بھارت کی حرکتیں تیسرے درجے کی ٹیم جیسی ہیں، باسط علی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, October 2025 GMT
کراچی:
سابق ٹیسٹ کرکٹر باسط علی نے کہا ہے کہ بلو شرٹس نمبر ون ضرور ہیں لیکن ان کی حرکتیں تیسرے درجے کی ٹیم جیسی ہیں۔
باسط علی نے بھارت کی جانب سے کھیل کو سیاست زدہ کرنے کے عمل پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت دنیا کی نمبر ون ٹیم ضرور ہے لیکن ان کے رویے تیسرے درجے والے ہیں، اگر محسن نقوی کو ٹرافی دینا تھی تو انکار کرنا بلو شرٹس کے لیے باعث شرم ہے۔
سابق بیٹر نے سوال اٹھایا کہ اگر پاکستان کسی آئی سی سی ایونٹ میں جے شاہ سے ٹرافی لینے سے انکار کرتا تو پوری دنیا ہمیں تنقید کا نشانہ بناتی، بھارتی ٹیم کی ضد اور انا کی سیاست کرکٹ کے حسن کو نقصان پہنچا رہی ہے۔
یاد رہے کہ ایشیا کپ میں میدان کے اندر اور باہر کئی متنازع واقعات ہوئے جنہوں نے ایونٹ کے حسن کو گہنا دیا تاہم ٹرافی تنازع نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا۔ بلو شرٹس نے فتح کے باوجود ٹرافی وصول کرنے سے انکار کردیا۔ بھارت نے تقریب تقسیم انعامات کا بائیکاٹ کرتے ہوئے جشن منانے کی روایات کو ٹرافی کے بغیر ہی مکمل کیا۔
چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ و صدر ایشین کرکٹ کونسل محسن نقوی انعامات دینے کے لیے تیار تھے تاہم بھارتی ٹیم نے ان سے ٹرافی لینے سے ہی انکار کردیا، اس کی وجہ سے تقریب تقریباایک گھنٹے تاخیر کا شکار رہی اور بالآخر بھارتی کھلاڑی ٹرافی وصول کیے بغیر ہی میدان سے باہر چلے گئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
قادر آباد بیراج پر اونچے درجے کا سیلاب، چناب میں پانی کا بہاؤ بڑھ گیا
محکمہ انہار کے مطابق قادر آباد بیراج پر پانی کی آمد 2 لاکھ 45 ہزار 234 کیوسک جبکہ اخراج 2 لاکھ 41 ہزار 415 کیوسک ریکارڈ کیا گیا، جہاں اونچے درجے کا سیلاب ہے۔ اسلام ٹائمز۔ دریائے چناب میں پانی کے بہاؤ میں اضافے کے بعد قادر آباد بیراج پر اونچے جبکہ مرالہ اور خانکی بیراج پر درمیانے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے۔ محکمہ انہار کے مطابق ہیڈ مرالہ پر پانی کی آمد ایک لاکھ 95 ہزار 856 کیوسک جبکہ اخراج ایک لاکھ 60 ہزار 108 کیوسک ریکارڈ کیا گیا، جہاں درمیانے درجے کا سیلاب ہے اور پانی کے بہاؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔
خانکی بیراج پر پانی کی آمد ایک لاکھ 65 ہزار 438 کیوسک اور اخراج ایک لاکھ 60 ہزار 108 کیوسک ریکارڈ کیا گیا، جہاں نچلے سے درمیانے درجے کا سیلاب ہے۔ محکمہ انہار کے مطابق قادر آباد بیراج پر پانی کی آمد 2 لاکھ 45 ہزار 234 کیوسک جبکہ اخراج 2 لاکھ 41 ہزار 415 کیوسک ریکارڈ کیا گیا، جہاں اونچے درجے کا سیلاب ہے۔