چین نے بھارت پر کاری ضرب لگاتے ہوئے نئی دہلی کے زیرِ قبضہ اروناچل پردیش کو زنگنان کا نام دیتے ہوئے اسے اپنا علاقہ قرار دے دیا ہے۔   اور زنگنان کے 27 مقامات کے نام بھی تبدیل کر دیئے ہیں۔چینی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ چین کی حکومت نے زنگنان (اروناچل پردیش) کے مقامات کے نام تبدیل کرنا چینی خود مختاری ہے، زنگنان تاریخی، جغرافیائی اور انتظامی اعتبار سے چین کا حصہ ہے، ان مقامات کو چینی نام دینا ہمارے اندرونی معاملات میں شامل ہے۔بیان میں کہا گیا کہ یہ اقدام چین کے خودمختار انتظامی دائرہ اختیار کے تحت کیا گیا ہے، ایسا کرنے کا مقصد خطے میں تاریخی اور ثقافتی شناخت کو اجاگر کرنا ہے۔بھارت زنگنان کو اروناچل پردیش کے نام سے اپنا حصہ قرار دیتا ہے جبکہ چین اسے جنوبی تبت کا علاقہ تصور کرتا ہے، دونوں ممالک کے درمیان اس مسئلے پر پہلے ہی کشیدگی پائی جاتی ہے۔دفاعی ماہرین نے کہا ہے کہ پاکستان کے بھارتی جارحیت پر منہ توڑ جواب کے بعد چین کی جانب سے زنگنان پر دو ٹوک موقف بھارتی حکومت کیلئے بڑا دھچکا ہے، مودی حکومت نے خطے کے ہر ملک کے ساتھ تنازع کھڑا کرکے ثابت کیا ہے کہ بھارتی حکومت خطے کے امن کی دشمن ہے،علاوہ امیں  اروناچل پردیش میں جگہوں کے نام تبدیل کرنے کی چین کی کوشش کو ایک فضول اور مضحکہ خیز کوشش قرار دیتے ہوئے  بھارت نے  اس بات کا اعادہ کیا کہ اس طرح کی کوششوں سے اس ناقابل تردید حقیقت میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی کہ یہ ریاست بھارت کا اٹوٹ اور لازم و ملزوم حصہ تھی، ہے اور رہے گی۔  چینی حکومت کے اس اقدام پر میڈیا کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا ہے کہ ہم نے مشاہدہ کیا ہے کہ چین نے بھارتی ریاست اروناچل پردیش میں جگہوں کے نام بدلنے کی اپنی فضول اور مضحکہ خیز کوششیں جاری رکھی ہوئی ہیں۔ اپنے اصولی موقف کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم ایسی کوششوں کو واضح طور پر مسترد کرتے ہیں۔جیسوال نے کہا کہ  تخلیقی نام تبدیل کرنے سے اس ناقابل تردید حقیقت میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی کہ اروناچل پردیش  بھارت کا ایک اٹوٹ اور لازم و ملزوم حصہ تھا، ہے اور رہے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: اروناچل پردیش نام تبدیل چین کی کے نام نے کہا

پڑھیں:

پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار

نائب وزیر اعظم اور وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان آسیان ریجنل فورم کے ذریعے علاقائی امن، استحکام اور تعاون کے لیے پرعزم ہے اور مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے فعال سفارتی کردار جاری رکھا ہوا ہے۔

فلپائن کے دارالحکومت منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے وزارتی اجلاس سے خطاب میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان نے مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کے لیے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہو ئے ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ تمام فریق تحمل کا مظاہرہ کریں اور سفارت کاری کے ذریعے مسائل حل کریں۔

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ جموں و کشمیرکے تنازع کا حل ہی جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی بنیاد ہے، بھارت کا سندھ طاس معاہدہ معطل کرنا تشویش ناک اور اشتعال انگیز اقدام ہے۔

اسحاق ڈار نے فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کے لیے غیرمتزلزل حمایت کا اعادہ کیا اور کہا کہ افغان سرزمین سے دہشت گردی پاکستان کے لیے سنگین خطرہ ہے۔

متعلقہ مضامین

  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘بارشوں نے تباہی مچادی
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار