خیبر پختونخوا میں بارش سے متعلقہ حادثات میں جانی و مالی نقصانات کی رپورٹ جاری
اشاعت کی تاریخ: 29th, June 2025 GMT
پی ڈی ایم اے کی جانب سے بارش، سیلاب، فلش فلڈ اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث صوبہ خیبر پختونخوا میں جانی و مالی نقصانات کی رپورٹ جاری کردی گئی۔
رپورٹ کے مطابق صوبہ خیبرپختونخوا میں پچھلے 27 جون اب تک ہونے والی بارشوں، تیز آندھی اور فلش فلڈ اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث حادثات کے نتیجے میں مجموعی طور پر 21 افراد جان بحق جبکہ 10 افراد زخمی ہوئے۔
پی ڈی ایم اے نے رپورٹ میں کہا کہ جاں بحق افراد میں 7 مرد اور 5 خواتین اور 9 بچے جبکہ زخمیوں میں 6 مرد، 3 خواتین اور ایک بچہ شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق بارش کے باعث مجموعی طور پر 57 گھروں کو نقصان پہنچا جس میں 51 کو جزوی اور 6 مکمل طور پر منہدم ہوئے، حادثات صوبہ کے مختلف اضلاع سوات، ایبٹ آباد، چترال لوئر، بونیر، صوابی،کرم چارسدہ، ملاکنڈ، شانگلہ، دیر لوئر اور تورغر میں پیش آئے۔
رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ متاثرہ ضلع سوات رہا جس میں 14 افراد جانبحق اور 6 افراد زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے کی جانب سے متعلقہ ضلعی انتظامیہ کو متاثرہ خاندان کو فوری طور پر امداد اور زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی۔
بارشوں کا سلسلہ یکم جولائی تک جاری رہنے کا امکان ہے.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پی ڈی ایم اے
پڑھیں:
خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
محکمہ موسمیات کے مطابق موسلادھار بارشوں کے باعث اسلام آباد/راولپنڈی، پشاور، نوشہرہ، گجرات، گوجرانوالہ، لاہور، سیالکوٹ، ساہیوال، خانیوال، ملتان اور فیصل آباد میں نشیبی علاقے زیر آب آنے کا خدشہ ہے۔ اسلام ٹائمز۔ آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران موسلادھار بارشوں کے سبب خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، مری، گلیات اور کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ہے۔ محکمہ موسمیات نے اس حوالے سے انتباہ جاری کردیا جس میں کہا ہے کہ آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کشمیر، مری، گلیات، شمال مشرقی پنجاب، اسلام آباد، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، ڈیرہ غازی خان کے پہاڑی ندی نالوں اور شمال مشرقی بلوچستان کے مقامی/ بر ساتی ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق موسلادھار بارشوں کے باعث اسلام آباد/راولپنڈی، پشاور، نوشہرہ، گجرات، گوجرانوالہ، لاہور، سیالکوٹ، ساہیوال، خانیوال، ملتان اور فیصل آباد میں نشیبی علاقے زیر آب آنے کا خدشہ ہے۔ موسلادھار بارش، تیز آندھی اور آسمانی بجلی گرنے کے باعث کمزور تعمیرات (سولر پینلز، بجلی کے کھمبے، بل بورڈز وغیرہ) کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔