لاہور: شوہر نے دوسری بیوی کو فائرنگ کرکے قتل کردیا
اشاعت کی تاریخ: 17th, May 2025 GMT
فائل فوٹو
لاہور کے علاقے نشتر کالونی میں ایک شخص نے گھریلو جھگڑے پر اپنی دوسری بیوی کو مبینہ طور پر فائرنگ کر کے قتل کر دیا۔
پولیس کے مطابق نشتر کالونی کے رہائشی اعجاز نے 6 ماہ قبل اقرا نامی خاتون سے دوسری شادی کی تھی تاہم پہلی بیوی اعجاز کو اُکساتی تھی کہ وہ اقرا کو طلاق دے۔
ملزم شاہد اور پہلی بیوی نے دوسری بیوی کے گلے میں پھندا ڈال کر اسے قتل کردیا، جس کے بعد ملزمان فرار ہوگئے۔
پولیس نے بتایا کہ گزشتہ روز کسی بات پر اقرا اور اعجاز کے درمیان جھگڑا ہوگیا جس پر ملزم نے مبینہ طور پر فائرنگ کر کے اقرا کو قتل کر دیا اور فرار ہوگیا۔
پولیس نے مقتولہ کے چچا ماجد علی کی مدعیت میں قتل کا مقدمہ درج کرکے ملزم کی تلاش شروع کردی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: دوسری بیوی قتل کر
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔