پاکستان اور بھارت کے ڈی جی ملٹری آپریشنز کے درمیان آج پھر رابطہ ہوگا
اشاعت کی تاریخ: 19th, May 2025 GMT
اسلام آباد:
پاکستان اور بھارت کے ڈی جی ملٹری آپریشنز کے درمیان آج پھر رابطہ ہوگا۔
ڈی جی ایم اوز کے درمیان پاک بھارت کشیدگی کم کرنے پر بات چیت کی جائے گی۔ جمعرات کو ڈی جی ایم اوز کے درمیان گفتگو میں جنگ بندی میں اتوار تک توسیع پر اتفاق ہوا تھا۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان 10 مئی کو ہونے والی جنگ بندی کے بعد ڈی جی ایم اوز کا پہلا رابطہ 12 مئی کو ہوا تھا۔ دونوں ممالک کے درمیان ڈی جی ایم اوز کے مذاکرات کے کئی راؤنڈز ہوچکے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز کے درمیان پاک بھارت جنگ بندی کے بعد آج چوتھی مرتبہ رابطہ ہوگا جس میں سیز فائر میں توسیع کا معاملہ زیر غور آئے گا۔
یاد رہے کہ بھارت نے 6 اور 7 مئی 2025 کی شب پاکستان پر بزدلانہ حملے کرتے ہوئے معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا تھا جس کے جواب میں پاک فوج نے ’آپریشن بنیان مرصوص‘‘ کے ذریعے دشمن کو نشانہ بناتے ہوئے دشمن کی پوزیشنز پر انتہائی درستگی سے جوابی حملے کیے۔
پاک فوج نے بھارت کے اہم عسکری، لاجسٹک اور ڈیجیٹل ڈھانچوں کو شدید نقصان پہنچایا جبکہ دشمن کے تین جدید رافیل طیاروں سمیت 6 جنگی جہاز گرادیے گئے۔ امریکی صدر ٹرمپ نے 10 مئی کو اچانک ایکس پر دونوں ملکوں کے درمیان جنگ بندی کا اعلان کیا تھا۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان ڈی جی ایم اوز کے درمیان بھارت کے
پڑھیں:
ایران نے عراق کے ذریعے بھیجی گئی جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دیں
ایران نے عراق کے ذریعے بھیجی گئی جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دیں WhatsAppFacebookX 0 24 July, 2026 سب نیوز
تہران / واشنگٹن(آئی پی ایس )امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے دعوی کیا ہے کہ ایران نے عراق کے ذریعے امریکا کی جانب سے پیش کی گئی جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دی ہے۔رپورٹ کے مطابق تہران نے واضح کیا ہے کہ عارضی جنگ بندی اس وقت تک قابل قبول نہیں جب تک بنیادی تنازعات، خصوصا آبنائے ہرمز کے معاملے، کا حل پیش نہ کیا جائے۔
رپورٹ کے مطابق عراقی وزیراعظم علی الزیدی حالیہ دور واشنگٹن کے بعد تہران پہنچے، جہاں انہوں نے ایرانی قیادت سے ملاقاتیں کیں اور امریکا کی جانب سے جنگ بندی سے متعلق پیغام پہنچایا۔نیویارک ٹائمز کے مطابق امریکی تجویز کی مکمل تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آئیں، تاہم ایرانی حکام نے مقف اختیار کیا کہ مختصر یا عارضی جنگ بندی سے مسئلہ حل نہیں ہوگا، کیونکہ اس میں آبنائے ہرمز کے کنٹرول اور دیگر اہم معاملات پر کوئی واضح پیش رفت شامل نہیں۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اس حوالے سے کہا کہ عراقی وزیراعظم نے واشنگٹن میں ہونے والی ملاقاتوں اور اپنے مشاہدات سے ایران کو آگاہ کیا، تاہم ایران اور امریکا کے درمیان پہلے ہی مختلف ممالک ثالثی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔عباس عراقچی نے مزید کہا کہ اصل مسئلہ پیغامات کی ترسیل نہیں بلکہ امریکا کا رویہ ہے۔ ان کے مطابق واشنگٹن کا غیرمنطقی، لالچی اور دوسروں پر کنٹرول قائم کرنے والا طرزِ عمل موجودہ بحران کی بنیادی وجہ ہے۔رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران اب بھی اپنے بنیادی مطالبات پر قائم ہے اور کسی ایسے معاہدے پر آمادہ نہیں جو اس کے اسٹریٹجک مفادات کو نظر انداز کرے۔
دوسری جانب خبر شائع ہونے تک امریکی حکومت نے نیویارک ٹائمز کی اس رپورٹ یا ایران کے مقف پر باضابطہ ردعمل جاری نہیں کیا تھا۔سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق عراق، قطر، پاکستان اور دیگر علاقائی ممالک کی ثالثی کی کوششیں بدستور جاری ہیں، تاہم ایران اور امریکا کے درمیان اہم اختلافات برقرار رہنے کے باعث فوری پیش رفت کے امکانات محدود دکھائی دیتے ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبرغیر ضروری وزارتیں ختم کرکے 5 ہزار ارب کی بچت ممکن ہے، سینیٹ کمیٹی اگلی خبرپاکستان میں دہشت گردی کے پیچھے بھارت کا کردار واضح ہے، وزیراعظم پاکستان کے سب سے بڑے ڈیٹا سینٹر اسکائی 47 قراقرم ون کا افتتاح کر دیا پاکستان میں دہشت گردی کے پیچھے بھارت کا کردار واضح ہے، وزیراعظم غیر ضروری وزارتیں ختم کرکے 5 ہزار ارب کی بچت ممکن ہے، سینیٹ کمیٹی جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران چینی وزیر خارجہ سے ملاقات، علاقائی امن کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہنے پر اسحاق ڈار کا اظہارِ تشکر وزیراعظم نے لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا کو فور اسٹار جنرل کے عہدے پر ترقی دے دیCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم