حب الوطنی میں وقار لازم ہے، افتخار ٹھاکر کا بھارتی پنجابی فلموں میں کام سے انکار
اشاعت کی تاریخ: 17th, May 2025 GMT
اسٹیج اور ڈراما انڈسٹری کے مقبول مزاحیہ اداکار اور میزبان افتخار ٹھاکر نے بھارت کی پنجابی شوبز ستاروں کو کرارا جواب دیدیا۔
معروف اداکار افتخار ٹھاکر نے نفرت آمیز بیانات دینے والے بھارتی فنکاروں اور سیاستدانوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ محبت ہو یا حب الوطنی، شائستگی اور تہذیب کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے۔
اداکار افتخار ٹھاکر نے کہا کہ میں وہ پہلا پاکستانی فنکار تھا جس نے بھارتی پنجابی فلموں میں کام کیا اور شاید اب آخری بھی ہوں کیوں کہ میں اس دروازے کو بند کرنے کا اعلان کر رہا ہوں۔
افتخار ٹھاکر نے کہا کہ میرے ایک بیان پر چند بھارتی فنکار ناراض ہوگئے۔ سِمی چوہل، دلجیت دوسانج، اور امرندر گِل میرے دوست ہیں۔
اداکار نے مزید کہا کہ ان سب نے میرے ایک بیان پر ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ میں ان سب کی عزت بھی کرتا ہوں۔
افتخار ٹھاکر نے کہا کہ لیکن میں یہ ضرور کہوں گا کہ جو بہادر ماؤں کا دودھ پیتے ہیں وہ دوسروں سے ہمیشہ عزت اور وقار سے بات کرتے ہیں۔
اداکار نے مزید کہا کہ کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو بدزبان ہوتے ہیں اور اخلاقیات کی حدود پار کر جاتے ہیں۔
افتخار ٹھاکر نے کہا کہ اگر میری بات سے بھارتی دوستوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچی تو میں دلی معذرت خواہ ہوں، میرا مقصد ہرگز کسی کی دل آزاری نہیں تھی۔
اداکار نے کہا کہ میرا بیان جنگ کو ہوا دینے اور سنسنی پھیلانے والے بھارتی فوجی تجزیہ کاروں، خاص طور پر میجر گورو آریہ اور جنرل بخشی جیسے انتہا پسندوں کے لیے تھا۔
خیال رہے کہ افتخار ٹھاکر پاکستان کے ساتھ ساتھ بھارت میں بھی یکساں طور پر مقبول ہیں اور انھوں نے کئی بھارتی فلموں میں کام بھی کیا ہے۔
افتخار ٹھاکر نے اپنے ایک بیان میں پاک فضائیہ کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے بھارتی سورماؤں سے کہا تھا کہ اگر تم ہوا کے راستے آؤ گے تو بکھر جاؤ گے، پانی کے ذریعے آئے تو ڈوب جاؤ گے، اور زمین سے آئے تو دفن کر دیئے جاؤ گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
مودی کی ناکام پالیسیاں؛ بھارتی نوجوانوں کی تحریک بے قابو ہونے کا اندیشہ
بی جے پی کی کٹھ پتلی مودی سرکار کی غلط پالیسیوں کا نتیجہ سامنے آنے لگا، جہاں بھارت میں نوجوانوں کی تحریک بےقابو ہونے کا اندیشہ بڑھ گیا ہے۔
بھارتی نوجوانوں نے مودی سرکارکو چیلنج کرتے ہوئے کاکروچ پارٹی کی جانب سے نئی دہلی میں احتجاج کی کال دے دی گئی ہے۔ خدشہ ہے کہ پارٹی آہستہ آہستہ زور پکڑتی جائے گی کیونکہ بھارت کے اندر بےتحاشا تضادات اور گروہ بندی پائی جاتی ہے ۔
بھارت میں مودی سرکار نے ان گروہ بندیوں کو کم کرنے کے بجائے ان کو مزید مذہبی بنیادوں پر ہوا دے دی ہے، جہاں نوجوان جو نسلی، ذات اور مذہب کی بنیاد پر دھتکارے جا چکے ہیں، انہیں بھارت میں اپنا مستقبل تاریک نظر آتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کے کاکروچ پارٹی بےحد مقبول ہوتی جا رہی ہے ۔
نیپال اور بنگلادیش کے بعد بھارت میں کاکروچ پارٹی کی جین زی انقلابی تحریک زورپکڑنے لگی ہے۔ عالمی جریدے رائٹرزکےمطابق کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دِپکے نے کہا ہے کہ ہم اس تحریک سے پیچھے نہیں ہٹیں گےاورمیں جلد بھارت آکراس تحریک کوآگے بڑھاؤں گا۔
ابھیجیت دِپکے کا کہنا ہے کہ خدشہ ہےکہ مجھےایئرپورٹ سے ہی گرفتارکرکےجیل بھیج دیا جائے گا لیکن مجھے کوئی پروا نہیں ہے۔
رائٹرز کے مطابق بے روزگاری،کرپشن اورپیپرلیک نے کروڑوں طلبہ کی زندگیوں کومذاق بنا دیا، یہی بحران اس تحریک کے اصل محرکات ہیں۔
سینئر وکیل پرشانت بھوشن کے مطابق مودی سرکاربھارت میں کسی بھی جین زی انقلاب سے بہت ڈری ہوئی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت میں بڑھتی بے روزگاری اورکرپشن پر نوجوانوں کا غصہ تباہ حال نظام کے خلاف ان کا حقیقی ردِعمل ہے۔ بھارت کی گرتی ہوئی معاشی صورتحال، گرتی ساکھ اورمودی سرکارکی انتہا پسندانہ پالیسیاں عوامی غم و غصے کی بنیاد بن رہی ہیں۔