا گیا تھا، لیکن وزیر داخلہ نے جنوری 2024 سے شروع ہونے والی مدت کی تفصیلات فراہم کیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاکستان سحرکامران سعودی عرب عراق گداگر محسن نقوی وزیرداخلہ یو اے ای.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستان سحرکامران گداگر محسن نقوی وزیرداخلہ یو اے ای ممالک سے ڈی پورٹ
پڑھیں:
پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
پاکستان اور اٹلی نے باہمی تعلقات کو مزید مضبوط بناتے ہوئے سفارتی پاسپورٹ رکھنے والوں کے لیے ویزا کی شرط ختم کرنے کے ایک تاریخی معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔ اس معاہدے کو دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات میں ایک انتہائی اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔
معاہدے پر دستخط کی تقریب اور اہم ملاقاتاٹلی کے دارلحکومت روم میں منعقدہ ایک پروقار تقریب کے دوران اٹلی میں تعینات پاکستانی سفیر علی جاوید اور اٹلی کی وزارتِ خارجہ کے سیکریٹری جنرل ریکارڈو گوارگلیا نے اس اہم معاہدے پر دستخط کیے۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان اٹلی سے دفاعی تعاون کے فروغ اور باہمی تجربے سے مستفید ہونا چاہتا ہے، وزیردفاع
دستخطی تقریب سے قبل دونوں اعلیٰ حکام کے درمیان ایک تفصیلی دو طرفہ ملاقات بھی ہوئی، جس میں باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی صورتحال اور بین الاقوامی فورمز، خصوصاً اقوام متحدہ اور یورپی یونین میں تعاون کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
باہمی اعتماد اور سفارتی وفود کا تبادلہسرکاری بیان کے مطابق دونوں فریقین نے وسعت اور مثبت سمت پر گامزن پاک، اٹلی تعلقات پراطمینان کا اظہار کیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ نیا معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان موجود گہرے باہمی اعتماد، لازوال دوستی اور قریبی تعاون کی واضح علامت ہے۔ اس اقدام سے سرکاری اور سفارتی وفود کے تبادلوں میں حائل رکاوٹیں دور ہوں گی اور عوامی و حکومتی سطح پر روابط کو مزید فروغ ملے گا۔
پاک، اٹلی تعلقات کا تاریخی فریم ورکپاکستان اور اٹلی کے درمیان طویل عرصے سے مختلف شعبوں میں قریبی تعاون جاری ہے۔ اس وقت دونوں ممالک کے مابین 15 سرکاری معاہدے نافذ العمل ہیں، جو سیاحت، ثقافت، سائنس و ٹیکنالوجی، کھیل، اعلیٰ دفاعی تعلیم اور انسدادِ منشیات جیسے شعبوں کا احاطہ کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ، دونوں ممالک کی جامعات اور تحقیقی اداروں کے درمیان 21 مفاہمتی یادداشتیں (ایم او یوز) بھی فعال ہیں۔
مزید پڑھیں:پاکستانی طالب علم اٹلی میں مفت اسکالرشپ اور لاکھوں روپے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟
دو طرفہ تعلقات کے اہم فریم ورک میں 2009 کا دفاعی تعاون معاہدہ، 2013 میں قائم کیا گیا اسٹریٹجک انگیجمنٹ پلان اور 2005 میں تشکیل دی گئی مشترکہ اقتصادی کمیشن شامل ہیں۔
اس سے قبل 1997 کا سرمایہ کاری تحفظ معاہدہ، 1983 کا دوہری شہریت کا معاہدہ اور 1972 کا حوالگیِ مجرمان معاہدہ بھی دونوں ممالک کے تعلقات میں اہم سنگِ میل سمجھے جاتے ہیں۔
پاکستانیوں کے لیے ’لیبر مائیگریشن‘ معاہدہ اور ملازمتیںرپورٹ کے مطابق 7 مئی 2025 کو اسلام آباد میں دونوں ممالک کے درمیان ’لیبر موبیلٹی اینڈ مائیگریشن‘ کی ایک اہم ترین یادداشت پر دستخط کیے گئے تھے۔ یہ کسی بھی یورپی ملک کے ساتھ پاکستان کا پہلا باضابطہ لیبر معاہدہ تھا، جس کے تحت پاکستانی ہنر مندوں کے لیے اٹلی میں 10,500 مخصوص ملازمتوں کے مواقع فراہم کیے گئے ہیں، جو پاکستانی افرادی قوت کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے۔
سال 2026 کے اختتام پر اہم مذاکرات کی تیاریملاقات کے دوران سفیر علی جاوید نے سیکریٹری جنرل ریکارڈو گوارگلیا کو پاکستان کے دورے کی دعوت دی تاکہ دونوں ممالک کے درمیان ’دو طرفہ سیاسی مشاورت‘ کے ساتویں دور کا انعقاد کیا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان سال 2026 کی آخری سہ ماہی میں ان مذاکرات کی میزبانی کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
اس کے ساتھ ہی انہوں نے اسلام آباد میں اٹلی کے نئے تعمیر شدہ سفارت خانے کے جلد افتتاح کی خواہش کا بھی اظہار کیا، جو کہ دنیا بھر میں اٹلی کا سب سے بڑا سفارتی مشن ہوگا۔ یہ تمام اقدامات مستقبل میں دونوں ممالک کو معاشی، سفارتی اور عوامی سطح پر ایک دوسرے کے مزید قریب لے آئیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اٹلی اہم مذاکرات پاسپورٹ پاکستان علی جاوید لیبر مائیگریشن معاہدہ ملازمین