غربت کا خاتمہ دنیا کے تمام ممالک کا مشترکہ نصب العین ہے، چینی صدر
اشاعت کی تاریخ: 20th, May 2025 GMT
چین نے غربت میں کمی کا ہدف مقررہ وقت سے 10 سال پہلے حاصل کر لیا ہے، شی جن پھنگ
بیجنگ : چینی صدر شی جن پھنگ نے غربت میں کمی اور پائیدار ترقی سے متعلق شنگھائی تعاون تنظیم کے فورم 2025 کو تہنیتی پیغام بھیجا۔منگل کے روز اپنے پیغام میں شی جن پھنگ نے کہا کہ غربت کا خاتمہ ایک عالمی مسئلہ اور دنیا کے تمام ممالک کا مشترکہ نصب العین ہے۔ چین نے کٹھن کوششوں کے ذریعے پائیدار ترقی کے لئے اقوام متحدہ کے 2030 کے ایجنڈے میں غربت میں کمی کا ہدف مقررہ وقت سے 10 سال پہلے حاصل کر لیا ہے اور چینی خصوصیات کےحامل تخفیف غربت پروگرام پر گامزن ہو کر انسانی تاریخ میں اس حوالے سے ایک نیا باب رقم کیا ہے۔ شی جن پھنگ نے اس بات پر زور دیا کہ غربت میں کمی کا مسئلہ، آخرکار ترقی سے وابستہ ہے ۔ اپنے پیغام میں شی جن پھنگ نے کہا کہ حالیہ برسوں میں، شنگھائی تعاون تنظیم نے غربت کے خاتمے اور پائیدار ترقیاتی تعاون کے شعبے میں نمایاں نتائج حاصل کیے ہیں.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: شی جن پھنگ نے پائیدار ترقی
پڑھیں:
چینی چڑیا گھر میں جانور گرمی کی شدید لہر سے کیسے محفوظ رہتے ہیں؟
چین کے جنوب مغربی شہر چونگ چنگ میں شدید گرمی کے پیش نظر چونگ چنگ چڑیا گھر نے جانوروں کو محفوظ اور آرام دہ رکھنے کے لیے خصوصی انتظامات کیے ہیں۔ پانڈا، ہاتھی، دریائی گھوڑوں اور دیگر جانوروں کو ٹھنڈے پانی، پھلوں اور جدید کولنگ سسٹمز کے ذریعے گرمی سے بچانے کی کوششیں جاری ہیں۔
سرکاری خبر رساں ادارے شِنہوا کے مطابق چونگ چنگ چڑیا گھر میں دیوقامت پانڈا، ہاتھی، دریائی گھوڑے اور دیگر جانوروں کو شدید گرمی سے بچانے کے لیے ٹھنڈے پانی کے تالاب، مصنوعی بارش (مسٹنگ سسٹم)، سایہ دار مقامات اور خصوصی خوراک کا انتظام کیا گیا ہے۔
چڑیا گھر میں موجود دیوقامت پانڈا دن کے گرم اوقات میں پانی کے تالابوں میں وقت گزار رہے ہیں، جبکہ ان کے باڑوں میں مسلسل پانی کی باریک پھوار چلائی جا رہی ہے تاکہ درجہ حرارت کم رکھا جا سکے۔
اسی طرح دریائی گھوڑوں اور ہاتھیوں کو جسمانی درجہ حرارت متوازن رکھنے کے لیے تربوز اور دیگر پانی سے بھرپور پھل کھلائے جا رہے ہیں، جبکہ ان کے لیے نہانے اور پانی میں رہنے کے اضافی انتظامات بھی کیے گئے ہیں۔
ماہرین کے مطابق پانڈا نسبتاً ٹھنڈے موسم کے جانور ہیں اور شدید گرمی ان کی صحت، خوراک اور روزمرہ سرگرمیوں پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔ اسی وجہ سے چین کے مختلف چڑیا گھروں میں موسمِ گرما کے دوران کولنگ سسٹمز، برف کے بلاکس، ایئر کنڈیشنڈ انڈور حصوں اور پانی سے بھرپور غذا کا استعمال معمول کا حصہ بن چکا ہے۔
چونگ چنگ چین کے گرم ترین شہروں میں شمار ہوتا ہے، جہاں موسمِ گرما میں درجہ حرارت اکثر 40 ڈگری سینٹی گریڈ کے قریب یا اس سے بھی زیادہ پہنچ جاتا ہے۔ حالیہ برسوں میں شدید گرمی کی لہروں کے باعث مقامی انتظامیہ نے نہ صرف شہریوں بلکہ جنگلی اور قید جانوروں کے تحفظ کے لیے بھی خصوصی منصوبے نافذ کیے ہیں۔
چڑیا گھر کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ موسمِ گرما کے دوران جانوروں کی صحت کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے اور ضرورت کے مطابق ان کے ماحول، خوراک اور طبی نگہداشت میں تبدیلیاں کی جاتی ہیں تاکہ شدید گرمی کے باوجود انہیں کسی قسم کی تکلیف یا صحت کے خطرات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں