میڈیا ہمارا فخر ہے، بھارتی میڈیا کو جو جواب دیا وہ یادگار ہے، آرمی چیف
اشاعت کی تاریخ: 16th, May 2025 GMT
اسلام آباد:
چیف آف آرمی اسٹاف جنرل عاصم منیر نے پاک-بھارت کشیدگی کے دوران پاکستانی میڈیا کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے اپنا فخر قرار دیا اور کہا کہ ہمارے میڈیا نے بھارتی میڈیا کو جو جواب دیا وہ یادگار ہے۔
آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے اسلام آباد میں یوم تشکر کی مناسبت سے منعقدہ تقریب میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا ہمارا فخر ہے اورہم نے کچھ چھپایا نہیں ساری حقیقت بتا دی۔
انہوں نے کہا کہ میڈیا کا کردار پورے معاملے میں شان دار رہا ہے، ہمارے میڈیا نے بھارتی میڈیا کو جو جواب دیا وہ یادگار ہے، جس طرح ہمارے میڈیا نے جواب دیا اس پر ہمیں فخر ہے اور ہمارے میڈیا کا کردار ذمہ دارانہ تھا۔
جنرل عاصم منیر نے کہا کہ پوری قوم نے متحد ہو کر دشمن کا مقابلہ کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ہمارے میڈیا جواب دیا کہا کہ
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔